உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Illegal structures: دہلی میں پانچ سال میں 57,000 غیر قانونی ڈھانچوں کی نشاندہی، 26,000 ڈھانچےمنہدم

    جب کہ 2018 میں سب سے زیادہ 6,192 ڈھانچوں کی مسماری کی گئی ہے

    جب کہ 2018 میں سب سے زیادہ 6,192 ڈھانچوں کی مسماری کی گئی ہے

    کورونا وبا کے سال 2020 اور 2021 میں کل 7,432 مقامات کی مسماری دیکھی گئی۔ متعدد سیاسی اور سماجی کارکنوں نے کورونا وبا کے دوران مسمار کرنے کی مہم کو روکنے پر زور دیا تھا کیونکہ اس نے مشکل وقت میں لوگوں کے لئے مزید مسائل پیدا کیے تھے۔

    • Share this:
      نیوز 18 ڈاٹ کام کے مطابق غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات ہمیشہ سے دہلی کو پریشان کرتی رہی ہیں، جو اکثر سیاسی مسئلہ بن جاتا ہے۔ جہاں حکمراں عام آدمی پارٹی (Aam Aadmi Party) کچی آبادیوں کے لیے مفت پانی اور بجلی سمیت متعدد اسکیموں کو یقینی بناتی ہے، وہیں دوسری طرف دہلی میونسپل کارپوریشن (MCD) باقاعدگی سے غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کر رہی ہے۔

      اس طرح کی صو رت حال اس سال اپریل میں بڑھ گئے جب بی جے پی (BJP) کے زیرقیادت ایم سی ڈی نے ہنومان جینتی (Hanuman Jayanti) کے جلوس پر تشدد کے بعد جہانگیر پوری میں کئی مقامات کو منہدم کردیا۔ منگل پوری، نجف گڑھ، شاہین باغ، نیو فرینڈز کالونی اور تغلق آباد سمیت کئی دیگر علاقوں میں انہدامی مہم جاری رہی۔

      جب کہ ایم سی ڈی نے دعویٰ کیا کہ اس مہم کا تشدد سے کوئی لینا دینا نہیں تھا اور یہ ایک باقاعدہ مشق تھی۔ عام آدمی پارٹی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہر غیر منصوبہ بند ڈھانچے کو منہدم کردیا گیا تو دہلی کا بیشتر حصہ ختم ہوجائے گا۔

      2017 سے جولائی 2022 تک غیر قانونی تعمیرات:

      لوک سبھا کے حالیہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ایجنسیوں نے 2017 سے جولائی 2022 تک دہلی میں 57,014 غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی کی ہے۔ ان ایجنسیوں میں ایم سی ڈی، نئی دہلی میونسپل کونسل اور دہلی ماسٹر پلان کے لیے خصوصی ٹاسک فورس شامل ہیں۔ اسی دوران 26,124 غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کیا گیا۔ سال 2019 میں تجاوزات کی سب سے زیادہ تعداد (13,420) کی نشاندہی کی گئی، جب کہ 2018 میں سب سے زیادہ مسماری (6,192) ہوئی۔

      کورونا وبا کے سال 2020 اور 2021 میں کل 7,432 مقامات کی مسماری دیکھی گئی۔ متعدد سیاسی اور سماجی کارکنوں نے کورونا وبا کے دوران مسمار کرنے کی مہم کو روکنے پر زور دیا تھا کیونکہ اس نے مشکل وقت میں لوگوں کے لئے مزید مسائل پیدا کیے تھے۔

      یہ بھی پڑھیں:

      MP News: ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کے بیچ فیڈریشن بناکر مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے : پنڈت راج ناتھ شرما

      لوک سبھا کے اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ دسمبر 2017 سے جولائی 2022 کے درمیان ایجنسیوں نے قواعد کی خلاف ورزی پر 7,123 تجارتی یونٹس کو سیل کیا۔ شاہدرہ ساؤتھ (1,332) اور قرول باغ (1,092) میں سب سے زیادہ سیلنگ دیکھی گئی۔ تاہم اسی عرصے میں 2,619 کمرشل یونٹس کو بھی ڈی سیل کیا گیا۔

      LPG Cylinder:مہنگے ہوئے بڑے سلینڈر تو چھوٹے سلینڈروں کے بڑھی فروخت،آگرہ میں فروخت 30 فیصد تک بڑھی

      دہلی جیسے غیر منصوبہ بند شہر کے لیے غیر قانونی ڈھانچے ترقی میں رکاوٹ ڈالتے ہیں، لوگوں کو تکلیف دیتے ہیں اور شہر کے وسائل پر مزید دباؤ ڈالتے ہیں۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ لاکھوں لوگ غربت کے مارے حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ تو ہم کہاں توازن قائم کرتے ہیں؟
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: