உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عام آدمی پارٹی ممبران اسمبلی نے نا اہل قرار دینے کے خلاف عرضی دہلی ہائی کورٹ سے لی واپس

    عام آدمی پارٹی کے نا اہل قرار دئے گئے ممبران اسمبلی نے دہلی ہائی کورٹ سے اپنی عرضی واپس لے لی ہے ۔ عدالت کے ذریعہ عرضی خارج کئے جانے سے پہلے ہی پارٹی کے چھ ممبران اسمبلی نے اپنی عرضی واپس لے لی۔

    عام آدمی پارٹی کے نا اہل قرار دئے گئے ممبران اسمبلی نے دہلی ہائی کورٹ سے اپنی عرضی واپس لے لی ہے ۔ عدالت کے ذریعہ عرضی خارج کئے جانے سے پہلے ہی پارٹی کے چھ ممبران اسمبلی نے اپنی عرضی واپس لے لی۔

    عام آدمی پارٹی کے نا اہل قرار دئے گئے ممبران اسمبلی نے دہلی ہائی کورٹ سے اپنی عرضی واپس لے لی ہے ۔ عدالت کے ذریعہ عرضی خارج کئے جانے سے پہلے ہی پارٹی کے چھ ممبران اسمبلی نے اپنی عرضی واپس لے لی۔

    • Share this:
      نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے نا اہل قرار دئے گئے ممبران اسمبلی نے دہلی ہائی کورٹ سے اپنی عرضی واپس لے لی ہے ۔ عدالت کے ذریعہ عرضی خارج کئے جانے سے پہلے ہی پارٹی کے چھ ممبران اسمبلی نے اپنی عرضی واپس لے لی۔ اب ممبران اسمبلی اس معاملہ میں دوبارہ عدالت میں عرضی دائر کریں گے۔
      سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا کہ جب ممبران اسمبلی نے عدالت میں عرضی داخل کی تھی ، اس وقت الیکشن کمیشن صدر جمہوریہ کے پاس ممبران اسمبلی کو نا اہل قرار دینے کی سفارش بھیج چکا تھا اور اتوار کو صدر جمہوریہ نے اس کو منظوری دیدی ، جس کے بعد ہائی کورٹ نے عرضیوں کو خارج کرنا شروع کردیا ، تب ممبران اسمبلی نے اپنی عرضی واپس لے لی۔
      خیال رہے کہ منفعت بخش عہدہ پر ہونے کی وجہ سے عام آدمی پارٹی کے 20 ممبران اسمبلی کو الیکشن کمیشن نے نا اہل قرار دیا تھا ۔ اس فیصلہ پر صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے بھی مہر لگادی تھی ۔ اس سے پارٹی کے 20 ممبران اسمبلی کی رکنیت ختم ہوگئی تھی ۔
      الیکشن کمیشن نے جمعہ کو سفارش کی تھی کہ 13 مارچ 2015 اور 8 ستمبر 2016 کے درمیان فائدے کا عہدہ رکھنے کی وجہ سے 20 ممبران اسمبلی نا اہل قرار دئے جانے کے حقدار ہیں ۔ ان ممبران اسمبلی کو پارلیمانی سکریٹری منتخب کیا گیا تھا اور عرضی گزار پرشانت پٹیل نے کہا تھا کہ ان کے پاس فائدے کا عہدہ ہے۔
      First published: