ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

بجٹ 2020: جموں و کشمیر کےلئے 30757کروڑ، لداخ کےلئے 5958کروڑ روپے مختص

وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے جموں و کشمیر کی ترقی کے لئے 30،000 کروڑ اور لداخ کے لئے 5 ہزار کروڑ روپئے کے بجٹ مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔

  • Share this:

جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد سے حکومت مرکز کے زیر انتظام دونوں ریاستوں کی ترقی پر خاص زور دے رہی ہے اوربجٹ21-2020میں جموں و کشمیر کےلئے 30757کروڑ اور لداخ کےلئے 5958کروڑ روپے مختص کئےگئےہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے لداخ کے لئے 5958 کروڑ روپئے کے بجٹ کا اعلان کیا ہے۔ اسی کے ساتھ ہی ، 2022 میں ، ہندوستان جی 20 کانفرنس کا انعقاد کرے گا ، اس کے لئے حکومت کی طرف سے 100 کروڑ روپئے دیئے جائیں گے۔


وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے ہفتے کو لوک سبھا میں اگلے سال عام بجٹ پیش کرتے ہوئے یہ اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کےلئے 30757کروڑ روپے اور لداخ کےلئے 5958کروڑ روپے کا التزام کیاجارہا ہے۔اس رقم کو دونوں مرکزکے زیرانتظام ریاستوں کی ترقی پر خرچ کیاجائےگا۔



واضح رہے کہ گزشتہ پانچ اگست کو حکومت جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370ختم کرکے اسے مرکز کے زیر انتظام دو ریاستوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیاتھا۔ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے جموں و کشمیر کی ترقی کے لئے 30،000 کروڑ اور لداخ کے لئے 5 ہزار کروڑ روپئے کے بجٹ مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔
وزیر خزانہ نے بھارتیہ جیون نگم (ایل آئی سی) میں آئی پي او کے ذریعہ حکومت کا کچھ حصہ فروخت کرنے کا اعلان کیا ۔ فی الحال کارپوریشن میں حکومت کی 85. 78 فیصد حصہ داری ہے۔
سیتا رمن نے بجٹ میں گرام پنچایتوں کو بھارت نیٹ سےجوڑنے کے لئے 6000 کروڑ روپے کا انتظام کیا ہے۔ انہوں نے ڈسكام کے لئے روایتی پرانے بجلی میٹر کی بجائے اسمارٹ میٹر لگانے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ انڈین ہیرٹیج اینڈ کنژرویشن انسٹی ٹیوٹ قائم کیاجائے گا۔
انہوں نے ملک میں املاک تعمیر کرنے والوں کا احترام کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سینئر شہریوں اور معذوروں کے لئے 9500 كروڑ روپے مختص کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے درج فہرست قبائل اور پسماندہ طبقات کے لئے 85 ہزار کروڑ روپے اور پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود کے لئے 53700 ہزار کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ پورے ملک میں ڈیٹا سینٹر پارک بنانے کا کام پرائیویٹ سیکٹر کو دینے کے لئے پالیسی بنائی جائے گی۔ انهوں نے کہا کہ بینک میں جمع کے لئے پانچ لاکھ روپے کا انشورنس ہوگا۔ ابھی یہ حد ایک لاکھ روپے ہے۔
انہوں نے کہا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقہ جموں کشمیر کے لئے 30،757 کروڑ روپے اور لداخ کے لئے 5،958 کروڑ روپے مختص کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آثار قدیمہ کی پانچ سائٹس کو فروغ دیا جائے گا اور وہاں میوزیم بھی بنائے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ریزرو بینک کے ڈیبٹ ریسٹرکٹرنگ سے پانچ لاکھ سے زیادہ ایم ایس ایم ای کو فائدہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2022 میں ہندوستان جی-20 کی صدارت کرے گا اور اس کے اجلاس کے انعقاد کے لئے 100 کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمد کنندگان کو اعلی انشورنس فراہم کرنے کے لئے نروk اسکیم شروع کی کی جائے گی۔
First published: Feb 01, 2020 01:24 PM IST