اپنا ضلع منتخب کریں۔

    شردھا والکر قتل کیس میں آفتاب کے پولی گراف ٹیسٹ کے اجازت طلب، اب تک کیا ہوئی پیش رفت؟ جانیے تازہ ترین تفصیلات

    پیر کے روز ایک اور بیان ریکارڈ ہونے کے بعد جن افراد کے بیانات قلمبند کیے گئے

    پیر کے روز ایک اور بیان ریکارڈ ہونے کے بعد جن افراد کے بیانات قلمبند کیے گئے

    جن لوگوں سے پوچھ گچھ کی گئی اور جن کے بیانات قلمبند کیے گئے ان میں شردھا کے دوست لکشمن نادر، راہول رائے، گوڈون، شیوانی مہاترے اور ان کے شوہر، آفتاب شردھا کے فلیٹ کے مالک، شردھا کے منیجر کرن بہری، شردھا آفتاب کے فلیٹ کی مالک جے شری پاٹکر، یونیک پارک کی سیکریٹری شامل ہیں۔ جہاں آفتاب کا خاندان رہتا تھا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Mumbai | Delhi | Jammalamadugu | Hyderabad | Lucknow
    • Share this:
      جوں جوں دن گزرتے جارہے ہیں، ویسے ویسے شردھا والکر (Shraddha Walkar) کے گھناؤنے قتل کیس کی سنگین تفصیلات سامنے آتی جارہی ہے۔ دہلی پولیس نے پیر کے روز ملزم آفتاب امین پونا والا (Aaftab Amin Poonawalla) کے پولی گراف ٹیسٹ کی اجازت کے لیے ایک نچلی عدالت سے رجوع کیا، جس کے بغیر نارکو ٹیسٹ کے لیے اس کی رضامندی نہیں لی جا سکتی۔ ذرائع کے مطابق آفتاب نے آخرکار شردھا کے وحشیانہ قتل اور اس کے بعد ہونے والے واقعات پر اپنا پچھتاوا ظاہر کیا۔

      فارنسک سائنس لیبارٹری (FSL) نے کہا کہ پیر کے روز اس کا نارکو تجزیہ نہیں کیا جائے گا۔ ایف ایس ایل کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سنجیو گپتا نے کہا کہ ہم آج آفتاب کا نارکو ٹیسٹ نہیں کر رہے ہیں۔ پولی گراف ٹیسٹ کے دوران کئی جسمانی اشارے جیسے کہ بلڈ پریشر، نبض، سانس اور جلد کی کیفیت کو معلوم کیا جاتا اور اسے ریکارڈ کیا جاتا ہے۔

      جانیے تازہ ترین تفصیلات:

       

       
      آفتاب پر 18 مئی کو اپنی ساتھی شردھا کا گلا گھونٹ کر قتل کرنے، اس کے جسم کے ٹکڑے کرنے، پرزوں کو فریج میں رکھنے اور پھر مہرولی کے آس پاس کے علاقوں میں ٹھکانے لگانے کا الزام ہے۔ جس کے بعد دہلی پولیس نے اس جوڑے کے کئی دوستوں کے ساتھ پوچھ گچھ کی۔
      جن لوگوں سے پوچھ گچھ کی گئی اور جن کے بیانات قلمبند کیے گئے ان میں شردھا کے دوست لکشمن نادر، راہول رائے، گوڈون، شیوانی مہاترے اور ان کے شوہر، آفتاب شردھا کے فلیٹ کے مالک، شردھا کے منیجر کرن بہری، شردھا آفتاب کے فلیٹ کی مالک جے شری پاٹکر، یونیک پارک کی سیکریٹری شامل ہیں۔ جہاں آفتاب کا خاندان رہتا تھا۔
      جوڑے نے دہلی کے مہرولی میں ایک اپارٹمنٹ کرائے پر لیا تھا، جس کی پولیس نے اتوار کو تلاشی لی تھی۔ میدان گڑھی کے تالاب کو بھی شردھا کی باقیات کی تلاش کے لیے خالی کر دیا گیا تھا اور اس کی کھوپڑی کے کچھ حصے برآمد کیے گئے تھے۔ پولیس نے جوڑے کے مہرولی گھر سے پلاسٹک کے دو تھیلے بھی برآمد کئے۔
      پیر کے روز دہلی پولیس کی ایک ٹیم قومی راجدھانی دہلی میں بیدھوری ڈینٹل کلینک گئی تاکہ حال ہی میں برآمد ہونے والے جبڑے کے بارے میں ڈاکٹر سے دوسری رائے لیں۔ اے این آئی کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس مہرولی کے جنگل سے برآمد ہونے والے جبڑے سے دانت (جس کا علاج کیا گیا ہے) ملانا چاہتی ہے۔
      ایک پولیس اہلکار نے پیر کے روز بتایا کہ آفتاب نے جون میں مہاراشٹر کے ضلع پالگھر میں واقع اپنے فلیٹ سے 37 ڈبوں میں سامان دہلی منتقل کیا اور اس کے لیے 20,000 روپے ادا کیے تھے۔ پونا والا نے دہلی پولیس کو بتایا تھا کہ قومی دارالحکومت منتقل ہونے سے پہلے والکر نے اس بات پر لڑائی کی کہ پالگھر کے وسائی علاقے میں ان کے گھر سے سامان منتقل کرنے کے لیے کون پیسے ادا کرے گا۔
      پیر کے روز ایک اور بیان ریکارڈ ہونے کے بعد جن افراد کے بیانات قلمبند کیے گئے ان کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: