ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ہند۔ پاک سفارت کاری کو مرکزی حیثیت دیں، جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں: عبدالباسط

پاکستانی ہائي کمشنر عبدالباسط نے کہا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کو دوطرفہ مذاکرات کا سلسلہ برقرار رکھنے کے ساتھ نتیجہ خیز روابط استوار کرنے اور سفارتکاری کو مرکزی حیثیت دینے پر زور دینا چاہئے۔

  • UNI
  • Last Updated: Oct 04, 2016 08:44 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
ہند۔ پاک سفارت کاری کو مرکزی حیثیت دیں، جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں: عبدالباسط
پاکستانی ہائي کمشنر عبدالباسط نے کہا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کو دوطرفہ مذاکرات کا سلسلہ برقرار رکھنے کے ساتھ نتیجہ خیز روابط استوار کرنے اور سفارتکاری کو مرکزی حیثیت دینے پر زور دینا چاہئے۔

نئي دہلی۔ ہندوستانی فوج کی طرف سے پاک مقبوضہ کشمیر میں سرجیکل اسٹرائک کے بعد دونوں ملکوں کی سیاسی پارٹیوں کی بیان بازیوں کے درمیان پاکستانی ہائي کمشنر عبدالباسط نے کہا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کو دوطرفہ مذاکرات کا سلسلہ برقرار رکھنے کے ساتھ نتیجہ خیز روابط استوار کرنے اور سفارتکاری کو مرکزی حیثیت دینے پر زور دینا چاہئے۔

انگریزی روزنامہ 'انڈین ایکسپریس' میں شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں مسٹر عبدالباسط نے گزشتہ ہفتہ پاک مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی فوج کی محدود جوابی کارروائي (سرجیکل اسٹرائک) کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کی حرارت کو کم کرنے کے لئے سفارتی کوششیں قائم رکھنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کو آپسی تعطل ختم کرکے بات چیت کی میز پر لوٹنا چاہئے۔ پاکستانی ہائي کمشنر نے گزشتہ رات کو بارہمولہ میں ہونے والے حملے کو سرجیکل اسٹرائک پر جوابی کارروائي قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ " ایسا ہرگز نہيں۔ پاکستان کی سرحد کے اندر کوئي سرجیکل اسٹرائک ہوا ہی نہیں ہے۔ اس لئے ، بارہمولہ کا حملہ، یا اس سے پہلے اڑی کا حملہ یا اس سے پہلے وادی کشمیر میں پیش آنے والے دیگر متعدد واقعات ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ جموں و کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت ہے اور اس کو کسی طور بھی ریڈ کارپیٹ میں دبایا نہيں جاسکتا۔ اس مسئلے کوجموں و کشمیر کے عوام کی خواہشات و توقعات کے مطابق حل کیا جانا چاہئے اور یہی ہمارا موقف ہے"۔


جب ان سے پوچھا گيا کہ اڑی اور بارہمولہ کے حملے کو پاکستان کس طورپر دیکھتا ہے، تو انہوں نے اسے یہ کہتے ہوئے نظر انداز کردیا کہ "یہ بات تو آپ کو آپ کی حکومت بتائے گی، اس میں مجھے کچھ کہنے کا حق نہيں ہے، لیکن ہمیں جو بات بری لگتی ہے وہ یہ کہ جب بھی ہندوستان میں کوئي حملہ ہوتا ہے، تو فوری طورپر انگلیاں پاکستان کی طرف اٹھائی جاتی ہیں"۔ پاکستانی ہائي کمشنر سے دریافت کیا گیا کہ کیا حکومت پاکستان کی طرف سے ہندوستانی فوج کے سرجیکل اسٹرائک کی نفی کرنا صورتحال کو مزید کشیدہ ہونے سے روکنے کی کوشش ہے؟  تو انہوں نے کہا کہ "خدانخواستہ ، ایسی کوئي کارروائي ہوتی ہے، تو اس پر فوری جواب دیا جائے گا۔ ہمیں یقین ہے کہ ہمارا اصرار کام آرہا ہے۔ اس ضمن میں غلط نتیجے اخذ کرنے اور گمرا ہ کن توقعات ظاہر کرنے سے پرہیز کرنا ضروری ہے۔کیونکہ یہی ہمارے مفاد میں ہے"۔ نیوکلیائي ہتھیار استعمال کرنے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اس بات پر ہندوستان میں بھی غور کیا جارہا ہے۔ لیکن دونوں ممالک اچھی طرح سمجھ رہے ہيں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہيں ہے، بالخصوص نیوکلیائی ماحول میں کسی تنازعہ کو جنگ سے حل نہیں کیا جاسکتا ہے۔


ہندو پاک تعلقات میں آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں مسٹر عبدالباسط نے سنجیدہ اور مسلسل سفارتکاری نیز نتیجہ خیز مشارکت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ " دو طرفہ مذاکرات دونوں ملکوں کے مفاد میں ہيں۔ اگر ہندوستان تیار ہو، تو پاکستان بھی راضی ہوگا۔ اگر ہندوستان بات چیت کے لئے تیار نہ ہو ، تو ہم ہمیشہ انتظار کریں گے کہ وہ ذہن سازی کرے اور بات چیت کے لئے تیار ہو"۔ اسلام آباد میں سارک چوٹی کانفرنس کا مجوزہ انعقاد ملتوی کئے جانے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ پہلی بار نہيں ہے کہ سارک چوٹی کانفرنس کو مؤخر کیا گیا ہے ،اس سے پہلے بھی سارک اجلاس کو ملتوی کیا گيا ہے اور انہيں یقین ہے کہ پاکستان 19 ویں سارک اجلاس کی ميزبانی کرے گا، اس سال نہيں تو آئندہ سال یہ اجلاس اسلام آباد میں ہی ہوگا۔

First published: Oct 04, 2016 08:43 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading