ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

بابری مسجد تنازع میں غیر متعلقہ فریقین مداخلت سے باز رہیں : مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند

بابری مسجد تنازع کو حل کرنے کے سلسلے میں حالیہ کوششوں کے درمیان جمعیت اہل حدیث ہندنے تمام غیر متعلقہ فریقین کو کسی بھی ایسے اقدام سے باز رہنے کا مشورہ دیا ہے جو عوام اور ملک کے لئے مزید الجھن کا سبب بنے۔

  • UNI
  • Last Updated: Mar 11, 2018 08:51 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
بابری مسجد تنازع میں غیر متعلقہ فریقین مداخلت سے باز رہیں : مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند
مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی ۔ فائل فوٹو

نئی دہلی : بابری مسجد تنازع کو حل کرنے کے سلسلے میں حالیہ کوششوں کے درمیان جمعیت اہل حدیث ہندنے تمام غیر متعلقہ فریقین کو کسی بھی ایسے اقدام سے باز رہنے کا مشورہ دیا ہے جو عوام اور ملک کے لئے مزید الجھن کا سبب بنے۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے کل رات یہاں اپنے چونتیسویں کل ہند کانفرنس کے اختتام پرمنظور کردہ قرا رداد میں کہا ہے ’’مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی یہ کانفرنس بابری مسجدقضیہ میں عدالتی فیصلہ کو ایک بہترین و قابل قبول حل مانتی ہے لہٰذا اس سلسلہ میں مسلم پرسنل لاء اور متعلقہ فریقوں کے علاوہ کوئی ایسا اقدام نہ کرے جس سے عوام وملک الجھن میں پڑے۔‘‘

خیال رہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کے رکن مولانا سلمان ندوی کی جانب سے گذشتہ دنوں اس ضمن میں کی جانے والی کوششوں پر زبردست ہنگامہ کھڑا ہوگیا تھا او ربورڈ نے بعد میں مولانا ندوی کی رکنیت منسوخ کرد ی تھی۔ قرارداد میں اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ’’ اختلاف آراء و نظریات کے باوجود باہمی محبت و احترام اسلامی عقیدہ و منہج کا امتیاز ہے ‘‘ مرکزی جمعیت اہل حدیث نے ملی جماعتوں کے سربراہوں اور تنظیموں سے اپیل کی ہے ’’ وہ باہم احترام کو ملحوظ رکھیں، ایک دوسرے کے خلاف غلط بیانی اور طعن و تشنیع سے گریز کریں نیز کوئی ایسا بیان اور تقریر نہ کریں جس سے ملی،ملکی اتحادا ور انسانی مفاد کو زک پہنچتی ہو اور آپس میں نفرت اور آپسی تنازع کو شہ ملتی ہو۔‘‘

ایک دیگر قرار داد میں جمعیت اہل حدیث نے ملک میں بڑھتے ہوئے ہجومی تشدد کے رجحان پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ارباب حل وعقد سے مطالبہ کیا ہے کہ گؤ تحفظ وغیرہ کے نام پر تشدد میں ملوث لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ فرقہ وارانہ فسادات کی روک تھام کے لیے موثر اقدام کئے جائیں اور ان عناصر کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے جو اس طرح کے جرم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ملک کی مختلف عدالتوں سے مسلم نوجوانوں کا باعزت بری ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ان نوجوانوں کا ملک مخالف سرگرمیوں سے کوئی لینادینا نہیں ہے او رمطالبہ کیا گیا ہے کہ جن نوجوانوں کو ملک کی فاضل عدالتوں نے باعزت بری کردیا ہے ان کے نقصان کا معاوضہ دیا جائے ۔

داعش اور اس کی تخریبی کارروائیوں اور سر گرمیوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے ایک قرار داد میں کہا گیا ہے ’’ اسلام اور مسلمانوں کا دہشت گردی اور داعش کی تخریبی کارروائیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ داعش بعض مفاد پرست اور خود غرض طاقتوں کی کاشتہ وپرداختہ ہے۔‘‘ ایک اور قرارداد میں آسام میں شہریت کے معاملہ کو انسانی بنیادوں پر حل کئے جانے کی اپیل کرتے ہوئے سیاسی پارٹیوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس معاملہ کو مذہبی رنگ نہ دیا جائے۔’’ جمعیت اہل حدیث کا ماننا ہے کہ جو لوگ کئی دہائیوں سے وہاں رہ رہے ہیں ان کے بارے میں اس طرح کے فیصلے محض اس لیے لیے جارہے ہیں تاکہ مخصوص کمیونٹی کوسماجی وسیاسی طور پر بے اثر کردیاجائے۔ اس طرح کے فیصلے کسی بھی طرح ملک و ملت کے مفاد میں نہیں ہیں۔‘‘

مرکزی جمعیت اہل حدیث نے اپنے قرارداد میں سماج میں پائی جانے والی برائیوں مثلاً خواتین کے استحصال کی مختلف صورتوں خصوصاً جہیز،وراثت سے محرومی ،قتل جنین وغیرہ نیز ام الخبائث شراب نوشی،ودیگر منشیات کے استعمال کی وجہ سے خاندان وسماج میں رونما ہونے والی نوع بنوع مشکلات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ ایسے ناسورسے اپنے معاشرے کو بچائیں اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس پر پابندی لگائے۔

بین الاقوامی امور پر جمعیت اہل حدیث نے اپنے قرارداد میں شام میں فضائیہ کی اندھا دھند بمباری‘ میانمار میں انسانی حقوق کی پامالی اور وہاں کی فوج کی طرف سے ہونے والی غیر انسانی ظالمانہ کارروائیوں ‘ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی جارحانہ کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے ان مسائل پر فوری توجہ دینے اور انہیں حل کرانے کی اپیل کی ہے۔ خیال رہے کہ ’’امن عالم و تحفظ انسانیت ‘‘کے موضوع پر منعقدہ اس کانفرنس میں ملک اور بیرو ن ملک سے نمائندوں نے شرکت کی۔ کانفرنس میں شریک مدینہ منورہ کے مفتی شیخ ابراہیم بن ابراہیم الترکی نے نماز جمعہ کی امامت کی تھی ۔
First published: Mar 11, 2018 08:51 PM IST