உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    طالبانی تشدد اور تعلیماتِ اسلام، کیا کہتے ہیں دانشور و علماء کرام

    افغانستان اور ہندوستان کے مابین ثقافتی اور تہذیبی روابط کے ساتھ ساتھ سیاسی تعلقات بھی ہمیشہ بہتر اور خوشگوار رہے ہیں اور ہندوستان نے افغانستان کی ترقی کے لئے نیک خواہشات پیش کرنے کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات بھی ہمیشہ کئے ہیں ۔

    افغانستان اور ہندوستان کے مابین ثقافتی اور تہذیبی روابط کے ساتھ ساتھ سیاسی تعلقات بھی ہمیشہ بہتر اور خوشگوار رہے ہیں اور ہندوستان نے افغانستان کی ترقی کے لئے نیک خواہشات پیش کرنے کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات بھی ہمیشہ کئے ہیں ۔

    افغانستان اور ہندوستان کے مابین ثقافتی اور تہذیبی روابط کے ساتھ ساتھ سیاسی تعلقات بھی ہمیشہ بہتر اور خوشگوار رہے ہیں اور ہندوستان نے افغانستان کی ترقی کے لئے نیک خواہشات پیش کرنے کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات بھی ہمیشہ کئے ہیں ۔

    • Share this:
    افغانستان میں تشدد کے حالیہ اضافے نے جہاں افغانستان کے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے وہیں پوری دنیا کے امن پسند ممالک اور عوام کو بھی ایک بار پھر طالبانی تشدد اور اسلامی انسلاک کے حوالے سے غور و خوص کرنے کی دعوت دی ہے۔ غزنی، قلعہ نو اور برات سے لشکر گاہ اور قندھار تک پہنچنے والا یہ سلسلہ پوری دنیا کی نگاہوں کا مرکز بنا ہوا ہے اور ایک بار پھر دہشت گردی اور اسلام کے تعلق سے منفی و مثبت نظریات پر مبنی آراء کی باڑھ آگئی ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ کے حالیہ بیانات سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر اور امریکہ و برطانیہ سمیت کئی ممالک کی سیاسی پیش رفت اور امریکہ کی مداخلت کی قیاس آرائیوں نے بھی اس بحران کو مزید پیچیدہ اور اہم بنا دیا ہے۔

    افغانستان اور ہندوستان کے مابین ثقافتی اور تہذیبی روابط کے ساتھ ساتھ سیاسی تعلقات بھی ہمیشہ بہتر اور خوشگوار رہے ہیں اور ہندوستان نے افغانستان کی ترقی کے لئے نیک خواہشات پیش کرنے کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات بھی ہمیشہ کئے ہیں ۔ حالیہ تشدد کے واقعات یوں تو عالم انسانیت کے لئے تکلیف دہ اور افسوس ناک ہیں لیکن جو سلوک ہمارے ملک کے صحافیوں اور وہاں مقیم لوگوں کے ساتھ کیا گیا ہے اس کی مذمت پورا ملک کر رہا ہے اور با لخصوص علماء کرام اور دانشور کررہے ہیں۔ معروف عالم دین اور اسکالر مولانا سفیان نظامی کہتے ہیں کہ اسلام نے ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف اور امن و مساوات کے حق میں پیغام دئے ہیں۔ معصوموں اور بے گناہوں کا قتل کرنے والے لوگوں کے خلاف ہر ممکن اقدامات اور احتجاج کرنے کی تلقین کی ہے۔

    طالبان کی جانب سے بے قصور لوگوں پر برپا کئے جانے والے۔ مظالم کی ہم مذمت کرتے ہیں اور ساتھ ہی افغانستان میں مقیم ہندوستانیوں کے تحفظ کا مطالبہ گی کرتے ہیں۔۔معروف شیعہ عالم دین مولانا علی حسین قمی کہتے ہیں کہ تشدد پسند طالبان نے پوری دنیا میں اسلام کی امیج خراب کی ہے مسلمانوں کو بدنام و رسوا کیا ہے انہیں طالبان نہیں بلکہ دہشت گردوں اور آتنکواد یوں کے نام سے منسوب کرنا چاہئے ۔ مولانا علی حسین قمی نے یہ بھی کہا ہے کہ جب تک افغانستان کے حالات معمول پر نہ آئیں ہمارے ملک کے سفیروں اور وہاں مقیم سبھی ہندوستانیوں کا تحفظ یقینی ہونا چاہئے۔

    گجرات کے معروف دانشور و عالم حسن علی راجانی کے مطابق افغانستان کی تشکیل و قیام سے استحکام تک ہمارے ملک ہندوستان نے ہمیشہ افغانستان کی ہر طرح سے مدد کی ہے اور آج ہمارے ملک کے صحافی اور باشندے ہی محفوظ نہیں یہ نہایت افسوسناک ہے۔ راجانی نے بشمول ہندوستان سبھی امن پسند ممالک خاص طور پر اسلامی ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ طالبان کو قابو میں رکھنے کے لئے مستحکم حکمت عملی وضع کریں ورنہ پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کی شبیہ خراب ہوجائے گی اور اسلام کی صحیح تعمیماتِ و پیغام لوگوں تک نہیں پہنچ سکیں گے ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: