ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اقلیتی کردار کے معاملہ پر وزیر اعظم سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پانچ رکنی وفد کی ملاقات، لڑائی میں ساتھ دینے کی اپیل

نئی دہلی : علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ایک پانچ رکنی وفد نے آج وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کرکے انہیں ایک عرضداشت پیش کی۔ چالیس منٹ کی بات چیت میں وزیر اعظم نے یونیورسٹی کے وفد کو مثبت غورو خوض کی یقین دہانی کرائی۔وفد کی قیادت یونیورسٹی کے وائس چانسلر ریٹائرلیفٹننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ کر رہے تھے۔

  • UNI
  • Last Updated: Mar 05, 2016 10:52 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
اقلیتی کردار کے معاملہ پر وزیر اعظم سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پانچ رکنی وفد کی ملاقات، لڑائی میں ساتھ دینے کی اپیل
نئی دہلی : علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ایک پانچ رکنی وفد نے آج وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کرکے انہیں ایک عرضداشت پیش کی۔ چالیس منٹ کی بات چیت میں وزیر اعظم نے یونیورسٹی کے وفد کو مثبت غورو خوض کی یقین دہانی کرائی۔وفد کی قیادت یونیورسٹی کے وائس چانسلر ریٹائرلیفٹننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ کر رہے تھے۔

نئی دہلی : علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ایک پانچ رکنی وفد نے آج وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کرکے انہیں ایک عرضداشت پیش کی۔ چالیس منٹ کی بات چیت میں وزیر اعظم نے یونیورسٹی کے وفد کو مثبت غورو خوض کی یقین دہانی کرائی۔وفد کی قیادت یونیورسٹی کے وائس چانسلر ریٹائرلیفٹننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ کر رہے تھے۔


وفد نے وزیراعظم پر زور دیا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کو بچانے کی قانونی جدوجہد میں وہ یونیورسٹی کی حمایت کریں۔ وفد نے کیرالہ ، مغربی بنگال اور بہار میں اے ایم یو کے مراکز سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔


وائس چانسلر نے اے ایم یو سنٹرلوں کے قانونی ہونے کی وضاحت کی اور انہیں بتایا کہ ان مراکز کو اعلیٰ پالیسی ساز اداروں کی منظور حاصل ہے جن میں یونیورسٹی کی ایکزیکٹیو کونسل ، یونیورسٹی کوڈ ، حکومت ہنداور صدر جمہوریہ بحیثیت یونیورسٹی وزٹر شامل ہیں۔


عرضداشت میں بتایا گیا ہے کہ مرکزی حکومت نے ان مراکز کے لئے 447 کروڑ روپے کی منظور ی دی تھی جن میں سے صرف 130 کروڑ روپے ہی دیئے گئے ہیں ۔ وائس چانسلر نے یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کا معاملہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ 1977 کے لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی نے یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کی تائید کی تھی اس وقت بی جے پی نے جنتا پارٹی کے انتخابی منشور پر الیکشن میں حصہ لیاتھا ۔


انہوں نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ این ڈی اے حکومت نے اس معاملے پر حال ہی میں اپنا موقف بدل دیا ہے ۔ اٹارنی جنرل مکل رہتگی نے اسی سال گیارہ جنوری کو سپریم کورٹ میں یہ کہہ دیا کہ سابقہ حکومت کا موقف غلط تھا۔ وفد نے وزیر اعظم پر زور دیا کہ حکومت اپنے سابقہ موقف پر لوٹیں اور اے ایم یو کی اقلیتی کردار کی تائید کرے۔ اس کا اقلیتوں پر انتہائی اچھا اثر پڑے گا۔ عرضداشت نے وزیر اعظم کے اس قول پر یقین کا اظہار کیاگیا کہ سب کا ساتھ سب کا وکاس۔

First published: Mar 05, 2016 10:52 PM IST