உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آلودگی پر قابو پانے کیلئے دہلی حکومت کا تاریخی قدم ، روز نہیں بلکہ نمبروں کے حساب سے چلیں گی گاڑیاں

    نئی دہلی : قومی راجدھانی میں بڑھتی ہوئی آلودگی پر قابو پانے کیلئے اروند کیجریول کی قیادت والی عام آدمی پارٹی کی حکومت نے ایک تاریخی قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ دہلی حکومت کے مطابق دہلی میں یکم جنوری 2016 سے گاڑیاں نمبروں کے حساب سے چلیں گی ۔ اگر یہ فیصلہ نافذ ہو گیا تو دہلی کی سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد آدھی رہ جائے گی۔

    نئی دہلی : قومی راجدھانی میں بڑھتی ہوئی آلودگی پر قابو پانے کیلئے اروند کیجریول کی قیادت والی عام آدمی پارٹی کی حکومت نے ایک تاریخی قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ دہلی حکومت کے مطابق دہلی میں یکم جنوری 2016 سے گاڑیاں نمبروں کے حساب سے چلیں گی ۔ اگر یہ فیصلہ نافذ ہو گیا تو دہلی کی سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد آدھی رہ جائے گی۔

    نئی دہلی : قومی راجدھانی میں بڑھتی ہوئی آلودگی پر قابو پانے کیلئے اروند کیجریول کی قیادت والی عام آدمی پارٹی کی حکومت نے ایک تاریخی قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ دہلی حکومت کے مطابق دہلی میں یکم جنوری 2016 سے گاڑیاں نمبروں کے حساب سے چلیں گی ۔ اگر یہ فیصلہ نافذ ہو گیا تو دہلی کی سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد آدھی رہ جائے گی۔

    • News18
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی : قومی راجدھانی میں بڑھتی ہوئی آلودگی پر قابو پانے کیلئے اروند کیجریول کی قیادت والی عام آدمی پارٹی کی حکومت نے ایک تاریخی قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ دہلی حکومت کے مطابق دہلی میں یکم جنوری 2016 سے گاڑیاں نمبروں کے حساب سے چلیں گی ۔ اگر یہ فیصلہ نافذ ہو گیا تو دہلی کی سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد آدھی رہ جائے گی۔


      فیصلہ کے نافذ ہونے کی صورت میں لوگ اپنی گاڑیاں ایک دن کے وقفہ سے چلا پائیں گے۔ 1،3،5،7،9 نمبروں والی کاریں ایک دن اور 2،4،6،8 نمبروں والی گاڑیاں دوسرے دن چلیں گی۔ تاہم اس سے سرکاری گاڑیوں، ایمبولینسوں اور پولیس کی گاڑیوںکو الگ رکھا جائے گا۔علاوہ ازیں یکم جنوری سے دہلی میں تھرمل بجلی پلانٹ بھی بند کئے جائیں گے۔


      قابل ذکر ہے کہ قومی راجدھانی میں آلودگی میں اضافہ پر ہائی کورٹ نے دہلی حکومت کی جم کر کھینچائی کی تھی ، جس کے بعد جمعہ کو کیجریوال نے ایک ہنگامی میٹنگ بلائی اور اس میں یہ فیصلہ کیا گیا۔ ہائی کورٹ نے آلودگی کے معاملہ پر تبصرہ کرتے ہوئے اس مسئلہ کا موازنہ گیس کے چیمبر میں رہنے سے کیا تھا۔


      ادھر سوشل میڈیا سے لے کر سڑک تک پر اس فیصلہ کی حمایت اور مخالفت میں زوردار بحث شروع ہو گئی ہے۔ اس فیصلے کی مخالفت کر رہے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ قطعی صحیح نہیں ہے۔ اس سے افراتفری پھیلے گی۔


      ان لوگوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ جب تک پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام ٹھیک نہیں کیا جاتا ہے ، ایسا کرنا خطرناک ہوگا۔جبکہ فیصلہ کی حمایت کرنے والوں نے دہلی حکومت کے اس قدم کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے دہلی کی فضا کو آلودگی سے پاک بنانے میں بہت حد تک مدد ملے گی۔

      First published: