உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شکست کے بعد ساجوادی پارٹی کی بڑی میٹنگ، سرپرست ملائم سنگھ بھی ہوئے شامل

    اکھلیش یادو اورملائم سنگھ یادو: فائل فوٹو

    اکھلیش یادو اورملائم سنگھ یادو: فائل فوٹو

    کہا جارہا ہے زبردست شکست کے بعد اکھلیش یادو تنظیم میں بڑی تبدیلی کرسکتے ہیں۔ ساتھ ہی ریاستی صدرکو بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

    • Share this:
      بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے ساتھ اتحاد کرنے کے باوجود لوک سبھا الیکشن میں ملی شکست کے بعد سماجوادی پارٹی (ایس پی) میں غوروخوض اورجائزہ کا عمل جاری ہے۔ پیر کوقومی صدراکھلیش یادونےلکھنومیں پارٹی دفترپرپارٹی لیڈروں کی میٹنگ طلب کی۔ اس دوران سماجوادی پارٹی کے سرپرست ملائم سنگھ یادو بھی موجود رہے۔

      کہا جارہا ہے کہ شکست کے بعد اکھلیش یادو پارٹی تنظیم میں بڑی تبدیلی کرسکتےہیں۔ ساتھ ہی ریاستی صدرکوبھی تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اتنا ہی نہیں تمام اسٹوڈنٹ یونٹ کے صدور اور ضلع صدورکوبھی تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ ساتھ ہی اس بات پر بھی غوروخوض کیا جارہا ہے کہ شکست کی وجہ کیا رہی۔ ساتھ ہی منفی کام کرنے والے لیڈروں کے خلاف بھی کارروائی کی جاسکتی ہے۔

      واضح رہے کہ بی ایس پی  کے ساتھ  اتحاد کے باوجود سماجوادی پارٹی کو محض پانچ سیٹیں ہی حاصل ہوئی ہیں۔ اتنا ہی نہیں سماجوادی پارٹی کا گڑھ کہے جانے والے قنوج، بدایوں اور فیروزآباد میں فیملی کے ارکان بھی ہارگئے۔ کہا جارہا ہے کہ پارٹی میں زمینی لیڈروں کو نظر اندازکرنے کا خمیازہ پارٹی کوبھگتنا پڑا ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہےکہ اکھلیش یادو 2022 میں اسمبلی انتخابات اور11 سیٹوں پرہونے والے ضمنی الیکشن سے قبل تنظیم کوچست درست کرنے میں مصروف ہوگئے ہیں۔

      ذرائع کی باتوں پراگریقین کریں تو اکھلیش یادو اب ملائم سنگھ یادو کی طرح ہی تنظیم کو مضبوط کرسکتے ہیں۔ تنظیم کا ڈھانچہ ٹھیک اسی طرح ہوگا، جیسا کبھی ملائم سنگھ یادو کے وقت میں ہوا کرتا تھا، جس میں کرمی کے بڑے لیڈرکے طورپربینی پرساد ورما تھے۔ مسلم لیڈرکے طورپراعظم خان، برہمن چہرے کے طورپرجنیشورمشرا اورراجپوت لیڈرکے طور پرموہن سنگھ ہوا کرتے تھے۔ موجودہ وقت میں پارٹی کے پاس ایسے لیڈرنہیں ہیں، جو ہیں بھی انہیں پارٹی میں آگےنہیں بڑھایا گیا۔ یہی وجہ ہےکہ اکھلیش یادوکی پوری توجہ تنظیم میں تبدیلی کرنے کی ہے۔
      First published: