ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں میں ایک نابینا لڑکی نے قائم  کی شاندار مثال، بینائی سےمحروم ہونے کے باوجود باروہیں کے امتحان میں 83فیصد نمبرات کئے حاصل

پارتھی کا مزید کہنا تھا کہ ان کی کامیابی نے یہ ظاہر کردیا ہے کہ جسمانی طور پرکمزور یا معذور بچے بھی تمام تر مشکلات کے باوجود آگے بڑھنا جانتے ہیں۔ تاہم حکومت کو چاہیے کہ وہ جسمانی طور پر معذور بچوں کی مدد کے لئے آگے آئیں ۔ اور سرکاری ملازمت میں ان کے ریزرویشن کے علاوہ ان کی فلاح و بہبود کے لئے کسی ٹھوس منصوبے کو سامنے لائیں ۔

  • Share this:
جموں میں ایک نابینا لڑکی نے قائم  کی شاندار مثال، بینائی سےمحروم ہونے کے باوجود باروہیں کے امتحان میں 83فیصد نمبرات کئے حاصل
پارتھی کا مزید کہنا تھا کہ ان کی کامیابی نے یہ ظاہر کردیا ہے کہ جسمانی طور پرکمزور یا معذور بچے بھی تمام تر مشکلات کے باوجود آگے بڑھنا جانتے ہیں۔ تاہم حکومت کو چاہیے کہ وہ جسمانی طور پر معذور بچوں کی مدد کے لئے آگے آئیں ۔ اور سرکاری ملازمت میں ان کے ریزرویشن کے علاوہ ان کی فلاح و بہبود کے لئے کسی ٹھوس منصوبے کو سامنے لائیں ۔

جموں کے جگتی ٹاؤن شپ میں رہنے والی 18 سالہ پارتھی دھر نے بینائی سے محروم ہونے کے باوجود بھی بارoویں کے امتحان میں 83 فیصد نمبرات حاصل کرکے نہ صرف شاندار کامیابی حاصل کی ہے بلکہ اپنی کامیابی سے پارتھی دھر نے یہ ثابت کردیا ہے کہ لگن اور محنت سے سب کچھ ممکن ہے۔ بچپن سے بینائی سے محروم پارتھی دھر کا تعلق ایک غریب گھرانے سے ہے۔ پارتھی کے والد پرائیویٹ نوکری کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کو زیادہ وقت نہیں دے پاتے۔ یہاں پارتھی کی والدہ چندرا دھر کی ہمت اور حوصلے کو داد دینی پڑے گی جس نے غریبی اور دوسری مشکلات کے باوجود پارتھی کی تعلیم و تربیت کے لئے اپنا سب کچھ داؤ پر لگادیا۔


پارتھی کا ایک اور بھائی آکاش دھر بھی بینائی سے محروم ہے لیکن اس کے باوجود بھی آکاش نے گریجویشن مکمل کی۔ پارتھی کی والدہ چندرہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی بیٹی کو نابینا افراد کے لئے مختص اسکول میں داخل کرنے کے بجائے ایک نارمل اسکول میں اُس کا داخلہ کرادیا اور بعد میں خود پارتھی کی تعلیم کے لئے کچھ آلات کا انتظام کر کے اُس کی پڑھائی ممکن بنادی۔ ایک جانب جہاں پارتھی اور آکاش نے بینائی سے محروم ہونے کے باوجود بھی اپنے آپ کو علم کے نور سے منور کیا۔ وہیں یہاں ان کی والدہ چندرا دھر کی ہمت اور حوصلے کو داد دینی پڑے گی جس نے غربت کے باوجود دو نابینا بچوں کو علم کی روشنی سے منور کرکے ممتا کی ایک شاندار مثال پیش کی۔


ایک جانب جہاں پارتھی کی اس عظیم کامیابی سے اُس کے گھر میں خوشی کا ماحول ہے، وہیں لوگوں کی ایک بڑی تعداد بھی پارتھی کے گھر پہنچ کر اُس کی ہمت اور حوصلے کو سلام پیش کر رہی ہے۔ پارتھی کا کہنا ہے کہ اب وہ سول سروسز کے لئے تیاری کرنے کا من بنارہی ہے۔ پارتھی کا مزید کہنا تھا کہ ان کی کامیابی نے یہ ظاہر کردیا ہے کہ جسمانی طور پرکمزور یا معذور بچے بھی تمام تر مشکلات کے باوجود آگے بڑھنا جانتے ہیں۔

تاہم حکومت کو چاہیے کہ وہ جسمانی طور پر معذور بچوں کی مدد کے لئے آگے آئیں ۔ اور سرکاری ملازمت میں ان کے ریزرویشن کے علاوہ ان کی فلاح و بہبود کے لئے کسی ٹھوس منصوبے کو سامنے لائیں ۔
First published: Jul 01, 2020 06:48 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading