ہوم » نیوز » No Category

مہذب معاشرے میں گالی گلوج کی کوئی جگہ نہیں: سحرنیلوفر

نئی دہلی۔ کسی بھی ماں باپ کو یہ پسند نہیں کہ اس کے بچے گالیاں دیں، لیکن ہمارے معاشرے میں ایسا ہوتا ہے کہ لڑائی دو لوگوں کی ہوتی ہے تو بھی ماں اور بیٹی کو گالیاں دی جاتی ہیں۔

  • ETV
  • Last Updated: Dec 14, 2015 04:52 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
مہذب معاشرے میں گالی گلوج کی کوئی جگہ نہیں: سحرنیلوفر
نئی دہلی۔ کسی بھی ماں باپ کو یہ پسند نہیں کہ اس کے بچے گالیاں دیں، لیکن ہمارے معاشرے میں ایسا ہوتا ہے کہ لڑائی دو لوگوں کی ہوتی ہے تو بھی ماں اور بیٹی کو گالیاں دی جاتی ہیں۔

نئی دہلی۔ کسی بھی ماں باپ کو یہ پسند نہیں  کہ اس کے بچے گالیاں دیں، لیکن ہمارے معاشرے میں ایسا ہوتا ہے کہ لڑائی دو لوگوں کی ہوتی ہے تو بھی ماں اور بیٹی کو گالیاں دی جاتی ہیں۔اسی بات سے پریشان ہوکر دہلی کے جنتر منتر پر گزشتہ ایک سال سے سحر نیلوفر نام کی ایک خاتون دھرنا دے رہی ہیں۔


نیلوفر چاہتی ہیں کہ معاشرے سے گالی گلوج ختم کرنے کی پہل ہواور جو لوگ ماں بیٹی اور بہن کے نام کو گندا کرنے کی کوشش کریں ان کے خلاف کارروائی ہو کیوں کہ ایک مہذب معاشرے میں گالیوں کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ ہر طرف نعرے بازی کا شور ، حکومت کے خلاف بیان بازی اور ہاتھوں میں بینر پوسٹر، دہلی کے جنتر منتر کا نظارہ اکثر اسی طرح کا ہوتا ہے کیونکہ یہاں دھرنا دینے والوں کی ہمیشہ بھیڑ رہتی ہے ۔ اسی بھیڑ کے درمیان گزشتہ ایک سال سے چادر بچھائے بیٹھی ہے 54 سالہ سحر  نیلوفر ۔ وہ روزانہ اپنے گھر دوارکا سے جنتر منتر آتی ہیں۔ اپنا بینر لگاتی ہیں اور شام کو گھر واپس چلی جاتی ہیں ۔  یہاں بیٹھ کر وہ وزیر اعظم سےلے مختلف موثر لوگوں کو خط لکھتی ہیں اور مطالبہ کرتی ہیں کہ  سماج  سے گالی ختم کرنے کی پہل ہو اور خواتین کے خلاف ہونے والی زیادتی کو روکا جائے۔


نیلوفر کہتی ہیں کہ جب بھی کوئی ماں بہن کی گالی دیتا ہے تو وہ خود کو ذلیل محسوس کرتی ہیں ۔ وہ  کہتی ہیں کہ گالیاں ہماری زبان میں اس قدر شامل ہو چکی ہیں کہ ہماری زبان گندی ہو چکی ہے۔ خاص طور پر شمالی ہندوستان میں تو گالی باقاعدہ زبان بن چکی ہے۔  اس لئے زبان سے گالیاں باہر کرنی ہوں گی۔اپنی اس مہم کو آگے بڑھاتے ہوئے اب وہ چاہتی ہیں کہ وہ اسکولوں میں جاکر بچوں کو اس مسئلے پر آگاہ کریں۔ وہ یہ بھی چاہتی ہیں کہ کچھ اور لوگ بھی ان کی اس مہم میں ان کے ساتھ شمولیت اختيار کریں۔

First published: Dec 14, 2015 04:51 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading