உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    لاک ڈاون میں سینئر سافٹ ویئر انجینئر کو نوکری سے نکالا تو اس نے لیا ایسا بدلہ ، کمپنی مالک کے اڑ گئے ہوش

    لاک ڈاون میں سینئر سافٹ ویئر انجینئر کو نوکری سے نکالا تو اس نے لیا ایسے بدلہ ، کمپنی کے اڑ گئے ہوش

    لاک ڈاون میں سینئر سافٹ ویئر انجینئر کو نوکری سے نکالا تو اس نے لیا ایسے بدلہ ، کمپنی کے اڑ گئے ہوش

    دہلی پولیس نے ایک ایسے ہیکر کو گرفتار کیا ہے ، جس نے چار سائبر حملے کرکے 18 ہزار مریضوں کا ڈیٹا ڈیلیٹ کردیا ۔ اس کے علاوہ اس ہیکر نے تین لاکھ مریضوں کی بلنگ سے وابستہ جانکاری حاصل کی اور 22 ہزار مریضوں کی فرضی انٹری کردی ۔

    • Share this:
      دہلی پولیس نے ایک ایسے ہیکر کو گرفتار کیا ہے ، جس نے چار سائبر حملے کرکے 18 ہزار مریضوں کا ڈیٹا ڈیلیٹ کردیا ۔ اس کے علاوہ اس ہیکر نے تین لاکھ مریضوں کی بلنگ سے وابستہ جانکاری حاصل کی اور 22 ہزار مریضوں کی فرضی انٹری کردی ۔ اس شخص کی شناخت وکیش شرما کے طور پر کی گئی ہے ۔

      نارتھ ویسٹ ضلع کے ڈی سی پی وجینت آریہ کے مطابق ایزی سالیوشن پرائیویٹ لیمیٹڈ کے سی ای او کنال اگرال نے شکایت کی کہ کسی نامعلوم شخص نے کورونا کے کچھ اسپتالوں اور دیگر اسپتالوں کا ڈیٹا ہیک کرلیا ہے ۔ اس شکایت کے بعد سائبر سیل نے کیس درج کرکے معاملہ کی جانچ شروع کی ۔ جانچ میں ہیکر کا آئی پی ایڈریس شاہدرہ کا ملا ، جو وکیش شرما کے نام سے تھا ۔ دہلی پولیس نے شاہدرہ میں چھاپہ ماری کر کے وکیش شرما کو گرفتار کرلیا ہے ۔ پوچھ گچھ میں ملزم نے اپنی غلطی کا اعتراف بھی کرلیا ہے ۔

      ملزم وکیش شرما نے بتایا کہ اس نے آئی ٹی سے ایم ایس سی کیا ہے اور وہ شکایت کنندہ کی ہی کمپنی میں سینئر سافٹ ویئر انجینئر کے طور پر کام کرتا تھا ۔ لاک ڈاون میں کمپنی نے اس کی سیلری میں کٹوتی کرکے اس کو نوکری سے نکال دیا ، تب اس نے اس کا بدلہ لینے کی بات سوچی ۔

      ملزم نے بتایا کہ اس کے پاس کمپنی کی ویب سائٹ کی پوری جانکاری تھی ، اس لئے اس نے نوکری جانے کے بعد فیصلہ کیا کہ کمپنی کا ایسا نقصان کیا جائے کہ وہ گھٹنے ٹیک دے اور پھر مدد کیلئے مالک اس کے پاس آئے ۔ اسی مقصد سے اس نے چار سائبر حملے کرکے 18 ہزار مریضوں کا ڈیٹا ڈیلیٹ کردیا ۔ تین لاکھ مریضوں کی بلنگ سے وابستہ جانکاری حاصل کی اور 22 ہزار مریضوں کی فرضی انٹری کردی ، جس کی وجہ سے کمپنی کو کافی زیادہ نقصان ہوا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: