உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستان کی اس بچی کے علاج کے لئے ایک ٹویٹ پر سشما سوراج نے دلایا تھا ویزا

    سشما سوراج: فائل فوٹو

    سشما سوراج: فائل فوٹو

    کراچی کے رہنے والے سراج کو اپنی بیٹی کا آپریشن کرانا بہت ضروری تھا۔ ایسے میں جب سشما سوراج نے مدد کی تو کنبہ کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے۔

    • Share this:
      یوں تو بی جے پی کی قدآور لیڈر اور سابق وزیر خارجہ سشما سوراج نے صرف ایک ٹویٹ پر تمام لوگوں کو مدد پہنچائی ہے، لیکن ایک پاکستانی کنبہ ایسا ہے جو انہیں بیحد یاد کر رہا ہے۔ دراصل، یہ کنبہ پاکستان کے کراچی کا رہنے والا ہے۔

      کراچی کے سراج احمد اور ان کی اہلیہ ہیرا ستمبر 2016 میں اپنی 15 ماہ کی بچی کو دل کے آپریشن کے لئے نوئیڈا کے ایک اسپتال لائے تھے۔ اس وقت اس کنبہ کو آسانی سے ویزا مل گیا تھا۔ لیکن اس کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تلخیاں مسلسل بڑھتی گئیں اور ویزا لینا مشکل ہو گیا۔

      بچی کا ایک آپریشن ہو چکا تھا۔ وقت تیزی سے گزر گیا۔ کچھ وقت کے بعد سراج احمد کو اپنی بچی کے علاج کے لئے پھر سے نوئیڈا لانا تھا۔ لیکن اس بار انہیں ویزا نہیں ملا۔ ان کی بچی کی طبیعت خراب ہونے لگی۔ ایسے میں انہیں کسی نے ہندوستان کی وزیر خارجہ سشما سوراج کے بارے میں بتایا۔ سراج کو بتایا گیا کہ سشما سوراج صرف ایک ٹویٹ پر لوگوں کی مدد کو تیار ہو جاتی ہیں۔ اس کے بعد سراج نے 18 اکتوبر کو اپنا ٹوئٹر اکاؤنٹ کھولا اور سیدھے سشما سوراج کو ٹویٹ کر دیا۔ بس پھر کیا تھا، ادھر سراج نے بیٹی کے علاج کے لئے ہندوستان آنے کی گہار لگائی ، ادھر ان کے پاس ہندوستانی ہائی کمیشن سے فون چلا گیا۔ سراج کو بتایا گیا کہ انہیں کراچی میں ہی ویزا دستیاب کرا دیا جائے گا۔ سراج کو اپنی بیٹی کا آپریشن کرانا بہت ضروری تھا۔ ایسے میں جب سشما سوراج نے مدد کی تو کنبہ کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے۔

      سشما سوراج نے صرف ویزا دلا کر ہی کنبہ سے پلہ نہیں جھاڑا ، بلکہ بچی کے علاج میں کسی طرح کی کوئی تاخیر نہ ہو، اس بات کا بھی خیال رکھا۔ سراج نے اس وقت ای ٹی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ان کے کنبہ کو دہلی ائیرپورٹ پر کسٹم کے افسران نے ریسیو کیا۔ لائن میں لگنے پر کسی طرح کا وقت برباد نہ ہو اس کے لئے انہیں الگ سے باہر نکالا گیا اور سیدھے نوئیڈا کے جی پی اسپتال لے جایا گیا۔ وہ سراج کی بیٹی کا دوسرا ہارٹ آپریشن تھا۔

      اب 10 سال بعد ہو گی سرجری 

      فی الحال سراج کی بیٹی صحت مند ہے۔ اس کی تیسری سرجری ہونی ہے۔ اس کے لئے جے پی اسپتال نے 10 سال بعد انہیں دوبارہ بلایا ہے۔ وقت ابھی دور ہے۔ اب ہمارے درمیان سشما جی جیسی عظیم لیڈر بھی نہیں ہیں۔ سراج کہتے ہیں کہ انہیں یقین ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان جو تلخی ہے وہ دور ہو گی اور جب وہ 10 سال بعد اپنی بیٹی کو پھر سے ہندوستان لے کر آئیں گے تو شاید انہیں آسانی سے ویزا مل جائے گا۔ اس بیچ وہ نہ تو سشما جی کا شکریہ ادا کرنا بھولتے ہیں اور نہ ہی ہندوستان کے ڈاکٹروں کا۔
      First published: