ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

میرٹھ میں کاروباریوں کے بعد اب وکلاء پر بے روزگاری کی مار 

کورٹ کچہری کے معمولات کے کام کاج کے ذریعے روزگار حاصل کرنے والے زیادہ تر وکلاء گزشتہ چار ماہ سے بے روزگار ہیں

  • Share this:
میرٹھ میں کاروباریوں کے بعد اب وکلاء پر بے روزگاری کی مار 
میرٹھ میں کاروباریوں کے بعد اب وکلاء پر بے روزگاری کی مار 

میرٹھ ۔ کورونا وبا کے قہر نے عام زندگی اور کاروبار کے ساتھ کورٹ کچہری کے کام کاج کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ لاک ڈاؤن ون کی شروعات کے بعد سے بند کورٹ کچہری کا کام انلاک کی بعد سے اب تک مکمّل طور پر شروع نہیں ہو سکا ہے ۔ چار ماہ سے بند میرٹھ ضلع کورٹ اور کچہری میں بھی روز کے کام کاج  معمول پر نہ لوٹنے سے وکلاء اور  کورٹ کچہری کے دیگر معاملات سے وابستہ افراد کا روزگار بری طرح متاثر ہوا ہے۔ کورٹ کچہری میں معمولات کے کام سے روزگار حاصل کرنے والے وکلاء کی پریشانی کو پیش نظر رکھتے ہوئی اب آل انڈیا لائرس ایسوسی ایشن نے میرٹھ اور یو پی بار ایسوسی ایشن کے سامنے اپنے مطالبات پیش کرتے ہوئے بار ایسوسی ایشن کے فنڈ سے ضرورتمند وکلاء کی مدد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔


آل انڈیا لائرس یونین کے صدر ایڈوکیٹ عبد الجبار خاں کا کہنا ہے کہ سماجوادی پارٹی کی اکھلیش حکومت میں وکیلوں کے ویلفیئر فنڈ کے لیے سرکار کی جانب سے سال میں 40 کروڑ روپئے ملتے تھے لیکن بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد یوگی سرکار نے اس فنڈ کو بند کر دیا ہے۔ اس معاملے میں پہلے بھی ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی گئی ہے اور کوٹ نے بھی سو موٹو کے تحت اپنے اختیار سے ویلفیئر فنڈ جاری کرنے کی ہدایت دی تھی لیکن اس کے باوجود کوئی سرکاری امداد نہیں دی جا رہی ہے۔


وہیں کورونا وبا کے ان حالات میں جبکہ نوکری پیشہ سے لیکر کاروباری طبقہ تک پریشان ہے، وکلاء برادری بھی ان حالات میں بے روزگاری سے دو چار ہے۔ کورٹ کچہری کے معمولات کے کام کاج کے ذریعے روزگار حاصل کرنے والے زیادہ تر وکلاء گزشتہ چار ماہ سے بے روزگار ہیں اور ابھی بھی کورٹ کچہری میں مکمّل طور پر کام شروع نہ ہونے سے حالات بہتر ہوتے بھی نظر نہیں  آ رہے ہیں۔ ایسے میں ضلع بار اور یو پی بار ایسوسی ایشن کو مدد کی پیش رفت کرنی ہوگی۔

Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jul 22, 2020 07:41 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading