ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

صرف معافی سے کام نہیں چلے گا ، بھگونت مان کے خلاف ہوگی کارروائی : سمترا مہاجن

خیال رہے کہ لوک سبھا میں کارروائی شروع ہوتی ہی بی جے پی کے ارکان نے ویڈیو کا معاملہ اٹھایا ۔ آر کے سنگھ اور کریٹ سومیا نے اسپیکر کے سامنے احتجاج کیا۔ ہنگامہ کے بعد کارروائی کو 12 بجے تک کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔

  • Pradesh18
  • Last Updated: Jul 22, 2016 06:31 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
صرف معافی سے کام نہیں چلے گا ، بھگونت مان کے خلاف ہوگی کارروائی : سمترا مہاجن
خیال رہے کہ لوک سبھا میں کارروائی شروع ہوتی ہی بی جے پی کے ارکان نے ویڈیو کا معاملہ اٹھایا ۔ آر کے سنگھ اور کریٹ سومیا نے اسپیکر کے سامنے احتجاج کیا۔ ہنگامہ کے بعد کارروائی کو 12 بجے تک کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔

نئی دہلی : فیس بک لائیو پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں زوردار گھمسان ​​اور سخت کارروائی کے اندیشے کے درمیان عام آدمی پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ بھگونت مان نے غیر مشروط معافی مانگ لی ہے۔ مان نے کہا کہ ان سے انجانے میں غلطی ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ ایوان میں انہیں بولنے نہیں دیا گیا ، اس لئے انہوں نے معافی نامہ اسپیکر کو دے دیا ہے۔ دریں اثنا پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن میں بھگونت مان کے خلاف شکایت درج کرائی گئی ہے۔

خیال رہے کہ حکمراں پارٹی اور تمام اپوزیشن جماعتوں کے ممبران پارلیمنٹ نے بیک آواز مان کے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا ۔ لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن نے بجہ مان کی کلاس لگائی۔ کارروائی منسوخ ہونے کے بعد اسپیکر سمترا مہاجن نے اس پر نوٹس لیا اور مان سے پوچھا کہ آخر انہوں نے ایسا ویڈیو کیوں بنایا؟۔

سمترا مہاجن نے کہا کہ 'انہوں نے جو ویڈیو فیس بک پر ڈالا ہے ، اس سے سیکورٹی کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ 13 لوگوں نے پارلیمنٹ پر حملے میں اپنی جان گنوائی ہے۔ یہ بے حد سنگین معاملہ ہے۔ میں نے تمام فریقوں کے لیڈروں سے بات چیت کر رہی ہوں۔ ہاؤس کے اندر اگر ایسا ہوا ہوتا ، تو فیصلہ لے لیتی ، لیکن یہ باہر ہوا ہے۔ ہم کارروائی ضرور کریں گے۔

اسپیکر نے کہا کہ بہت سے ارکان نے تجاویز دی ہیں۔ کمیٹی بھی بن سکتی ہے۔ بھگونت کے معافی مانگنے کی بات پر انہوں نے کہا کہ سوال معافی مانگنے کا نہیں ہے۔ معافی سے کچھ نہیں ہوگا۔ یہ پارلیمنٹ کی سیکورٹی کا سوال ہے۔ پارلیمنٹ کو دہشت گردوں سے خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی شراب پی کر ایوان میں آنے کی بات ان کے سامنے آئی ہے۔ ان سب باتوں کو ذہن میں رکھ کر فیصلہ لیا جائے گا۔

ادھر لوک سبھا میں کارروائی شروع ہوتی ہی بی جے پی کے ارکان نے ویڈیو کا معاملہ اٹھایا ۔ آر کے سنگھ اور کریٹ سومیا نے اسپیکر کے سامنے احتجاج کیا۔ ہنگامہ کے بعد کارروائی کو 12 بجے تک کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔12 بجے کے بعد جب کارروائی شروع ہوتے ہی پھر سے ہنگامہ ہونے لگا، جس کے بعد دن بھر کیلئے کارروائی ملتوی کردی گئی ۔

اس سے قبل بی جے پی لیڈر مہیش گری نے بھگونت مان کے خلاف استحقاق کی خلاف ورزی کی تجویز لانے کے لئے نوٹس دیا ۔ گری نے اسے پارلیمنٹ کی سیکورٹی سے کھلواڑ بتایا ہے ۔ ادھرحکومت نے بھی مان کے اس قدم پر سخت موقف اختیار کیا ہے ۔ پارلیمانی امور کے وزیر مملکت مختار عباس نقوی نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ بھگونت نے سیکورٹی کے نظام اور پارلیمانی طریقہ کار کو سوشل میڈیا پر شیئر کرکے قانون کی خلاف ورزی کی ہے ۔ اسی سلسلہ میں آج بھگونت مان کو اسپیکر کے سامنے بھی پیش ہونا ہے اور ساتھ ہی پارلیمنٹ کی سیکورٹی کو لے کر بھی ایک میٹنگ بلائی گئی ہے ۔
اکالی دل کے لیڈر منجندر سنگھ سرسا نے پوچھا کہ آخر مان کے پاس آئین کی کتنی معلومات ہے؟ جو بھی یہاں تک پہنچ جاتا ہے ، وہ وقار کا خیال رکھتا ہے ۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ شراب پی کر پارلیمنٹ میں آتے ہیں ۔ نشے میں ہی انہوں نے ویڈیو بھی بنا لیا ہوگا ۔ ایسے لوگوں کو پارلیمنٹ میں بیٹھنے کا حق نہیں ہے ۔
عام آدمی پارٹی کے ہی پنجاب سے ممبر پارلیمنٹ دھرم ویر گاندھی کو بھی مان کا یہ قدم پسند نہیں آیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیکورٹی کو لے کر اگر ان کے دل میں کسی طرح کا سوال تھا ، تو وہ وزیر داخلہ کی پاس جا سکتے تھے ۔ آج تک کسی نے پارلیمنٹ کی ویڈیوگرافی کرکے باہر نہیں بھیجی ۔ امید کرتا ہوں کہ وہ ایسی غلطی نہیں کریں گے اور آئندہ ایسی بے وقوفانہ حرکت نہیں کریں گے ۔
جے ڈی یو رہنما کے سی تیاگی نے کہا کہ سیکورٹی میں ہو رہی بھول چوک کو پکڑنا اچھا کام ہے ، لیکن بھگونت مان کو لوک سبھا اسپیکر یا کمیٹی کے سامنے رکھنا چاہئے ۔ کہیں ایسا نہ ہو ان کی اچھی کوشش کسی غلط ایجنسی کے ہاتھ میں نہ لگ جائے ۔
First published: Jul 22, 2016 12:52 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading