உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    گجرات میں درگاہوں سمیت 35 غیر قانونی تعمیرات کو کیا گیا مسمار، کیا ہے اصل معاملہ؟

    بیت دوارکا کی آبادی تقریباً 15,000 ہے اور ان میں سے اکثریت (تقریباً 80 فیصد) مسلم کمیونٹی سے ہے۔

    بیت دوارکا کی آبادی تقریباً 15,000 ہے اور ان میں سے اکثریت (تقریباً 80 فیصد) مسلم کمیونٹی سے ہے۔

    بیت دوارکا کی آبادی تقریباً 15,000 ہے اور ان میں سے اکثریت (تقریباً 80 فیصد) مسلم کمیونٹی سے ہے۔ پولیس نے بتایا کہ مہم کے دوران مسمار ہونے والی 10 عمارتیں درگاہیں اور مزاریں تھیں۔ ایک افسر نے کہا کہ شروع میں کچھ مخالفت ہوئی تھی لیکن حکومت نے اسے پرامن طریقے سے سنبھالا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Gujarat | Mumbai | Jammalamadugu | Hyderabad | Karnataka
    • Share this:
      ایک ضلعی اہلکار نے پیر کو بتایا کہ گجرات کے ضلع دیو بھومی دوارکا میں بیت دوارکا نامی جزیرے میں تقریباً 35 غیر قانونی ڈھانچے کو گزشتہ تین دنوں میں منہدم کر دیا گیا ہے۔ جن ڈھانچے کو منہدم کیا گیا ہے، ان میں کئی ایک عمارتوں کو رمضان گنی پلانی نے تعمیر کیا تھا، جو 21 تا 22 مئی 2019 کو جاکھاؤ پورٹ کے قریب ایک کشتی سے 230 کلو گرام سے زیادہ ہیروئن برآمد کرنے کا ایک اہم ملزم ہے۔

      ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ رہائشی یونٹوں، دکانوں اور گوداموں کے علاوہ حکام نے اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے مذہبی مقامات کو گرا دیا ہے کیونکہ اسے غیر قانونی بتایاگیا ہے۔ یہ مشترکہ آپریشن ڈسٹرکٹ ریونیو اتھارٹی، اسٹیٹ ریزرو پولیس (ایس آر پی)، اسٹیٹ میری ٹائم بورڈ، راجکوٹ پولیس اور دیو بھومی دوارکا پولیس کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔ ایس آر پی جوانوں اور پولیس اہلکاروں سمیت تقریباً 1,000 اہلکار اس آپریشن میں شامل ہوئے۔

      دیو بھومی دوارکا کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نتیش پانڈے نے کہا کہ ضلع انتظامیہ نے اپنے سروے میں بیت دوارکا میں غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی کی ہے۔ چونکہ یہ ایک جزیرہ ہے اور ہمیں یہاں تک پہنچنے کے لیے (اوکھا سے) کشتیوں کو لے کر جانا پڑتا ہے، اس لیے مشینری اور دیگر سامان لانے کے لیے مناسب منصوبہ بندی کی ضرورت تھی۔ اس کے علاوہ جزیرہ ساحلی سیکورٹی کے نقطہ نظر سے اہم ہے، یہ بین الاقوامی سمندری حدود کے قریب ہے۔

      بیت دوارکا کی آبادی تقریباً 15,000 ہے اور ان میں سے اکثریت (تقریباً 80 فیصد) مسلم کمیونٹی سے ہے۔ پولیس نے بتایا کہ مہم کے دوران مسمار ہونے والی 10 عمارتیں درگاہیں اور مزاریں تھیں۔ ایک افسر نے کہا کہ شروع میں کچھ مخالفت ہوئی تھی لیکن حکومت نے اسے پرامن طریقے سے سنبھالا۔

      یہ بھی پڑھیں: 


      انہدام کے دوران اوکھا سے بیت دوارکا تک کشتی خدمات کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا تھا۔ پانڈے نے کہا کہ کچھ کا تعلق رمضان پلانی اور اس کے خاندان سے تھا۔ پلانی جھکھاؤ کے قریب 2019 کے منشیات کی سمگلنگ کیس میں ملزم ہے۔ اوکھمنڈل کے علاقے میں اسمگلنگ کی سرگرمیوں کی ایک تاریخ ہے اس لیے آپریشن کو حساس طریقے سے سنبھالنے کوشش کی گئی۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: