உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    خود نوشت سوانحی ادب کے عنوان پر جے این یو میں دو روزہ بین الاقوامی ویبنار کا انعقاد

    خود نوشت سوانحی ادب کے عنوان پر جے این یو میں دو روزہ بین الاقوامی ویبنار کا انعقاد

    خود نوشت سوانحی ادب کے عنوان پر جے این یو میں دو روزہ بین الاقوامی ویبنار کا انعقاد

    جے این یو کے وائس چانسلر پروفیسر ایم جگدیش کمار نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ خود نوشت سوانحی ادب ایک اہم ادبی صنف ہے جس کا مطالعہ انسان کی آنکھیں کھولتا ہے اور اس کو سیلف سینٹرڈ (ذاتی مرکوز) زندگی کے دائرے سے باہر نکالتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ گاندھی جی کی لکھی ہوئی خود نوشت سوانح حیات سے ہند و بیرون ہند کے بہت سارے لوگ متأثر ہوئے اور ان کو گاندھی جی کے افکار کو سمجھنے میں بہت مدد ملی۔

    • Share this:
      نئی دہلی۔ مرکز برائے مطالعات عربی و افریقی جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں 5 اور 6 دسمبر کو خود نوشت سوانحی ادب کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی ویبینار کا انعقاد کیا گیا۔ اکیڈمی آف ایکسیلنس کیرالہ کے اشتراک سے منعقد ہوئے اس بین الاقوامی ویبینار میں ہندوستان کے علاوہ بڑی تعداد میں مصر، مراکش، سعودی عرب، عراق اور کویت وغیرہ کے ممتاز اسکالروں، پروفیسروں اور ادیبوں نے شرکت کی۔ یہ ویبنار افتتاحی اور اختتامی اجلاس کے علاوہ ۹/ نشستوں پر مشتمل تھا، جس میں تقریباً 51 مقالے پیش کئے گئے۔ مقالہ نگاروں کی کثیر تعداد کے پیش نظر دو روزہ ویبینار کے جلسوں کا انعقاد روزانہ دو متوازی متوازی نشستوں کے تحت کیا گیا۔

      جے این یو کے وائس چانسلر پروفیسر ایم جگدیش کمار نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ خود نوشت سوانحی ادب ایک اہم ادبی صنف ہے جس کا مطالعہ انسان کی آنکھیں کھولتا ہے اور اس کو سیلف سینٹرڈ (ذاتی مرکوز) زندگی کے دائرے سے باہر نکالتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ گاندھی جی کی لکھی ہوئی خود نوشت سوانح حیات سے ہند و بیرون ہند کے بہت سارے لوگ متأثر ہوئے اور ان کو گاندھی جی کے افکار کو سمجھنے میں بہت مدد ملی۔ اسکول آف لینگویج کے ڈین پروفیسر عین الحسن نے افتتاحی اجلاس سے اپنے خطاب میں کہا کہ خود نوشت ادب انسان کو آگے بڑھنے کا راستہ دکھاتا ہے اور اس کے لئے راہ ہموار کرتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ خود نوشت سوانحی ادب کا مطالعہ میں ہمیشہ کرتا ہوں اور یہ میرا پسندیدہ موضوع ہے۔

      یہ ویبنار افتتاحی اور اختتامی اجلاس کے علاوہ ۹/ نشستوں پر مشتمل تھا، جس میں تقریباً 51 مقالے پیش کئے گئے۔


      عبد المالک السعدی یونیورسٹی مراکش سے مہمان خصوصی ڈاکٹر رشید کہوس نے افتتاحی جلسے میں اپنے کلیدی خطاب میں عربی میں خود نوشت سوانحی ادب کی تاریخ پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے آپ بیتی اور سوانح حیات کے درمیان پائے جانے والے فرق کو بہت اچھی طرح واضح کیا۔ انھوں نے کہا کہ آپ بیتی انسان کے ذاتی تجربہ کا خلاصہ ہوتا ہے جو اس کے بچپن سے خود نوشت لکھے جانے تک کے عرصہ پر محیط ہوتا ہے، جبکہ سوانح حیات تاریخی دستاویزات پر مبنی کسی دیگر اشخاص کی پیدائش سے موت تک کے حوادث پر محیط ہوتی ہے۔ مرکز افریقی و عربی مطالعات کے سابق چیئر پرسن پروفیسر مجیب الرحمن نے ڈاکٹررشید کہوس کے مقالہ کا خلاصہ انگریزی میں پیش کرنے کے بعد کلمات تشکر پیش کیا۔ ویبینار کے کنوینر ڈاکٹر عبید الرحمن نے آغاز میں ویبینار کی غرض و غایت اور اہمیت پر روشنی ڈالی اور پروفیسر رضوان الرحمن نے استقبالیہ کلمات پیش کیے۔

      افتتاحی اجلاس کے بعد ۹/اکیڈمک نشستوں کا انعقاد کیا گیا جس میں مقالہ نگاروں نے عربی، اردو، ہندی، انگریزی اور کشمیری زبانوں میں موجود خود نوشت سوانحی ادب کا جائزہ لیا اور عربی کے ساتھ ان کا موازنہ بھی پیش کیا۔ ہر نشست میں سوال و جواب کا وقفہ رکھا گیا تھا، جس میں حاضرین نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اپنے سوالات پوچھے۔ ویبنار کی اختتامی نشست میں بہت سارے ادباء ودانشوران نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا اور ویبنار کے کامیاب انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد دی۔ ان میں پروفیسر زبیر احمد فاروقی، ڈاکٹر حیفاء شاکری،ڈاکٹر ہدی امام، ڈاکٹر نورہ خلیل اور ڈاکٹر سعید الرحمن وغیرہ شامل ہیں۔ ویبنار کے کنوینر ڈاکٹر عبید الرحمن طیب نے اخیر میں تمام مقالہ نگاروں اور مشارکین کا شکریہ ادا کیا۔
      Published by:Nadeem Ahmad
      First published: