உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Agra: آگرہ کےمیئرنےکیااورنگزیب کی تختیوں کو ہٹانے کا مطالبہ، ’اورنگ زیب کے لیے ہندوستان میں کوئی جگہ نہیں‘

    آگرہ کےمیئرنےکیااورنگزیب کی تختیوں کو ہٹانے کا مطالبہ

    آگرہ کےمیئرنےکیااورنگزیب کی تختیوں کو ہٹانے کا مطالبہ

    اس ضمن میں ممکنہ خطرات کے پیش نظر مہاراشٹرا پولیس اور آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) نے اس مقام پر اضافی گارڈز اور ایک وین تعینات کر دی ہے، حالانکہ یہ اب بھی عوام کے لیے کھلا ہے۔ اضافی سیکورٹی کو فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے لاڈ نے پوچھا کہ کیا یہ چیف منسٹر ادھو ٹھاکرے کا ’ہندوتوا برانڈ‘ ہے، جب ہنومان چالیسہ کا نعرہ لگانا غداری سمجھا جاتا ہے۔

    • Share this:
      آگرہ کے میئر نوین جین (Agra mayor Naveen Jain) نے بدھ کے روز کہا کہ انہوں نے میئر کونسل کے قومی صدر کی حیثیت سے تمام میئروں سے مغل بادشاہ اورنگزیب کی تمام تختیاں تمام جگہوں سے ہٹانے کی اپیل کی ہے۔ میئر نے کہا کہ اورنگ زیب ایک ظالم حکمران تھا جس نے ہندو مندروں کو تباہ کیا اور ہندو برادری کے لوگوں کو بھی اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اورنگ زیب کے لیے ہندوستان میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔

      یہ تبصرہ اے آئی ایم آئی ایم لیڈر اکبرالدین اویسی (AIMIM leader Akbaruddin Owaisi) کے اورنگ آباد میں اورنگ زیب کے مقبرے کے حالیہ دورہ پر تنازع کے درمیان آیا ہے۔ ان کے دورے کے بعد بدھ کو یہاں بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) اور مہاراشٹر نونرمان سینا (MNS) کی طرف سے 'اکھاڑ پھینکنے' کے مطالبات کے بعد خلد آباد میں اورنگ زیب کی قبر کے اندر اور اس کے ارد گرد سیکورٹی کو سخت کر دیا گیا تھا۔

      جہاں منگل کو ایم این ایس کے کارکن گجانن کالے نے اورنگ زیب کی قبر کو محفوظ کرنے کی ضرورت پر سوال اٹھایا، وہیں بی جے پی کے ایم ایل سی پرساد لاڈ نے دھمکی دی کہ وہ چھوٹی یادگار کو ہٹا دیں گے جو اورنگ آباد اور اس کے آس پاس کے سیاحوں کے لیے پرکشش مقامات میں سے ایک ہے۔

      اس ضمن میں ممکنہ خطرات کے پیش نظر مہاراشٹرا پولیس اور آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) نے اس مقام پر اضافی گارڈز اور ایک وین تعینات کر دی ہے، حالانکہ یہ اب بھی عوام کے لیے کھلا ہے۔ اضافی سیکورٹی کو فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے لاڈ نے پوچھا کہ کیا یہ چیف منسٹر ادھو ٹھاکرے کا ’ہندوتوا برانڈ‘ ہے، جب ہنومان چالیسہ کا نعرہ لگانا غداری سمجھا جاتا ہے۔

      لاڈ نے مبنیہ طور پر پوچھا کہ کیا یہ وہی اورنگ زیب ہے جس نے چھترپتی سنبھاجی مہاراج (چھترپتی شیواجی مہاراج کے بیٹے) کو پھانسی دی تھی، مسجدیں بنانے کے لیے ہندو مندروں کو گرایا تھا۔ اب وزیراعلیٰ اورنگزیب کی قبر کی حفاظت کر رہے ہیں۔ کیا یہ سونیا گاندھی-شرد پوار کا ہندوتوا انداز ہے یا آنجہانی بالا صاحب ٹھاکرے کا ہندوتوا۔

      مزید پڑھیں: Rahul Bhatt کے قتل کے بعد احتجاج، ان کی اہلیہ و بیٹی کو حکومت سے معاوضہ دلانے کا مطالبہ

      انہوں نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر نئے حفاظتی اقدامات کو ختم کرے اور مغل بادشاہ کی قبر کو اکھاڑ پھینکنے کا عزم کیا۔ گیانواپی مسجد سے متعلق مقدمات وارانسی کی عدالت اور سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں، ان کو بھی مغل بادشاہ اورنگ زیب نے تعمیر کیا تھا۔

      مزید پڑھیں: جموں۔کشمیر کی آب و ہوا میں زہر گھولنے والے Yasin Malik کے گناہوں کا آج ہوگا فیصلہ، ہو سکتی ہے عمر قید!

      درخواستوں میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اورنگ زیب نے دو ہزار سال قبل تعمیر کیے گئے کاشی وشوناتھ مندر کو منہدم کر کے اس کی جگہ مسجد تعمیر کر دی تھی۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: