உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ایودھیا معاملہ میں مسلم فریقوں کے وکیل رہے راجیو دھون بولے۔ ملک میں مسلمان نہیں ہندو بگاڑتے ہیں امن

    راجیو دھون: فائل فوٹو

    راجیو دھون: فائل فوٹو

    دھون نے کہا ’’ ملک میں امن۔ ہم آہنگی کو ہندو بگاڑتے ہیں مسلمان نہیں۔ ایودھیا معاملہ میں مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے‘‘۔

    • Share this:
      نئی دہلی۔ ایودھیا معاملہ میں مسلم فریقوں کے وکیل رہے راجیو دھون نے متنازعہ بیان دیا ہے۔ نیوز ایجنسی اے این آئی کے مطابق، دھون نے کہا کہ ملک میں امن وسلامتی بگاڑنے کا کام مسلمان نہیں ہندو کرتے ہیں۔ حالانکہ بعد میں انہوں نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ ان کے اس بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔


      راجیو دھون ایودھیا معاملہ میں مسلم فریقوں کا کیس لڑ رہے تھے۔ دھون نے کہا ’’ ملک میں امن۔ ہم آہنگی کو ہندو بگاڑتے ہیں مسلمان نہیں۔ ایودھیا معاملہ میں مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے‘‘۔

      dhawan1

      دھون کی صفائی

      بعد میں ہنگامہ مچنے پر دھون نے اپنے بیان کو لے کر صفائی دی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بیان کا غلط مطلب نکالا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا ’’ یہ ٹی وی چینل کی شرارت ہے۔ جب میں ہندوؤں کی بات کرتا ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں سبھی ہندوؤں کی بات کر رہا ہوں‘‘۔

      دھون کی صفائی
      دھون کی صفائی


      آر ایس ایس پر بھی سادھا نشانہ

      راجیو دھون نے بعد میں آر ایس ایس پر بھی نشانہ سادھا۔ انہوں نے کہا ’’ جب بابری مسجد کو لے کر ہندو لفظ کا استعمال ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے سنگھ پریوار۔ میں نے عدالت میں بھی کہا کہ جن لوگوں نے بابری مسجد کو منہدم کیا وہ لوگ ہندو طالبان ہیں۔ میں سنگھ پریوار کے ان لوگوں کی بات کر رہا ہوں جو تشدد اور لنچنگ کرتے ہیں‘‘۔
      First published: