ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کانپور شیلٹر ہوم کی لڑکیوں کے حاملہ ہونے کا معاملہ پہنچا الہ آباد ہائی کورٹ

معروف قانون داں اور سپریم کورٹ کے وکیل ڈاکٹر فرخ خان نے الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس گوند ماتھر کو خط لکھ کر اس معاملہ میں از خود نوٹس لینے کی درخواست کی ہے ۔

  • Share this:
کانپور شیلٹر ہوم کی لڑکیوں کے حاملہ ہونے کا معاملہ پہنچا الہ آباد ہائی کورٹ
کانپور شیلٹر ہوم کی لڑکیوں کے حاملہ ہونے کا معاملہ پہنچا الہ آباد ہائی کورٹ

الہ آباد : کانپور کے سرکاری شیلٹر ہوم میں سات لڑکیوں کے حاملہ پائے جانے کا معاملہ اب الہ آباد ہائی کورٹ میں پہنچ گیا ہے ۔ کانپور میں لڑکیوں کیلئے قائم کئے گئے سرکاری شیلٹر ہوم میں پچاس سے زائد بچیوں کو کورونا پازیٹیو پائے جانے  اور سات بچیوں کے حاملہ ہونے کے سلسلہ میں الہ آباد ہائی کورٹ سے مداخلت کرنے کی درخواست کی گئی ہے ۔ معروف قانون داں اور سپریم کورٹ کے وکیل ڈاکٹر فرخ خان نے الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس گوند ماتھر کو خط لکھ کر اس معاملہ میں از خود نوٹس لینے کی درخواست کی ہے ۔


چیف جسٹس کو لکھے اپنے خط میں ایڈو کیٹ فرخ خان نے کہا ہے کہ سرکاری شیلٹر ہوم میں لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی ، آئین میں دئے گئے بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے ۔ خط میں چیف جسٹس سے درخواست کی گئی ہے کہ ہائی کورٹ اس سنگین معاملہ میں از خود نوٹس لیتے ہوئے اپنی نگرانی میں پورے معاملہ کی جانچ کرائے اور قصورواروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے ۔ خط میں شیلٹر ہوم میں رہنے والی بچیوں کے کورونا وائرس پازیٹیو پائے جانے اور سات بچیوں کے حاملہ پائے جانے کو جوینائل جسٹس کے خلاف بتایا گیا ہے ۔


کانپور شیلٹر ہوم واقعہ پر قومی انسانی حقوق کمیشن نے بھی اپنی سخت تشویش کا اظہار کیا ہے ۔
کانپور شیلٹر ہوم واقعہ پر قومی انسانی حقوق کمیشن نے بھی اپنی سخت تشویش کا اظہار کیا ہے ۔


خط میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ شیلٹر ہوم میں رہنے والی بچیوں کی صحت اور ان کی معصومیت کے ساتھ سخت مجرمانہ حرکت کی گئی ہے ۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے اس بات کی گزارش کی گئی ہے کہ وہ اس معاملہ کی جانچ اپنی نگرانی میں کرائیں اور ریاستی حکومت سے اس بارے میں جواب طلب کیا جائے ۔

واضح رہے کہ کانپور شیلٹر ہوم واقعہ پر قومی انسانی حقوق کمیشن نے بھی اپنی سخت تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ انسانی حقوق کمیشن نے تو اس معاملہ میں باقاعدہ یوپی کے چیف سکریٹری اور ڈی جی پی کو نوٹس بھیج کر جواب بھی طلب کیا ہے ۔ دریں اثنا کانپور پولیس انتظامیہ نے شیلٹر ہوم معاملہ میں اپنی جانچ میں کئی طرح کے انکشاف کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ کانپور پولیس کے مطابق شیلٹر ہوم لائی گئی بچیاں پہلے سے ہی حاملہ تھیں ۔

کانپور ایس پی (مغربی حلقہ) کے مطابق سات حاملہ بچیوں میں سے پانچ بچیوں نے اپنے گھر جانے سے انکار کر دیا ۔ جبکہ دو بچیوں کے گھر والوں نے ان کو اپنانے سے انکار کر دیا تھا ۔ پولیس کے مطابق حاملہ بچیاں ریپ اور جنسی استحصال کا شکار ہونے کے بعد شیلٹر ہوم لائی گئی تھیں ۔ لڑکیوں کو جنسی زیادتی کا شکار بنانے والوں کے خلاف پاکسو ایکٹ کے تحت کیس درج ہیں ۔ جس میں پانچ معاملات میں پولیس چارج شیٹ بھی داخل کر چکی ہے ۔
First published: Jun 23, 2020 09:43 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading