உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سیاسی و سماجی حاشیے پر نیم جاں اقلیت ، حکمراں قوم نہ صرف محکوم ہوگئی بلکہ اس کی حالت دلتوں بھی ہوئی بدتر

    سیاسی و سماجی حاشیے پر نیم جاں اقلیت ، حکمراں قوم نہ صرف محکوم ہوگئی بلکہ اس کی حالت دلتوں بھی ہوئی بدتر

    اہم سوال یہ ہے کہ کیا صرف میٹنگوں اور جلسوں کے انعقاد اور تقریروں سے دبی کچلی پسماندہ ملت کے مسائل حل ہو پائیں گے؟

    • Share this:
    لکھنئو : اتر پردیش کے مسلمانوں کی سیاسی اور سماجی صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے لکھنو کے خرم نگر واقع رحمان ٹاور میں  طویل عرصے کے بعد ایک بار پھر سیاسی اور سماجی سطح پر کام کرنے والے لوگوں نے مسلمانوں کی مجموعی صورت حال کا جائزہ لیا ۔ معروف سیاسی رہنما اور سابق ممبر آف پارلیمنٹ محمد ادیب کی صدارت میں ہوئے اجلاس میں سابق سینئر آئی ای ایس انیس انصاری اور پروفیسر شکیل قدوائی سمیت اہم لوگوں نے اظہار خیال کیا ۔ یہ ایک اہم پہلو ہے کہ  جب جب الیکشن کی آہٹیں اور دستکیں سنائی دیتی ہیں کچھ لیڈر اور کارکنان فعال و متحرک بھی ہوجاتے ہیں اور انہیں ملت مسلمہ کی تباہی اور بربادی اور ان پر ہو رہی ظلم و زیادتی کا غم بھی ستانے لگتا ہے ۔

    یہ میٹنگ بھی بنام مسلم بہبود محمد ادیب کے استقبال و احترام میں ان کی لکھنئو آمد پرمنعقد کی گئی تھی ، لیکن یہ پہلو بھی اہم ہے کہ جس انداز سے مقررین نے مسلمانوں کے حال و مستقبل کے حوالے سے گفتگو کی اس سے یہ واضح ہوگیا کہ اگر اب بھی لوگ بیدار نہ ہوئے تو صرف تشخص پر ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کے مذہبی وجود پر ہی سوالیہ نشان لگ جائے گا۔

    سابق سینئر آئی ای ایس انیس انصاری کہتے ہیں کہ جو لوگ جس محاذ پر بھی کام کر رہے ہیں ان کی اہمیت اور خدمات کو نظر انداز کیے بغیر اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ ملک کے موجودہ نظام میں بغیر سیاسی استحکام حاصل کئے کسی بھی مسئلے کا حل ممکن نہیں ہے اور اس کے لئے ذاتی مفادات پر مبنی  نظریات کو چھوڑ کر مشترکہ شعوری کوششیں لازمی ہیں صرف ہائی ٹی کے ساتھ میٹنگوں کے انعقاد اور تقریری سلسلوں سے یہ مسائل حل ہونے والے نہیں بلکہ میدان عمل میں اتر کر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔

    سابق ممبر آف پارلیمنٹ ( راجیہ سبھا ) محمد ادیب کہتے ہیں کہ آزادی کے بعد سے اب تک تمام سیاسی جماعتوں نے مسلمانوں کا استحصال کیا گیا ۔ صورت حال یہ ہے کہ حکمراں قوم نہ صرف محکوم ہوگئی بلکہ اس کی حالت دلتوں اور دیگر پسماندہ لوگوں سے بھی بد تر ہوگئی ۔ ذمہ دار کوئی اور نہیں بلکہ خود مسلمان ہیں ، جنہوں نے اپنی قیادت پر یقین نہ کرتے ہوئے اپنا سیاسی مستقبل دوسروں کے ہاتھوں میں سونپ دیا ۔ یہاں یہ مسئلہ بھی اہم ہے کہ سیاست سے مذہب تک سبھی رہنماؤں نے دبے کچلے غریب مسلمانوں کو دھوکا دیا ۔ ملت کا ووٹ تو حاصل کیا ، لیکن اس کی قیمت ذاتی طور پر وصول کی گئی ۔ مسلمانوں کو ان کے ہی سیاسی اور مذہبی رہنماؤں نے ٹھگا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب سیاسی قیادت کے ساتھ ساتھ مذہبی قیادت بھی لا اعتبار ہوچکی ہے  اور وقار کھو چکی ہے۔ سنجیدہ تجزیہ کیجئے تو واضح ہوجائے گا کہ فی الوقت ایک مذہبی رہنما بھی ایسا نہیں جس کی قیادت  لوگ مجموعی طور پر تسلیم کرنے کو تیار ہوں اور یہی حالت سیاسی رہنماؤں کی بھی ہے ۔

    پروفیسر شکیل قدوائی کے مطابق ایک سوچی سمجھی پالیسی کے سبب ملک کی سب سے بڑی اقلیت کو حاشیے پر دھکیل دیا گیا ہے ۔ پہلے مسلمانوں کو معاشی ، معاشرتی ، تعلیمی اور سماجی سطحوں پر کمزور کیا گیا ۔ پھر مذہب و سیاست کی بنیاد پر انہیں ذلت و پسماندگی کے اس غار میں دھکیل دیا گیا ، جس سے باہر نکلنے لئے دہائیاں درکار ہیں ۔ شکیل کہتے ہیں کہ حالات ناسازگار ہیں ، وسائل محدود ہیں ، لیکن مایوسی کفر ہے ۔ اگر دیانت داری اور ایمانداری سے کوششیں کی گئیں تو منظر نامہ  ضرور تبدیل ہوجائے گا ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: