ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اسیما نند معاملے میں این آئی اے کو اپنی مکمل ذمہ داری نبھانی چاہئے: ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان

مکہ مسجد بم دھماکہ معاملہ میں عدالت سے بری کئے جانے کے بعد این آئی اے نے فیصلہ کے خلاف اپیل نہ کرنے کافیصلہ کیا ہے۔ اس پر معروف سماجی رہنما اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل زیڈ کے فیضان نے کہاکہ این آئی اے کو اپنی ذمہ داری نبھانی چاہئے۔

  • Share this:
اسیما نند معاملے میں این آئی اے کو اپنی مکمل ذمہ داری نبھانی چاہئے: ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان
مکہ مسجد بم دھماکہ معاملہ میں عدالت سے بری کئے جانے کے بعد این آئی اے نے فیصلہ کے خلاف اپیل نہ کرنے کافیصلہ کیا ہے۔ اس پر معروف سماجی رہنما اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل زیڈ کے فیضان نے کہاکہ این آئی اے کو اپنی ذمہ داری نبھانی چاہئے۔

نئی دہلی: مکہ مسجد بم دھماکہ معاملہ میں عدالت سے بری کئے جانے کے بعد این آئی اے نے فیصلہ کے خلاف اپیل نہ کرنے کافیصلہ کیا ہے۔ اس پر معروف سماجی رہنما اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل زیڈ کے فیضان نے کہاکہ این آئی اے کو اپنی ذمہ داری نبھانی چاہئے۔ اگر عدالت نے فیصلہ اس کے خلاف دیا ہے تو جہاں تک ممکن ہو، وہاں تک اس معاملے کی پیروی کرنی چاہئے۔


زیڈ کے فیضان  ایڈوکیٹ نے نیوز 18 اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تفتیشی ایجنسیوں کو حکومت کے دباو میں نہیں آنا چاہئے۔ ایجنسی کا کام یہی ہے کہ وہ پورے معاملے میں غیرجانبدارانہ طریقے سے اپنا کام کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر این آئی اے کے خلاف ٹرائل کورٹ نے فیصلہ دیا تو پھر اسے ہائی کورٹ جانا چاہئے، اگر ہائی کورٹ سے اس کے خلاف فیصلہ آتا ہے تو پھر سپریم کورٹ جانا چاہئے، اگر وہاں سے بھی اس کے خلاف فیصلہ آجائے تب یہ دیکھاجاتا ہے کہ شواہد کی کمی تھی، اس لئے تمام عدالتوں نے اس کے خلاف فیصلہ کیا۔


انہوں نے کہا کہ اگر این آئی اے اس طرح سے فیصلہ کرلے گی کہ اب ہم ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل نہیں کریں گےتو پھر اس کی غیرجانبدار ہونے پر سوال اٹھے گا۔ اس لئے ایجنسیوں کو چاہئے کہ وہ  تفتیش کریں اور ان کا کام ملزمین کو سزا دلانا ہی ہے۔


ایڈوکیٹ فیضان نے یہ بھی کہا کہ اگر یہ ملزمین عدالت سے بری ہوجاتے ہیں تو پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ اصل مجرم کون ہے؟ آخر این آئی اے اب تک کیا کررہی تھی اور اس نے کن ثبوتوں کی بنیاد پر ان کو ملزم بنایا اور اب وہ اپیل بھی نہیں کرنا چاہتی ہے؟ این آئی اے کی ذمہ داری ہے کہ جہاں وہ عدالت کے فیصلے سے متفق نہیں تو پھر اسے آگے کا سہارا لینا چاہئے۔

دراصل مکہ مسجد دھماکہ کیس میں 11 سال بعد 16 اپریل 2018 کے روز فیصلہ سنایا گیا تھا۔ اس معاملہ میں ملزم سوامی اسیمانند سمیت سبھی پانچ ملزمین کو ثبوتوں کے فقدان میں بری کر دیا گیا تھا۔ سوامی اسیمانند اس معاملہ کے اہم ملزمین میں سے ایک تھے۔ اس کے بعد 29 مئی 2018 کو این آئی اے نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اسیمانند کو بری کئے جانے کے بعد ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل نہیں کرے گی۔

قابل ذکر ہے کہ 18 مئی 2007 کو جمعہ کی نماز کے دوران حیدرآباد مکہ مسجد میں ایک دھماکہ ہوا تھا۔ اس دھماکے میں 9 افراد ہلاک جبکہ دیگر 58 زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لئے ہوائی فائرنگ کی تھی جس میں پانچ اور لوگ مارے گئے تھے۔ اس واقعے میں 160 چشم دید گواہوں کے بیانات درج کیے گئے تھے۔

 
First published: May 30, 2018 11:25 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading