உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    منیش سسودیا اور عام آدمی پارٹی کے کئی رہنما حراست میں ، بعد میں ہوئے رہا

    نوٹوں کی منسوخی کے خلاف یہاں احتجاج کی قیادت کر رہے دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا سمیت عام آدمی پارٹی کے رہنماؤں اور حامیوں کو آج پولیس نے حراست میں لے لیا۔

    نوٹوں کی منسوخی کے خلاف یہاں احتجاج کی قیادت کر رہے دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا سمیت عام آدمی پارٹی کے رہنماؤں اور حامیوں کو آج پولیس نے حراست میں لے لیا۔

    نوٹوں کی منسوخی کے خلاف یہاں احتجاج کی قیادت کر رہے دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا سمیت عام آدمی پارٹی کے رہنماؤں اور حامیوں کو آج پولیس نے حراست میں لے لیا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔ نوٹوں کی منسوخی کے خلاف یہاں احتجاج کی قیادت کر رہے دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا سمیت عام آدمی پارٹی کے رہنماؤں اور حامیوں کو آج پولیس نے حراست میں لے لیا۔ حالانکہ کچھ گھنٹے بعد سبھی کو رہا کردیا گیا۔ مسٹر سسودیا پارٹی کے کئی رہنماؤں اور کارکنوں کے ساتھ جنتر منتر پر مظاہرہ کر رہے تھے۔ اس موقع پر عام آدمی پارٹی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو موبائل والیٹ سروس 'پےٹي ایم' کا وزیر اعظم بتایا۔ ترقی کے وزیر گوپال رائے نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "ملک کے لوگوں نے آپ کو وزیر اعظم بنایا لیکن آپ پےٹی ایم کے وزیر اعظم بن گئے۔ اگر آپ نے ملک کے لوگوں کے لئے کام کیا ہوتا تو وہ آپ کے ساتھ ہوتے۔ نوٹ نہیں اب ضابطے بدلو، مودی جی ہوش میں آو۔"پارٹی کے سینئر لیڈر دلیپ پانڈے نے وزیر اعظم کو نشانہ بناتے ہوئے کہا،" قوم پرستی کے نام پر ملک کو نہ لوٹو۔ "


      اس مظاہرے میں دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا کے ساتھ ان کی کابینہ کے کئی ساتھیوں سمیت سینکڑوں کارکنان بھی موجود تھے۔ مظاہرین کا جلوس جیسے ہی پارلیمنٹ کی جانب آگے بڑھا، پولیس نے اسے بیچ میں ہی روک دیا جس کے بعد مسٹر سسودیا سمیت جلوس میں شامل عام آدمی پارٹی کے بہت سے رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا اور پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے لے جایا گیا۔


      ڈپٹی کمشنر آف پولیس جتن نروال نے مسٹر سسودیا اور عام آدمی پارٹی کے کچھ دیگر رہنماؤں اور حامیوں کو حراست میں لیے جانے کی تصدیق کی۔ حالانکہ کچھ ہی گھنٹے بعد ان سب کو رہا بھی کر دیا گیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے نوٹوں کی منسوخی کا فیصلہ کرنے کے دن سے ہی عام آدمی پارٹی مودی حکومت کے اس فیصلے کی مخالفت کر رہی ہے۔

      First published: