ہوم » نیوز » No Category

سومناتھ بھارتی نے اپنی اہلیہ کو دو مرتبہ مارنے کی کوشش کی ، ہائی کورٹ میں دہلی پولیس کا بیان

نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے لیڈر اور دہلی کے سابق وزیر قانون سومناتھ بھارتی کی مشکلیں بڑھتی ہی جارہی ہیں ۔

  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
سومناتھ بھارتی نے اپنی اہلیہ کو دو مرتبہ مارنے کی کوشش کی ، ہائی کورٹ میں دہلی پولیس کا بیان
نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے لیڈر اور دہلی کے سابق وزیر قانون سومناتھ بھارتی کی مشکلیں بڑھتی ہی جارہی ہیں ۔

نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے لیڈر اور دہلی کے سابق وزیر قانون سومناتھ بھارتی کی مشکلیں بڑھتی ہی جارہی ہیں ۔ جہاں ایک طرف دہلی ہائی کورٹ نے رات میں پولیس اسٹیشن جانے پر بھارتی کو جم کر پھٹکار لگائی وہیں دہلی پولیس نے ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ بھارتی اپنی اہلیہ لیپیکا مترا کو دو مرتبہ مارنے کی کوشش کرچکے ہیں۔ خیال رہے کہ سومناتھ کے خلا گھریلو تشدد کا معاملہ پہلے سے درج ہے۔


تاہم سومناتھ بھارتی کو پیشگی ضمانت پر دہلی ہائی کورٹ سے راحت ضرور ملی ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ محفوظ رکھا ہے اور جب تک ہائی کورٹ کوئی فیصلہ نہیں سنا دیتا تب تک پولیس سومناتھ کو گرفتار نہیں کر سکتی۔


دہلی ہائی کورٹ نے سومناتھ بھارتی کے رات کو تھانے جانے پر بھی ناراضگی ظاہر کی۔ ہائی کورٹ نے سخت لہجے میں سومناتھ سے کہا کہ آپ رات میں تھانے کیوں گئے تھے، اگر آپ کو پولیس کی تحقیقات میں شامل ہونے کا اتنا ہی شوق ہے تو کل آپ کو کورٹ میں بلا لیتے ہیں اور یہیں سے تھانے بھیج دیتے ہیں۔


علاوہ ازیں ہائی کورٹ نے دہلی پولیس کو بھی پھٹکار لگاتے ہوئے پوچھا کہ 9 ستمبر کو ایف آئی آر درج ہونے کے بعد آپ نے کیا کیا، سومناتھ بھارتی کو آپ گرفتار کیوں نہیں کر پائے۔ ہائی کورٹ نے کہا آپ کے طور طریقے عام لوگوں کے لئے الگ ہیں، لیکن جب کسی بڑے آدمی کا معاملہ آتا ہے تو پولیس کو تمام پروسیس کی یاد آ جاتی ہے۔


ادھر پیشگی ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے دہلی پولیس نے دلیل دی کہ سومناتھ نے قانون کا مذاق بنا دیا ہے۔ وہ رات کو 2 بجے کتے کے ساتھ تھانے پہنچے اور میڈیا کانفرنس کی۔ ہائیکورٹ کے پروٹیکشن دینے کے باوجود وہ نچلی عدالت پہنچ گئے۔ یہ صرف شوہر بیوی کا گھریلو جھگڑا نہیں ہے۔ سومناتھ نے اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ بے وفائی کی ہے۔ حاملہ بیوی کی جان لینے کی کوشش کی ہے۔ ان پر پہلے بھی دو مجرمانہ معاملات چل رہے ہیں۔ اس کیس میں بہت سے ثبوت ہیں۔ لہذا سومناتھ کو کسی طرح کی پروٹیکشن نہیں ملنی چاہئے۔ اگر انہیں پروٹیکشن دی گئی تو غلط پیغام جائے گا کیونکہ وہ برسر اقتدرا پارٹی کے لیڈر ہیں۔


ادھر سومناتھ کے وکلاء نے عدالت میں کہا کہ میرے موكل پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔ انہیں سازش کے تحت پھنسایا گیا ہے۔ وہ تو تحقیقات میں تعاون کر رہے ہیں۔ ایسے میں ان کی گرفتاری کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ میاں بیوی کا جھگڑا ہے اور سومناتھ بھارتی جہیز کے سامان کا پیسہ ادا کرنے کیلئے تیار ہیں۔ یہ دو بچوں کی زندگی کا بھی سوال ہے۔ سومناتھ پہلے درج کیسوں میں کبھی گرفتار نہیں ہوئے ہیں۔

First published: Sep 17, 2015 11:21 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading