உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ڈی یو میں دہشت گردی ، آئین اور جمہوریت پر سمینارکا انعقاد

    دہلی : دہشت گردی، جمہوریت اورآئین جیسے مسائل پر دہلی یونیورسٹی میں ایک سیمینارکا انعقاد کیا گیا ۔ اس سیمینارمیں ملک کے موجودہ حالات اورحکومت کے ذریعے کی جانے والی جان بوجھ کرانديكھی پر بھی بحث کی گئی ۔

    دہلی : دہشت گردی، جمہوریت اورآئین جیسے مسائل پر دہلی یونیورسٹی میں ایک سیمینارکا انعقاد کیا گیا ۔ اس سیمینارمیں ملک کے موجودہ حالات اورحکومت کے ذریعے کی جانے والی جان بوجھ کرانديكھی پر بھی بحث کی گئی ۔

    دہلی : دہشت گردی، جمہوریت اورآئین جیسے مسائل پر دہلی یونیورسٹی میں ایک سیمینارکا انعقاد کیا گیا ۔ اس سیمینارمیں ملک کے موجودہ حالات اورحکومت کے ذریعے کی جانے والی جان بوجھ کرانديكھی پر بھی بحث کی گئی ۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:
      دہلی : دہشت گردی، جمہوریت اورآئین جیسے مسائل پر دہلی یونیورسٹی میں ایک سیمینارکا انعقاد کیا گیا ۔ اس سیمینارمیں ملک کے موجودہ حالات اورحکومت کے ذریعے کی جانے والی جان بوجھ کرانديكھی پر بھی بحث کی گئی ۔ خاص بات یہ رہی کہ اس سیمینار میں پروفیسر اور طلبہ تو موجود تھے ہی ، ساتھ ہی ساتھ بے گناہ ہوتے ہوئے بھی 14 سال تک دہشت گردی کے کیس میں جیل میں رہنے والے عامر نے بھی اپنی رائے کا اظہار کیا ۔
      مقررین نے کہا کہ ہمارے ملک کی جمہوریت اور آئین انتہائی مضبوط ہے، لیکن بہت سے معاملات میں دیکھا جاتا ہے کہ کچھ طاقتیں، سرکاری ایجنسیاں اپنے اعتبار سےان کا استعمال کرنے کی کوشش کرتی ہیں ۔ کئی مرتبہ طاقت کا غلط استعمال کر کے اقلیتوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ ملک میں اگرجمہوریت ہے تو پھر کیوں لیڈروں کے اشاروں پر اس کی دھجيا اڑائی جاتی ہیں۔
      دہلی یونیورسٹی کے سوشل سائنس ڈپارٹمنٹ میں منعقدہ سیمینار کے دوران بحث کافی دلچسپ رہی۔ اس طرح کے سیمینار جےاین یو میں تواکثر دیکھنےکو مل جاتے ہیں ، لیکن دہلی یونیورسٹی میں اس سیمینار نے سبھی حیران کردیا ۔ سیمینار میں جہاں یونیورسٹی کے طلبہ نے سوالات کئے ، وہیں بے گناہ ہونے کے باوجود بھی چودہ سال جیل میں گزارنے والے عامر اور دیگر دانشوران نے جوابات دئے۔ عامر اور ان کی کتاب فریمڈ ایز اے ٹيرارسٹ کو لے کر بھی طلبہ میں کافی بے تابی نظر آئی۔ اس میں شرکت کرنے والوں کا کہنا تھا کہ اس طرح کے سیمیناروں سے یقینا نوجوانوں میں بیداری پیدا ہوگی ۔
      First published: