ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

یوپی اسمبلی انتخابات میں اکثریتی ووٹوں کی صف بندی کے مقصد سے بھوپال انکاونٹر کو انجام دیا گیا : احمد بخاری

ملک کا سماجی ، اقتصادی اورسیاسی نظام ایک زبردست کشمکش اور اتھل پتھل سے دوچارہے۔آج پوراملک عجیب نازک دورسے گزررہاہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Nov 04, 2016 05:32 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
یوپی اسمبلی انتخابات میں اکثریتی ووٹوں کی صف بندی کے مقصد سے بھوپال انکاونٹر کو انجام دیا گیا : احمد بخاری
ملک کا سماجی ، اقتصادی اورسیاسی نظام ایک زبردست کشمکش اور اتھل پتھل سے دوچارہے۔آج پوراملک عجیب نازک دورسے گزررہاہے۔

نئی دہلی: گزشتہ دنوں بھوپال سینٹرل جیل سے فرار ہونے والے کالعدم تنظیم سیمی کے زیر سماعت 8 قیدیوں کے مبینہ انکاؤنٹر میں مارے جانے پر شاہی امام سید احمد بخاری نے شدید رنج و غم اور ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھوپال میں قانون کے محافظوں کے ذریعہ اقلیتی فرقے کے 8 افراد کے مبینہ قتل میں حساس دل رکھنے والے تمام انسانوں کو شدید تکلیف پہنچائی ہے۔

آج یہاں نماز جمعہ سے قبل اپنے خطبہ میں شاہی امام نےالزام لگایا کہ پورے ملک میں مسلمانوں کے خلاف شدید اشتعال انگیزی کاماحول بنایا جارہا ہے۔ ملک کا سماجی ، اقتصادی اورسیاسی نظام ایک زبردست کشمکش اور اتھل پتھل سے دوچارہے۔آج پوراملک عجیب نازک دورسے گزررہاہے۔ ہرفرقے اورطبقے کے لوگ ایک عجیب وغریب ذہنی الجھن میں مبتلا ہیں۔ایسامحسوس ہوتاہے کہ مزید کچھ ہونے والاہے۔مگریہ نہیں معلوم کہ جوہونے والاہے وہ کیاہوگا۔ملک ایسے لمحات سے گزررہاہے جن لمحات میں بڑی بڑی تبدیلیاں آتی ہیں اورحالات ایساپلٹاکھاتے ہیں کہ زندگی کے دھارے بدل جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج ہندستانی جمہوریت کے سامنے ملک کے تمام باشندوں کے ساتھ برابر کا سلوک کی پالیسی اپنے ، شرافت اور تہذیبی اقدار اور امن و امان کے تعلق سے اہم سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ لاقانونیت، تشدد اور بربریت کی قوتوں کے سامنے سب نے سرجھکادیاہے، ملک کی زمین بے قصورافرادکے خون سے رنگی جارہی ہے۔ایسے حالات میں انسانی اور مہذب ملک کے شہری کی حیثیت سے ہماراکیاکردار ہو ،اسکے بارے میں ہمیں سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

مولانا احمد بخاری نے کہا کہ آج سب سے بڑاسوال یہ ہے کہ یہاں انصاف ہوگایاناانصافی ، آزادی یا مساوات ہوگی یاجبر اور تعصب ،ایمانداری اور شرافت رہے گی یا بے ایمانی اوردرندگی، امن وامان ہوگا انہوں نے سوال کیا کہ اس ملک میں وطن پرستی اور حب الوطنی پر صرف ایک فرقے اور طبقے کی اجارہ داری ہوگی یا اس پر تمام فرقوں اورطبقوں کا حق ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو ترقی کی راہ پر لے جانے کے لئے قومی ہم آہنگی اور فرقہ وارانہ خیر سگالی لازم ہے اس لئے اب ملک کے عوام اور حکومت کو اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے کہ ملک کے تمام شہریوں کے ساتھ انصاف اور قانونی بالادستی کس طرح قائم کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ آپ نے اخبارات اور ٹی وی کے ذریعے دیکھاہوگاکہ مدھیہ پردیش کی بھوپال جیل توڑکرفرارہونے والے زیر سماعت آٹھ قیدیوں کاجس طرح انکاؤنٹرہواہے۔اس پر معمولی سوجھ بوجھ والاشخص بھی سوال کھڑا کر سکتا ہے۔ پولس اور انتظامیہ جس بھونڈے طریقے سے اسے تصادم قراردے رہی ہے اس سے ان کے جھوٹ کا پردہ فاش ہواہے۔اس معاملے میں ٹی وی چینلوں پر مسلسل نئے نئے ویڈیوز سامنے آرہے ہیں۔ اس سے عیاں ہورہاہے کہ یہ انکاؤنٹر فرضی ہے۔اور انسانیت کادرد رکھنے والے ہرانسان کے ذہن میں یہی سوال کھڑاہورہاہے کہ انہیں ماراگیاہے۔

لیکن افسوس تویہ ہے کہ سیکولرہندوستان جس کا سارانظام قانون اورآئین پر منحصر ہے۔جب تک عدالت کسی کو مجرم نہ ٹھہرادے ، کسی کو مجرم قرارنہیں دیا جاسکتا۔ یہ آٹھوں قیدی زیر سماعت تھے اور ان کو عدالت نے مجرم قرارنہیں دیا تھا۔ اس کے باوجود ان 8 قیدیوں کو دہشت گردکہاجارہاہے۔اس تشہیر سے پورا ملک شش وپنچ کے عالم میں ہے۔افسوس تواس بات کاہے کہ اس ملک میں ظالم کو ظالم اور ظلم کو ظلم نہیں کہاجاسکتا۔ ایسی صورت میں ظلم اور ظالم کو تقویت ملتی ہے۔
مولانا بخاری نے الزام لگایا کہ آج عدالت وقانون اس بات سے شرمندہ نظر آتا ہے کہ اگرپولس ہی مجرموں کا فیصلہ کرے گی ،توپھر ملک میں عدالتوں کی کیا ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان قیدیوں کے وکیل کاکہناہے کہ ان کے مقدمات اتنے کمزورتھے کہ وہ جلد باعزت رہاہونے والے تھے۔ ایسی باعزت رہائی کو چھوڑکروہ آٹھوں قیدی فرارہونے کی کیوں سوچتے؟
انہوں نے سوال کیا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ 8 نوجوان محض چادرکی رسی کے ذریعے 35-40 فٹ کی جیل کی چہاردیواری پھاند کرفرارہوگئےاورجیل سے باہر آتے ہی نئے لباس اورنئے جوتے پہن کر ایک ساتھ 12 کلو میٹر کاراستہ طے کرلیااورپھر ایسی پہاڑی پرپہنچ گئے جہاں نیچے کی طرف کھائی ہے اورگاؤں والے بھی ہیں اورپھر دیوالی کی روشن رات کو جیل سے فرارہونابھی شک کے دائرے میں ہےاوربھوپال کے پاس 8-9 گھنٹے چھپے رہنابھی عقل سے بعیدہے۔12گھنٹے میں مفررورقیدی آسانی کے ساتھ بھوپال سرحد پارکرسکتے تھے۔لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ یہ آٹھوں مفرور قیدی بھوپال سے تقریباً 15 کلو میٹر کے فاصلے پر اکھٹے موجود تھے جس سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ منصوبہ بند طریقے پر انہیں اس جگہ پر اکھٹا کیا گیا اور پھر فرضی انکاؤنٹر کا ماحول بناکر ان سب کو بے رحمی سے مارا گیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ کہا جارہاہے کہ یہ قیدی بھاگنے کے بعد بڑی واردات کرنے والے تھے اگریہ پولس کومعلوم تھا کہ یہ بڑی واردات انجام دینے والے تھے تویہ بھی معلوم ہوناچاہئے تھاکہ یہ جیل سے فراربھی ہونے والے ہیں۔ کہاگیاہے کہ قیدیوں کے پاس ہتھیار تھے جب کہ اے ٹی ایس کے چیف نے کہاکہ ان کے پاس ہتھیارنہیں تھے۔جیل میں سی سی ٹی وی کیمرے بھی لگے تھے ، مگر وہ کام نہیں کررہے تھے، اتنی اہم جیل میں سی سی ٹی وی کیمروں کا خراب رہنا اس پربڑاسوالیہ نشان لگتاہے۔
مولانا بخاری نے سوال کیا کہ جیل سے فرارہونے کے بعد انہیں کس نے نئے لباس اورنئے جوتے فراہم کئے؟ جب کہ کہایہ جارہاہے کہ ان قیدیوں کو رات میں یہ کہہ کراٹھایا گیا تھا کہ انہیں دوسری جیل میں منتقل کیاجارہاہے ۔ ا س سے اندازہ ہوتا ہے کہ پولس اورجیل حکام نے ہی ان قیدیوں کو نئے لباس اور جوتے پہنائے ۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اترپردیش اسمبلی انتخابات میں اکثریتی ووٹوں کی صف بندی کرنے کے مقصد سے بھوپال انکاونٹر کو انجام دیا گیا تاکہ اکثریتی فرقوں کے ذہن میں یہ بات ڈالی جاسکے کہ مسلم طبقے کے لوگ ملک کے آئین ، قانون اور ملک کے مفادات کو نظر انداز کرتے ہیں ۔ امام بخاری نے بھوپال انکاؤنٹر کے سلسلہ میں ان تمام سوالات کے دوران حکومت سے سپریم کورٹ کے کسی ریٹارئرڈ جج کے ذریعہ اس پورےمعاملے کی تفصیلی انکوائری کرائی جانی چاہئے تاکہ سچائی عوام کے سامنے آسکے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کہا جارہاہے کہ یہ قیدی بھاگنے کے بعد بڑی واردات کرنے والے تھے اگریہ پولس کومعلوم تھا کہ یہ بڑی واردات انجام دینے والے تھے تویہ بھی معلوم ہوناچاہئے تھاکہ یہ جیل سے فراربھی ہونے والے ہیں۔کہاگیاہے کہ قیدیوں کے پاس ہتھیار تھے جب کہ اے ٹی ایس کے چیف نے کہاکہ ان کے پاس ہتھیارنہیں تھے۔جیل میں سی سی ٹی وی کیمرے بھی لگے تھے ، مگر وہ کام نہیں کررہے تھے، اتنی اہم جیل میں سی سی ٹی وی کیمروں کا خراب رہنا اس پربڑاسوالیہ نشان لگتاہے۔
مولانا بخاری نے سوال کیا کہ جیل سے فرارہونے کے بعد انہیں کس نے نئے لباس اورنئے جوتے فراہم کئے؟ جب کہ کہایہ جارہاہے کہ ان قیدیوں کو رات میں یہ کہہ کراٹھایا گیا تھا کہ انہیں دوسری جیل میں منتقل کیاجارہاہے ۔ ا س سے اندازہ ہوتا ہے کہ پولس اورجیل حکام نے ہی ان قیدیوں کو نئے لباس اورجوتے پہنائے ۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اترپردیش اسمبلی انتخابات میں اکثریتی ووٹوں کی صف بندی کرنے کے مقصد سے بھوپال انکاونٹر کو انجام دیا گیا تاکہ اکثریتی فرقوں کے ذہن میں یہ بات ڈالی جاسکے کہ مسلم طبقے کے لوگ ملک کے آئین ، قانون اور ملک کے مفادات کو نظر انداز کرتے ہیں ۔ امام بخاری نے بھوپال انکاؤنٹر کے سلسلہ میں ان تمام سوالات کے دوران حکومت سے سپریم کورٹ کے کسی ریٹارئرڈ جج کے ذریعہ اس پورےمعاملے کی تفصیلی انکوائری کرائی جانی چاہئے تاکہ سچائی عوام کے سامنے آسکے۔
First published: Nov 04, 2016 05:32 PM IST