ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

نئے زرعی بلوں سے کسانوں کو کیوں ہے ناراضگی، جس کی مخالفت میں اکالی دل کو حکومت چھوڑنا پڑا

کسانوں کو ڈر اس بات کا ہے کہ اب انہیں ایم ایس پی پر معاوضہ نہیں مل سکے گا ، جبکہ کمیشن ایجنٹوں کو خدشہ ہے کہ انہیں اپنا کمیشن نہیں ملے گا۔ کسانوں کو اس بات کا اندیشہ ہے کہ ان بلوں سے کم از کم امدادی قیمت نظام کو ختم کرنے کا راستہ صاف ہو گا اور وہ بڑے کارپورٹ گھرانوں کے ' رحم' کے بھروسے رہ جائیں گے۔

  • Share this:
نئے زرعی بلوں سے کسانوں کو کیوں ہے ناراضگی، جس کی مخالفت میں اکالی دل کو حکومت چھوڑنا پڑا
کسان امرتسر میں کابینہ کے پاس کردہ نئے آرڈیننس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے: فائل فوٹو۔ فوٹو اے این آئی۔

 نئی دہلی۔ کسانوں سے متعلق تین بلوں (New Agriculture Bills) کے لوک سبھا میں پاس ہونے کے بعد پارلیمنٹ سے لے کر سڑک تک ہنگامہ مچا ہوا ہے۔ حکومت فی الحال اس معاملہ میں جھکنے کو تیار نہیں ہے۔ ان بلوں کو لے کر قومی جمہوری اتحاد میں بھی پھوٹ پڑتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ این ڈی اے (NDA) کی قدیم حلیف شرومنی اکالی دل (بادل) (SAD) کی لیڈر اور ڈبہ بند خوراک صنعت کی مرکزی وزیر ہرسمرت کور بادل نے کسانوں کے معاملے پر جمعرات کو استعفی دے دیا ہے۔ سمرت کور نے اپنا استعفی وزیراعظم نریندر مودی کو ارسال کیا۔ جس کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعہ استعفیٰ منظور کرنے کی سفارش پر صدر رام ناتھ کووند نے ہرسمرت کور بادل کا مرکزی کابینہ سے استعفیٰ فوری طور پر قبول کرلیا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 75 کی ذیلی دفعہ 2 کے تحت صدر کووند نے مرکزی وزیر برائے فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز ہرسمرت کور بادل کا استعفیٰ قبول کیا۔ وزیراعظم کے مشورے پر صدر کووند نے وزیر برائے زراعت نریندر سنگھ تومر کو مرکزی وزارت فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز کا چارج سونپا ہے۔ اب وہ وزارت زراعت کے ساتھ ساتھ وزارت برائے فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز کے کام بھی دیکھیں گے۔

اس سے پہلے ہرسمرت کور نے ٹوئٹ کرکے اپنے استعفی کی اطلاع دی۔ انہوں نے کہا کہ 'وہ کسان مخالف آرڈیننس کی مخالفت کرتی ہوئی مرکزی کابینہ سے استعفی دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں فخر ہے کہ وہ کسانوں کے ساتھ ان کی بیٹی اور بہن کے طور پر کھڑی ہیں'۔

اکالی دل ان بلوں کے خلاف کیوں ہے؟


دراصل، کسان اکالی دل کا سب سے بڑا ووٹ بینک ہیں۔ اسی لئے اکالی دل کسانوں کی ناراضگی مول لے کر اپنا نقصان کرنا نہیں چاہتا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اس پارٹی کے لئے بقا کا سوال ہے جس نے 2017 کی شکست سے قبل 2007 کے بعد سے مسلسل دو مرتبہ کامیابی حاصل کی۔ ایس اے ڈی-بی جے پی اتحاد نے صرف 15 فیصد نشستیں حاصل کیں جبکہ کانگریس نے 1957 کے بعد اپنی سب سے مضبوط کامیابی حاصل کی تھی۔


کسانوں کو  ڈر اس بات کا ہے کہ اب انہیں ایم ایس پی پر معاوضہ نہیں مل سکے گا ، جبکہ کمیشن ایجنٹوں کو خدشہ ہے کہ انہیں اپنا کمیشن نہیں ملے گا۔ کسانوں کو اس بات کا اندیشہ ہے کہ ان بلوں سے کم از کم امدادی قیمت نظام کو ختم کرنے کا راستہ صاف ہو گا اور وہ بڑے کارپورٹ گھرانوں کے ' رحم' کے بھروسے رہ جائیں گے۔ پنجاب زرعی یونیورسٹی کے ایک مطالعے کے مطابق ، پنجاب میں 12 لاکھ سے زیادہ کاشتکار کنبے  اور 28،000 رجسٹرڈ کمیشن ایجنٹ ہیں۔ ریاست کی معیشت کا ایک بہت بڑا حصہ مرکزی خریداری ایجنسیوں جیسے فنڈ کارپوریشن آف انڈیا (ایف سی آئی) کے ذریعہ لگائے گئے فنڈز پر منحصر ہے۔
اب مظاہرین کو خوف ہے کہ ایف سی آئی اب ریاستی منڈیوں سے خریداری نہیں کرسکے گا جس سے بچولیوں / کمیشن ایجنٹوں کو 2.5 فیصد کمیشن سے محروم ہونا پڑے گا۔ مزید برآں، ریاست خود ہی 6 فیصد کمیشن سے محروم ہوجائے گی جو وہ خریداری ایجنسی پر چارج کرتی تھی۔

وہیں، وزیر اعظم نریندر مودی نے زراعت سے متعلق بلوں کے سلسلے میں ہورہی مخالفت پر انہیں تاریخی بتاتے ہوئے کہا کہ کسانوں کو گمراہ کرنے میں بہت ساری طاقتیں لگی ہوئی ہیں اور کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) اور سرکاری خریداری کا انتظام برقرار رہے گا اور کسان بااختیار ہوں گے۔ مودی نے لوک سبھا میں بلوں کے پاس ہونے پر دیر رات کئی ٹوئٹ کئئے۔ انہوں نے کہا ’’لوک سبھا میں تاریخی زرعی اصلاحات کے بلوں کی منظوری ملک کے کسانوں اور زرعی شعبے کے لئے ایک اہم لمحہ ہے۔ یہ بل کسانوں کو صحیح معنوں میں بچولیوں اور تمام رکاوٹوں سے آزاد کر دے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ان زرعی اصلاحات سے کاشتکاروں کو اپنی پیداوار کو فروخت کرنے کے نئے مواقع میسر آئیں گے جس سے ان کے منافع میں اضافہ ہوگا۔ اس سے ہمارے زراعت کے شعبے کو جدید ٹکنالوجی کا فائدہ ملے گا، وہیں کاشتکار بااختیار ہوں گے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Sep 18, 2020 02:45 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading