உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    75فیصد ریزرویشن کا معاملہ: ہریانہ حکومت کی Supreme Court میں جیت، رد ہوا ہائی کورٹ کا روک لگانے کا حکم

    Haryana Jobs Reservation:  ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر کی حکومت نے ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف اس ماہ سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے پرائیویٹ سیکٹر کی نوکریوں میں مقامی امیدواروں کے ریزرویشن پر روک لگا دی تھی۔

    Haryana Jobs Reservation: ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر کی حکومت نے ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف اس ماہ سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے پرائیویٹ سیکٹر کی نوکریوں میں مقامی امیدواروں کے ریزرویشن پر روک لگا دی تھی۔

    Haryana Jobs Reservation: ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر کی حکومت نے ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف اس ماہ سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے پرائیویٹ سیکٹر کی نوکریوں میں مقامی امیدواروں کے ریزرویشن پر روک لگا دی تھی۔

    • Share this:
      نئی دہلی: پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کی طرف سے ہریانہ اسٹیٹ لوکل کینڈیڈیٹس ایمپلائمنٹ ایکٹ 2020' پر روک  کے  عبوری حکم کو  سپریم کورٹ نے رد کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ نے اپنے حکم امتناعی کی کوئی وجہ نہیں بتائی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے ہائی کورٹ سے اس معاملے پر چار ہفتوں کے اندر حتمی فیصلہ کرنے کی درخواست کی ہے۔ جسٹس ایل ناگیشور راؤ اور پی ایس نرسمہا کی بنچ نے ہریانہ حکومت کو حکم دیا کہ وہ آجروں کے خلاف کوئی بھی سخت  کارروائی نہ کرنے کے احکام دئے ہیں۔

      ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر کی حکومت نے ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف اس ماہ سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے پرائیویٹ سیکٹر کی نوکریوں میں مقامی امیدواروں کے ریزرویشن پر روک لگا دی تھی۔ ہائی کورٹ نے اسے غیر مستحکم اور قدرتی انصاف کے خلاف قرار دیا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ انہیں اس دلیل میں کوئی فائدہ نظر نہیں آیا کہ یہ قانون درست ہے، جو ہریانہ کے بے روزگاروں کے مفاد میں ہونا چاہئے۔

      اس کے ساتھ ہی ریاست نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ہائی کورٹ نے 90 سیکنڈ تک سننے کے بعد ہی اپنا فیصلہ جاری کردیا۔ ساتھ ہی ریاستی حکومت نے یہ بھی کہا تھا کہ ان کے وکیل کی بات تک نہیں سنی گئی۔

      کیا ہے معاملہ
      ہریانہ اسٹیٹ لوکل کینڈیڈیٹس ایمپلائمنٹ ایکٹ، 2020 ریاست کے ملازمت کے خواہشمندوں کو نجی شعبے کی ملازمتوں میں 75 فیصد ریزرویشن دیتا ہے۔ یہ قانون 15 جنوری سے نافذ ہو گیا ہے۔ یہ حکم ان ملازمتوں پر لاگو ہوتا ہے جو زیادہ سے زیادہ مجموعی ماہانہ تنخواہ یا 30,000 روپے اجرت ادا کرتی ہیں۔ 3 فروری کو ہائی کورٹ نے فرید آباد کی مختلف صنعتی انجمنوں اور گڑگاؤں سمیت ریاست کے دیگر اداروں کی طرف سے دائر درخواستوں پر ہریانہ حکومت کے قانون پر عبوری روک لگا دی تھی۔



      یہ قانون ہریانہ میں واقع پرائیویٹ سیکٹر کی کمپنیوں، سوسائٹیوں، ٹرسٹوں، پارٹنرشپ لمیٹڈ کمپنیوں، پارٹنرشپ فرموں، 10 سے زیادہ افراد کو ماہانہ تنخواہ / یومیہ اجرت پر ملازمت کرنے والے دفاتر، مینوفیکچرنگ سیکٹر وغیرہ پر لاگو ہوتا ہے۔ مارچ 2021 میں، ہریانہ کے گورنر بنڈارو دتاتریہ نے ہریانہ اسٹیٹ لوکل کینڈیڈیٹس ایمپلائمنٹ ایکٹ، 2020 کو منظوری دی۔

      (بھاشا ان پٹ کے ساتھ)
      Published by:Sana Naeem
      First published: