உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Ghulam Nabi Azad: غلام نبی آزاد نے دیا کانگریس کو جھٹکا! کون کون لیڈران نے کانگریس کو کہا الوداع

    Youtube Video

    جیوترادتیہ سندھیا (Jyotiraditya Scindia) نے 2018 میں مدھیہ پردیش میں کانگریس کو اقتدار میں واپس آنے میں مدد کی، پارٹی کے ساتھ اپنی 18 سالہ وابستگی ختم کر دی اور مارچ 2020 میں ریاست میں پارٹی قیادت کے سامنے استعفیٰ دے دیا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Hyderabad | Jammu | Maharashtra | Karnataka | West Bengal
    • Share this:

      سوربھ ورما


      حالیہ برسوں میں لوک سبھا اور ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں مایوس کن کارکردگی کے بعد کانگریس کے کئی چہرے اپنی ہی پارٹی کو الوداع کہ رہے ہیں۔ کئی نوجوان اور مقبول لیڈروں نے تو اپنے مستقبل کو لے کر استعفیٰ دے دیا۔ اس کے برعکس کچھ بڑے لیڈران اپنی ناراضگی کے باوجود وزیر یا ایم پی کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں


      تیس سالہ جیویر شیرگل (Jaiveer Shergill) ایک تازہ ترین نام ہے جنھوں نے پارٹی چھوڑی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی میں فیصلہ سازی مخصوص گروہ سے متاثر ہے، یہ مسئلہ کانگریس پارٹی کو طویل عرصے سے بیمار کررہا ہے۔ اس مسئلہ کو ماضی میں کئی پارٹی رہنماؤں نے اٹھایا ہے۔ تاہم شیرگل نے اپنے مستقبل کے لائحہ عمل پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

      یہاں ان نوجوان رہنماؤں کی فہرست پیش ہے جنہوں نے حالیہ برسوں میں کانگریس پارٹی چھوڑ دی ہے۔

      ہاردک پٹیل

      ہاردک پٹیل (Hardik Patel) 2015 کے پاٹیدار کوٹہ احتجاج کے ایک چہرے کے طور پر ابھرے اور کچھ سیاسی پنڈتوں نے انھیں گجرات کی سیاست کے مستقبل کے طور پر پیش کیا۔ تاہم احتجاج کے بعد وہ ایک بار پھر بڑے پیمانے پر احتجاج کے لیے ایک بڑا ہجوم اکٹھا نہیں کر سکے اور تب سے سیاسی حلقوں میں مشہور رہے۔ انہوں نے لوک سبھا انتخابات سے قبل 2019 میں کانگریس میں شمولیت اختیار کی لیکن وہ اپنی پارٹی کے لیے کوئی فرق کرنے میں ناکام رہے کیونکہ بی جے پی نے گجرات میں تمام پارلیمانی سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔

      جیوتیرادتیہ سندھیا

      جیوترادتیہ سندھیا (Jyotiraditya Scindia) نے 2018 میں مدھیہ پردیش میں کانگریس کو اقتدار میں واپس آنے میں مدد کی، پارٹی کے ساتھ اپنی 18 سالہ وابستگی ختم کر دی اور مارچ 2020 میں ریاست میں پارٹی قیادت کے سامنے استعفیٰ دے دیا۔ سندھیا کے وفادار کم از کم 20 ایم ایل ایز نے اپنی اسمبلی کی رکنیت چھوڑ دی جس کے نتیجے میں کمل ناتھ حکومت گر گئی۔

      بعد میں سندھیا نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی اور راجیہ سبھا کے لیے بھی منتخب ہوئے۔ 2021 میں کابینہ میں ردوبدل کے بعد انہیں وزیر اعظم نریندر مودی کی کابینہ میں شامل کیا گیا۔ انہیں شہری ہوا بازی کے وزیر کا قلمدان دیا گیا۔ یہ عہدہ ان کے والد اور آنجہانی کانگریس لیڈر مادھو راؤ سندھیا بھی 1991 سے 1993 تک رہے تھے۔ گزشتہ ماہ انہوں نے آر سی پی سنگھ کی جگہ سٹیل کی وزارت کا اضافی چارج سنبھالا۔

      جتن پرساد:

      یہ بھی پڑھیں:

      Raja Singh: راجہ سنگھ منگل ہارٹ پولیس اسٹیشن کا روڈی شیٹر، حیدرآباد پولیس کا دعویٰ، PD ایکٹ کا نفاذ



      جون 2021 میں پرساد نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی اور یوگی آدتیہ ناتھ کی کابینہ کا حصہ بن گئے۔ جتن پرساد (Jitin Prasada) اتر پردیش میں کانگریس کا ایک نمایاں برہمن چہرہ تھا۔ یوتھ کانگریس سے اپنے کیریئر کا آغاز کرنے والے پرساد پہلی بار 2004 میں لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئے تھے۔



      یہ بھی پڑھیں:

      Hyderabad : ٹی راجا سنگھ کے خلاف احتجاج جاری ، درجنوں مظاہرین کو کیا گیا گرفتار

      وہ مرکز میں یو پی اے کے دور حکومت میں وزیر تھے۔ کانگریس نے انہیں 2021 کے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کا انچارج مقرر کیا۔ تاہم پارٹی کو مغربی بنگال میں ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

       
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: