உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہتک عزت معاملے میں کیجریوال اور دیگر لیڈروں کو بیس بیس ہزار روپے کے مچلکے پرضمانت

    نئی دہلی۔  دارالحکومت کی ایک عدالت نے مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی کی طرف سے دائر ہتک عزت مقدمہ میں دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال اور عام آدمی پارٹی ( اے اے پی) کے پانچ دیگر لیڈروں کو آج ضمانت دے دی۔

    نئی دہلی۔ دارالحکومت کی ایک عدالت نے مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی کی طرف سے دائر ہتک عزت مقدمہ میں دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال اور عام آدمی پارٹی ( اے اے پی) کے پانچ دیگر لیڈروں کو آج ضمانت دے دی۔

    نئی دہلی۔ دارالحکومت کی ایک عدالت نے مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی کی طرف سے دائر ہتک عزت مقدمہ میں دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال اور عام آدمی پارٹی ( اے اے پی) کے پانچ دیگر لیڈروں کو آج ضمانت دے دی۔

    • IBN Khabar
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔  دارالحکومت کی ایک عدالت نے مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی کی طرف سے دائر ہتک عزت مقدمہ میں دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال اور عام آدمی پارٹی ( اے اے پی) کے پانچ دیگر لیڈروں کو آج ضمانت دے دی۔ چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ سمت داس نے مسٹر کیجریوال اور پانچ دیگر لیڈروں کمار وشواش، آشوتوش، سنجے سنگھ، راگھو چڈھا اور دیپک واجپئی کو بیس بیس ہزار روپے کے مچلکے پر ضمانت دے دی۔


       بی جے پی لیڈر ارون جیٹلی کی جانب سے درج کرائے گئے ہتک عزت کیس میں آج پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کی پیشی ہوئی۔ اس کے علاوہ عام آدمی پارٹی کے لیڈر آشوتوش، دلیپ پانڈے اور سنجے سنگھ بھی کورٹ پہنچے تھے۔ آج کورٹ نے کیجریوال سمیت ان تمام کو ضمانت دے دی۔ معاملے کی اگلی سماعت 19 اپریل کو ہوگی۔


      بتا دیں کہ ڈی ڈی سی اے میں مبینہ اسکینڈل پر بار بار جیٹلی کا نام اچھالے جانے پر انہوں نے کیجریوال سمیت عام آدمی پارٹی کے 6 اور رہنماؤں پر ہتک عزت کا کیس کیا تھا۔ اسے لے کر جیٹلی نے کورٹ میں کیس درج کرایا تھا۔


      جیٹلی نے دسمبر 2015 میں دہلی ہائی کورٹ میں عآپ کے خلاف 10 کروڑ کا ہتک عزت کا کیس اور پارٹی کے رہنماؤں، کیجریوال، سنجے سنگھ، کمار وشواس، دیپک واجپئی، راگھو چڈھا اور آشوتوش کے خلاف پٹيالہ ہاؤس کورٹ میں مجرمانہ کیس درج کروایا تھا۔ جیٹلی کا کہنا ہے کہ عآپ کے رہنماؤں کے غلط بیان کی وجہ سے ان کی شبیہ کو نقصان پہنچا ہے۔

      First published: