ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہلی آتشزدگی: 43 لوگوں کی موت کے بعد فرارفیکٹری مالک گرفتار، عمارت کونہیں ملی تھی فائرکلیئرنس

اناج منڈی واقع فیکٹری میں لگی آگ میں مرنےوالوں کی تعداد 43 ہوگئی ہے۔ اتوارکی صبح آگ کے بعد اس حادثے میں جان گنوانے والوں میں 29 لاشوں کی پہچان ہوگئی ہے۔ شام کوفیکٹری مالک محمدریحان کوپولیس نے حراست میں لے لیا۔

  • Share this:
دہلی آتشزدگی: 43 لوگوں کی موت کے بعد فرارفیکٹری مالک گرفتار، عمارت کونہیں ملی تھی فائرکلیئرنس
فیکٹری میں لگی اس آگ میں 43 لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔ تصویر: اے پی

نئی دہلی: دہلی کی اناج منڈی واقع فیکٹری میں ہوئی آتشزدگی میں مرنے والوں کی تعداد 43 ہوگئی ہے۔ اتوارکی صبح آگ کے بعد اس حادثے میں جان گنوانے والوں میں 29 لاشوں کی پہچان ہوگئی ہے۔ شام کوفیکٹری مالک محمدریحان کوپولیس نے حراست میں لے لیا۔ حادثہ کے بعد سے ہی وہ فرارتھا۔ فیکٹری مالک ریحان پرپولیس نےغیرارادتاً قتل کا معاملہ درج کیا تھا۔ محمد ریحان کے بھائی اورفیکٹری مینیجراورمحمد فرقان کو بھی پولیس حراست میں لئے جانےکی خبرہے۔ این  ڈی آرایف کی ٹیم نےکہا کہ عمارت میں زہریلی کاربن مونوآکسائڈ گیس بھری ہوئی تھی۔ شمالی دہلی کی اناج منڈی علاقے میں چارمنزلہ عمارت میں چلنے والی غیر قانونی تعمیرکے بیشترکارکنان کی دم گھٹنے سے موت ہوگئی۔


این ڈی آرایف کےڈپٹی کمانڈرآدتیہ پرتاپ سنگھ نےکہا 'ہمیں بڑی مقدارمیں کاربن مونوآکسائڈ (سی او) گیس ملی۔ اس کے بعد ہم نےعمارت کی جانچ کی۔ عمارت کی تیسری اورچوتھی منزل پرپوری طرح سے دھواں بھرا ہوا تھا، جس میں کاربن مونوآکسائڈ کی مقدارزیادہ تھی'۔ این ڈی آرایف کے ڈپٹی کمانڈرنےکہا کہ ٹیم کوعمارت کی کچھ کھڑکیاں سیل ملیں۔ انہوں نے کہا 'وہاں ایک ہی کمرہ تھا، جس میں بیشترمزدورسورہےتھےاوروہاں ہوا کےآنے جانے کے لئے صرف ایک جگہ تھی۔ بیشترمزدوروں کوتیسری منزل سےلایا گیا تھا۔ عمارت میں رکھے سامان کے جلنے کی وجہ سے زیادہ مقدارمیں کاربن مونوآکسائیڈ گیس بن گئی'۔ شہرمیں 1997 میں ہوئےاوپہارسنیما حادثےکے بعد یہ اب تک کا سب سے بڑا آتشزدگی کا حادثہ ہے۔




مہلوکین کےاہل خانہ کو 10-10 لاکھ کا معاوضہ

پولیس نے بتایا کہ فیکٹری مالک کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 304 (غیرارادتاً قتل) کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔ دہلی حکومت نے آگ لگنے کے حادثہ میں مارے گئے لوگوں کو 10-10 لاکھ روپئے اورجھلسے لوگوں کوایک ایک لاکھ روپئے معاوضہ دینے کا اعلان کیا۔ فائربریگیڈ افسران نے بتایا کہ علاقے کے سنکرا ہونے کے سبب بچاؤ کام کوانجام دینے میں پریشانی آرہی ہے۔ جب آتشزدگی ہوئی توکئی مزدورگہری نیند میں تھے۔ عمارت میں ہوا آنے جانے کا مناسب انتظام نہیں تھا، اس لئے کئی لوگوں کی جان دم گھٹنے سے چلی گئی۔ سبھی سلجھےہوئے لوگوں اورمہلوکین کوآرایم ایل اسپتال، ایل این جے پی اورہندوراؤاسپتال لے جایا گیا ہے، بہارکےبیگوسرائےکے رہنے والے23 سالہ منوج نے بتایا کہ ان کا 18 سال کا بھائی اس ہینڈ بیگ بنانے والی اکائی میں کام کرتا ہے
First published: Dec 08, 2019 06:55 PM IST