உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عدم تشدد کے نظریے کی پاسداری ہی باپو کو صحیح خراج عقیدت اور خراج تحسین

    Gandhi Jayanti 2022: داس کرم چند گاندھی نے اپنے اہنسا یعنی عدم تشدد کے اصولوں سے ملک کی آزادی اور تعمیر و ترقی کی جو کہانی لکھی ہے وہ رہتی دنیا تک قائم رہے گی۔

    Gandhi Jayanti 2022: داس کرم چند گاندھی نے اپنے اہنسا یعنی عدم تشدد کے اصولوں سے ملک کی آزادی اور تعمیر و ترقی کی جو کہانی لکھی ہے وہ رہتی دنیا تک قائم رہے گی۔

    Gandhi Jayanti 2022: داس کرم چند گاندھی نے اپنے اہنسا یعنی عدم تشدد کے اصولوں سے ملک کی آزادی اور تعمیر و ترقی کی جو کہانی لکھی ہے وہ رہتی دنیا تک قائم رہے گی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Lucknow, India
    • Share this:
    عدم تشدد کے نظریے کی پاسداری ہی باپو کو صحیح خراج عقیدت اورُخراج تحسین ہے۔ اگر آج ہم گاندھی جی کے اصولوں اور نظریات  مکمل پاسداری کریں تو ہمارا ملک جنت بن جائے گا۔ اتفاق واتحاد کی ایک ایسی فضا پروان چڑھے گی جو ہمارے لئے باعث افتخار اور پوری دنیا کے لئے باعثِ تقلید ہوگی۔ انٹیگرل یونیورسٹی میں مہاتما گاندھی کے یوم پیدایش کی مناسبت سے منعقد ہونے والی تقریبات کا سلسلہ یکم اکتوبر سے ہی شروع ہوگیا اس مبارک موقع پر بابائے قوم ،عدم تشدد کے نظریے کے بانی، اہنسا کے پجاری موہن داس کرم چند گاندھی کو زبردست خراج عقیدت پیش کیاگیا۔۔

    مہاتما گاندھی کی یم پیدائش کی مناسبت سے یونیورسٹی کے کئی  شعبوں میں مختلف پروگرام منعقد کئے گئے جس میں پوسٹر میکنگ کمپٹیشن۔ تقریری مقابلہ اور گاندھی جی کی شخصیت اور کارناموں کو اجاگر کرنے والی فلم کی پیش کش اہم ہیں ، اس موقع پر انٹیگرل یونیورسٹی کے بانی وچانسلر پروفیسر سید وسیم اختر نے کہا کہ انسانی تاریخ کے اوراق  جن عظیم شخصیات کی گراں قدر خدمات سے منور ہیں ان میں ایک نہایت روشن اور اہم نام موہن داس کرم چند گاندھی یعنی بابائے قوم کا ہے۔

    مہاتما گاندھی کی باتیں: ایسے جیو جیسے کہ کل آپ کو مرنا ہے اور سیکھو ایسے کہ آپ کو ہمیشہ زندہ رہنا ہے


    گاندھی جی کی زندگی ہم لوگوں کے لئے نمونہ عمل ہے قابل تقلید ہے پرفیسر سید وسیم اختر کے مطابق گاندھی جی نےعدم تشدد کے ذریعے ہمیں آزادی کی جو نعمت عطا کی اس کی دوسری کوئی مثال اناسنی تاریخ میں نہیں ،وہ ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے ۔ باپو اہنسا کے پجاری تھے، انسانیت کے علمبردار تھےاور قومی یکجہتی اور بھائی چارے کی جیتی جاگتی مثال تھے ان کو دیکھ کر پہلا تاثر ایک بے سروسامان درویش کا قائم ہوتا ہے اور جب ہم ان کی حیات وخدمات کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان کے یہاں جامع اور مربوط نظام زندگی کے شواہد ملتے ہیں ۔۔۔پروفیسر سید وسیم اختر نےخطاب کے دوران یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبا کو گاندھی جی کی تعلیمات اور ان کے کردار سے استفادہ کرنے کی تلقین کی ۔

    اس اہم موقع پر ینیورسٹی کے پروچانسلر ڈاکٹر ندیم اختر نے بھی روشن الفاظ میں باپو کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ مہاتما گاندھی نے ملک کی آزادی میں جو کردار ادا کیا وہ تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ ہمیشہ زندہ اور تابندہ رہے گا ۔۔۔اس موقع پر انہوں نے سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے واضح کیا کہ دو اکتوبر ہی  لال بہادر شاستری جی کا بھی یوم پیدایش ہے لہٰذا ہم ان کی غیرمعمولی خدمات کا ا عتراف کرتے ہوئے انہیں بھی خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔پروگرام کے آخر میں  ان طلبا وطالبات کو بھی انعامات واعزاز سے نوازہ کیا جنہوں نے باپو کی حیات اور کارناموں پر مشتمل بہترین پروگرام پیش کئے۔ ضح رہے کہ انٹیگرل یونیورسٹی میں گاندھی جی کے ہوم پیدائش سے متعلقہ پروگراموں کا سلسلہ گزشتہ شام یعنی یکم اکتوبر سے ہی شروع ہوگیا تھا اور آج تو سبھی شعبوں کی جانب سے باپو کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی تعلیمات پر عمل کرنے کا عہد لیا گیا۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: