ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

عراق میں 39 ہندوستانیوں کی موت پر کانگریس نے گھٹیاسیاست کی سبھی حدیں پار کر دیں: سشما سوراج

وزیر خارجہ سشما سوراج نے عراق میں داعش کے دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاک کئے گئے 39 ہندوستانی شہریوں کے بارے لوک سبھا میں آج ان کو نہ بولنے دینے کے لئے کانگریس کو ذمہ دار ٹھہرایا

  • UNI
  • Last Updated: Mar 20, 2018 07:02 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
عراق میں 39 ہندوستانیوں کی موت پر کانگریس نے گھٹیاسیاست کی سبھی حدیں پار کر دیں: سشما سوراج
وزیر خارجہ سشما سوراج ۔ فوٹو اے این آئی

نئی دہلی : وزیر خارجہ سشما سوراج نے عراق میں داعش کے دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاک کئے گئے 39 ہندوستانی شہریوں کے بارے لوک سبھا میں آج ان کو نہ بولنے دینے کے لئے کانگریس کو ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ اس نےگھٹیا سیاست کی تمام حدیں پار کر دیں۔ سشما سوراج نے یہاں وزارت خارجہ میں اس بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کرنے کے لئے بلائے گئے پریس کانفرنس میں کہا کہ راجیہ سبھا میں جب تمام جماعتوں کے رہنماؤوں نے بہت شائستگی سےان کی بات سنی تو ان کو محسوس ہوا کہ لوک سبھا میں بھی ایسا ہوگا۔لوک سبھا میں دیگر جماعتوں کے رہنماؤں نے ان کے بیان کے دوران پرسکون رہنے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن آج کانگریس نے بغیر کسی وجہ کے ہنگامہ کیا اور انسانیت سے متعلق ایک معاملہ جب پیش ہونے والا تھا تو اس نےگھٹیا سیاست کی تمام حدیں پار کر دیں۔

انہوں نے کہا کہ راجیہ سبھا میں ان کے بیان کو پرامن طریقہ سے سننے کی وجہ سے شاید لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر بوکھلا گئے تھے اور انہوں نے طے کر لیا تھا کہ وہ انہیں بولنے نہیں دیں گے۔ اس کی ذمہ داری مسٹر جیوتی رادتیہ سندھیا کو دی گئی تھی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ بار بار کہہ رہی تھیں کہ وہ ایک منحوس خبردینا چاہتیں ہیں اور اس بارے میں ایوان میں کانگریس ہی تفصیلی بحث کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا کانگریس موت پر بھی سیاست کرے گی۔ آخر کون سی وجہ تھی جس کی وجہ سے ایوان کو یہ خبر سننے سے روکا گیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ دراصل کل شام کو 38 ہندوستانیوں کے ڈی این اے کے ذریعہ ان کی موت کی تصدیق اور اس بارے میں عراق کے مارٹيرس فاؤنڈیشن کی آج شام ڈھائی بجے پریس کانفرنس کے انعقاد کی اطلاع ملی تو انہوں نے اس سے پہلے خود ہی پارلیمنٹ اور ملک کو اطلاع دینے کا فیصلہ کیا تھا لیکن کانگریس نے اتنے بڑے واقعہ پر ایسا غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنایا۔ خود لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن نے بھی کانگریس کے ارکان کے رویہ پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے ان سے کہا تھا کہ کیا ان کا احساس ختم ہو گیا ہے۔

یہ پوچھے جانے پر کہ اہم اپوزیشن پارٹی اس سے پہلے دہائیوں تک حکومت میں رہی ہے، کیا کانگریس کے لیڈروں نے اس مسئلہ پر کبھی حکومت کو مدد کی پیشکش نہیں کی، وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کا ایسا رخ کبھی نہیں رہا، وہ تو حکومت پر سچ چھپانے کا الزام عائد کرتے رہے جبکہ انہوں نے ہر بار صاف صاف کہا کہ ذمہ دار حکومت ہونے کی وجہ سے جب تک موصل میں اغوا شدہ ہندوستانیوں کی موت کے واضح ثبوت نہیں ملتے، وہ ان کو مردہ قرار نہیں دے گی۔

وزیر خارجہ نے اہل خانہ کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس معاملہ میں کبھی بھی اپنے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور نہ ہی کسی کو اندھیرے میں رکھا۔ انہوں نے نومبر 2014 اور جولائی 2017 میں پارلیمنٹ میں دئے گئے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ بغیر ٹھوس ثبوت کے کسی کو مردہ قرار دے کر اس کی فائل کو بند کر دینا گناہ ہے اور وہ یہ گناہ ہرگز نہیں کریں گی۔ایک سوال کے جواب میں محترمہ سوراج نے کہا کہ 39 ہندوستانیوں کی موت کی تصدیق ہونے پر انہوں نے مرنے والوں کےکنبہ سے پہلے پارلیمنٹ کو اطلاع دی۔

First published: Mar 20, 2018 07:02 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading