உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بہتر نتائج تبھی مل سکتے ہیں جب سرکاری ملازمین و عوام ایک ساتھ مل کر بہتری کیلئے کام کریں: عادل حسین

    عادل حسن کہتے ہیں کہ بہتر نتائج اسی وقت مل سکتے ہیں جب سرکاری ملازمین اور عوام ایک ساتھ مل کر بہتری کے لئے کام کریں، ہماری کوشش ہے کہ وہ مقاصد پورے ہوں جن کے لئے اتر پردیش اردو اکادمی جیسے اداروں کا قیام عمل میں آیا تھا۔

    عادل حسن کہتے ہیں کہ بہتر نتائج اسی وقت مل سکتے ہیں جب سرکاری ملازمین اور عوام ایک ساتھ مل کر بہتری کے لئے کام کریں، ہماری کوشش ہے کہ وہ مقاصد پورے ہوں جن کے لئے اتر پردیش اردو اکادمی جیسے اداروں کا قیام عمل میں آیا تھا۔

    عادل حسن کہتے ہیں کہ بہتر نتائج اسی وقت مل سکتے ہیں جب سرکاری ملازمین اور عوام ایک ساتھ مل کر بہتری کے لئے کام کریں، ہماری کوشش ہے کہ وہ مقاصد پورے ہوں جن کے لئے اتر پردیش اردو اکادمی جیسے اداروں کا قیام عمل میں آیا تھا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Lucknow, India
    • Share this:
    اتر پردیش اردو اکادمی کا قیام جس وقت عمل میں آیا تھا اس وقت کی حکومت اور اہل اردو کے اذہان میں بہت سے منصوبے اور خاکے تھے۔ ان منصوبوں اور خاکوں میں رنگ بھرنے والے لوگوں میں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ برادران وطن کی بھی کثیر تعداد موجود تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صرف زمینیں ہی تنگ نہیں ہوئیں بلکہ ذہنیتیں بھی تنگ ہو گئیں اور نتیجہ یہ ہوا کہ اردو مذبی خانوں میں اور محدود و مخصوص علاقوں میں سمٹ کے رہ گئی اور اب تو زبان و ادب کے وجود پر ہی سوالیہ نشان لگنے لگے ہیں۔اس صورت حال کے لئے کون ذمہ دار ہے یہ ایک اہم سوال ہے لیکن جوابات مختلف ہیں۔ اردو اور اہل اردو نے تو اپنی ذمہ داریوں اور کوتاہیوں کی پردہ پوشی کے لئے آسان طریقہ ڈھونڈ لیا ہے کہ حکومت پر الزام لگائیے اور دامن جھاڑ لیجئے ، جبکہ سچائی یہ ہے کہ اس زبوں حالی کے لئے خود اہل اردو بھی کم ذمہ دار نہیں۔

    حال ہی میں حکومت اتر پردیش محکمہ لسانیات کے سیکشن افسر عادل حسن کو اب اتر پردیش اردو اکادمی کے سکرٹری کا اضافی چارج دیدیا گیا ہے عادل حسن کی شناخت ایک ذمہ دار اور ایماندار افسر کی ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ اب حالات شاید پہلے سے کچھ بہتر ہو جائیں گے۔ ایک سال میں تین سکرٹریوں کی تبدیلی پہلے زہیر بن صغیر، پھر کلیم الدین اور اب عادل حسن کو چارج دئے جانے سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ اندرونی حالات بہت اچھے نہیں ، سب کمیٹیوں سے متعلقہ حالیہ میٹنگ میں بھی مجلس عاملہ کے کچھ اراکین کی عدم موجودگی نے ایک بار پھر بڑھتے انتشار اور گہرے ہوتے بحران کے اشارے دے دئے ہیں لیکن عادل حسن کی سنجیدہ پیش رفت سے اہل اردو کی امیدیں ایک بار پھر روشن ہورہی ہیں۔

    اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ان کے ذریعے ترتیب دیےجانے والے نئے منصوبے واقعی اردو اکادمی جیسے اہم ادارے کی مقصدیت اور اہمیت کو بچا سکیں گے ؟ کیا وقت اور حالات کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اہلِ اردو کو مطمئن کر سکیں گے۔؟ عادل حسن سے بات کرنے کے بعد یہ احساس تو ہوتا ہے کہ وہ اردو اور اہل اردو کی فلاح و بہبود کے خوابوں اور خاکوں میں اپنی اردو محبت محنت ایمانداری کے رنگ بھرنا چاہتے ہیں۔

    ناراض ٹیچر کو منانے کیلئے بچے نے اپنائی بیحد کیوٹ ٹرک، دیکھ کر آپ کو بھی آجائے پیار

    انہوں نے گزشتہ دو ماہ کے دوران جس انداز سے کام کیا ہے اس سے لگتا ہے کہ اب کام کو سہی سمت و رفتار بھی ملے گی اور بدعنوانیاں بھی کم ہوجائیں گی۔ سمیناروں اور مشاعروں کے انعقاد کے لیے صرف چند ناموں اور سوسائٹیوں اور انجمنوں کو پیسے دیے جانے جیسے عوامل میں بھی سدھار آئے گا اور انعامات کی تقسیم میں جانب داری اور اپنے مخصوص لوگوں پر کی جانے والی نوازشات کے معاملے بھی کم ہوں گے ۔ عادل حسن کہتے ہیں کہ ہم اسی لائن اور خطوط پر کام کررہے ہیں جن کے ذریعے وہ مقاصد حل ہوسکیں جن کو پوراکرنے کے لئے اس اکیڈمی کو قائم کیا گیا تھا ۔واضح رہے کہ اتر پردیش اردو اکادمی کی جانب سے یوں تو کئی اہم اسکیمیں چلائ جارہی ہیں جنمیں ، اردو آئی اے ایس کو چنگ سینٹر،کمپیوٹر سنٹر، مختلف اصناف پر مشتمل مسودات کی اشاعت ، وظائف کی تقسیم ، سیمیناروں ، مشاعروں ڈراموں اور مذاکروں کا اہتمام وغیرہ وغیرہ لیکن ایک اہم سوال یہ ہے کہ اردو مخالف اس دور میں جب نوجوان طبقہ بے روزگاری کی زد میں ہے وسائل محدود ہورہے ہیں زبان اور روزگار کے مابین تعلق اور انسلاک کمزور پڑتا جارہاہے کیا مذکورہ روایتی اسکیمیں اور پروگرام اس اہم ادارے کی مقصدیت کو پورا کر رہے ہیں۔؟ ساتھ ہی ماضی میں اتر پردیش اردوشاکادمی پر یہ الزامات بھی لگتے رہے ہیں کہ اکیڈمی بکے طمسلی تعاون سے کرائے جانے والے سمیناروں اور مشاعروں میں کمیشن خوری بھی عام تھی۔

    21سیکنڈ میں 45 چپلیں، وائرل ویڈیو میں لڑکی نے اس طرح اتارا عشق کا بھوت



    اردو اکادمی کے سکرٹری عادل حسن کہتے ہیں کہ وہ چیزوں کو سمجھنے کے بعد حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کررہےہیں۔ ماضی میں لوگوں نے کیا کیا اس سے سروکار نہیں حال اور مستقبل کا سفر بہتر اور خوشگوار ہوگا اس کی ہم یقین دہانی کراتے ہیں اہل اردو کو امید رکھنی چاہئے کہ اکیڈمی کے چئر مین چودھری کیف الوریٰ کی سربراہی میں ، حکومت کے احکامات کی روشنی میں وہ تمام اغراض و مقاصد پورے کرنےکی سنجیدہ کوششیں کی جائیں گی جن کے لئے اس اکیڈمی کا قیام عمل میں آیا ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: