ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

شمال مشرقی دہلی فساد: کراول نگر ایس ڈی ایم پنیت کمار پٹیل کے خلاف کارروائی کا حکم

اطلاعات کے مطابق، ایس ڈی ایم کے ذریعہ فساد متاثرین کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور ان کو وہاں سے بھگا دیا گیا جس کے بعد بہت سے متاثرین روتے ہوئے لوٹے تھے۔

  • Share this:
شمال مشرقی دہلی فساد: کراول نگر ایس ڈی ایم پنیت کمار پٹیل کے خلاف کارروائی کا حکم
تشدد میں شمال مشرق دہلی کا ایک اسکول مکمل طور پر تباہ ہوگیا: فائل فوٹو

نئی دہلی۔ دہلی کے شمال مشرقی علاقہ میں ہوئے فساد میں بڑے پیمانہ پر تباہی، قتل وغارت گری اور  آگ زنی کی واردات کے متاثرین کے زخموں پر نمک چھڑکنے، متاثرین سے بدسلوکی کرنے کی خبر سامنے آئی ہے جس پر دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے نوٹس لیتے ہوئے بدسلوکی کرنے والے افسر کو ہٹانے کاحکم صادر کیا ہے۔ دراصل، حال ہی میں فساد متاثرین کے بدتر حالات اور ان کی مدد کے لئے دہلی ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ جو متاثرین ہیں ان کی مدد کی جائے اور خاص طور سے فساد متاثرین کے لئے دہلی حکومت کی جانب سے معاوضہ دینے کے اعلان کے مدنظر متاثرین کے معاوضہ فارم بھرنے میں مدد کی جائے۔


اس کے بعد بہت سے ایسے لوگ جن کو فساد کے دوران نقصان ہوا تھا لیکن ان کے معاوضہ فارم نہیں بھرے جاسکے تھے وہ ایس ڈی ایم کراول نگر کے پاس پہنچے تھے۔ اطلاعات کے مطابق، ایس ڈی ایم کے ذریعہ فساد متاثرین کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور ان کو وہاں سے بھگا دیا گیا جس کے بعد بہت سے متاثرین روتے ہوئے لوٹے تھے۔ یہ معاملہ ٹوئٹر پر سامنے آیا اور کمیشن تک پہونچا جس کے بعد کمیشن نے کاروائی کرتے ہوئے ڈی ایم شمال مشرقی دہلی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس پورے معاملہ کی تحقیقات کرانے اور متعلقہ افسر کے قصور وار پائے جانے پر افسر کو ہٹانے کی ہدایت دی۔ کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے ٹویئٹر پر اقلیتی کمیشن کی کاروائی کا حوالہ دیتے ہوئے اطلاع دی کہ بدسلوکی کرنے والے افسر کے خلاف کاروائی کے تحت شمال مشرقی دہلی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو نوٹس بھیجا گیا ہے۔



ڈی ایم دیں 10 جولائی تک رپورٹ

پنیت کمار پٹیل ایس ڈی ایم کراول نگر کو لے کر سامنے آئے معاملہ میں کمیشن کا رخ کافی زیادہ سخت ہے۔ کمیشن نے اپنے نوٹس میں لکھا ”آپ کو ہدایت دی جاتی ہے کہ آپ فوری طور پر اس معاملہ میں جانچ کرائیں اور اگر الزامات درست پائے جاتے ہیں تو فوری طورپر کاروائی کے تحت متعلقہ آفیسر کو بدل دیا جائے۔تاکہ متاثرین اور عام آدمی کے ساتھ ہمدردی کا اظہار ہو سکے ۔کمیشن نے لکھا کہ آپ دس جولائی تک اس معاملہ میں کمیشن کو رپورٹ دیں‘۔

ٹویٹر پر متاثرین کے ساتھ بدسلوکی کی گونج

اس سے قبل ایک میشکانامی ٹویئٹر ہینڈل سے لکھا گیا کہ دہلی ہائی کورٹ کے ذریعہ فساد متاثرین کو معاوضہ دیے جانے کی دوبار ہدایت دی گئی لیکن اس کے باوجود کراول نگر کے ایس ڈی ایم پنیت کمار پٹیل مسلسل ان لوگوں کو ہراساں کررہے ہیں۔ آج ایس ڈی ایم کے ذریعہ نہ صرف متاثرین کے ساتھ بدکلامی کی گئی بلکہ تقریبا تین گھنٹے ان کو ٹارچر کیا گیا۔ ایس ڈی ایم کے دفتر سے جانے کے بعد متاثرین نے اپنے وکیلوں کو روتے ہوئے فون کیا اور بتایا کہ کس طرح سے ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jul 09, 2020 09:24 AM IST