உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    این ایس جی میں ہندوستان کی شمولیت کو دھچکا ، چین کے بعد برازیل سمیت پانچ ممالک نے کی مخالفت

    نئی دہلی : جوہری سپلائر گروپ این ایس جی میں ہندوستان کی انٹری کو ایک اور دھچکا لگا ہے ۔ اب تک چین این ایس جی میں ہندوستان کی رکنیت کی مخالفت کر رہا تھا ، لیکن اب برازیل، نیوزی لینڈ اور آسٹریا جیسے ممالک بھی ہندوستان کو اس ایلیٹ گروپ میں رکنیت دینے کے خلاف ہیں ۔

    نئی دہلی : جوہری سپلائر گروپ این ایس جی میں ہندوستان کی انٹری کو ایک اور دھچکا لگا ہے ۔ اب تک چین این ایس جی میں ہندوستان کی رکنیت کی مخالفت کر رہا تھا ، لیکن اب برازیل، نیوزی لینڈ اور آسٹریا جیسے ممالک بھی ہندوستان کو اس ایلیٹ گروپ میں رکنیت دینے کے خلاف ہیں ۔

    نئی دہلی : جوہری سپلائر گروپ این ایس جی میں ہندوستان کی انٹری کو ایک اور دھچکا لگا ہے ۔ اب تک چین این ایس جی میں ہندوستان کی رکنیت کی مخالفت کر رہا تھا ، لیکن اب برازیل، نیوزی لینڈ اور آسٹریا جیسے ممالک بھی ہندوستان کو اس ایلیٹ گروپ میں رکنیت دینے کے خلاف ہیں ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : جوہری سپلائر گروپ این ایس جی میں ہندوستان کی انٹری کو ایک اور دھچکا لگا ہے ۔ اب تک چین این ایس جی میں ہندوستان کی رکنیت کی مخالفت کر رہا تھا ، لیکن اب برازیل، نیوزی لینڈ اور آسٹریا جیسے ممالک بھی ہندوستان کو اس ایلیٹ گروپ میں رکنیت دینے کے خلاف ہیں ۔ خبریں آ رہی ہیں کہ برازیل ، نیوزی لینڈ اور ترکی سمیت پانچ ممالک نیوکلیئر سپلائر گروپ میں انٹری کی مخالفت کر رہے ہیں ۔

      ادھر ہندوستان اس گروپ شامل ہونے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے ۔ ہندوستان کے انہیں کوششوں کے درمیان وزیر اعظم مودی نے آج چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی اور پی ایم مودی نے چین کے صدر سے این ایس جی کے لئے حمایت مانگی ۔

      این ایس جی کی رکنیت کے لئے چین سے حمایت طلب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے جن پنگ سے درخواست کی کہ ہندوستان کی درخواست پر منصفانہ طریقہ سے غور کیا جائے ، جو سیول میں جاری 48 ممالک کے گروپ کے مکمل اجلاس کے سامنے ہے ۔ دونوں رہنماوں کے درمیان یہ ملاقات تقریبا 50 منٹ تک چلی ۔
      First published: