உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اسد الدین نے ایجاد کی سیاسی سیکولرزم کی نئی اصطلاح، سیکولر پارٹیوں کو بتایا مسلمانوں کیلئے خطرناک

    اسد الدین اویسی نے کہا بھارت کے آئین میں درج سیکولرزم پر میرا مکمل یقین ہے، میں اسے بچانے کی جدو جہد کررہا ہوں مگر عملی سیاست میں نام نہاد سیکولر پارٹیوں کے سیکولرزم سے مجھے اختلاف ہے۔

    اسد الدین اویسی نے کہا بھارت کے آئین میں درج سیکولرزم پر میرا مکمل یقین ہے، میں اسے بچانے کی جدو جہد کررہا ہوں مگر عملی سیاست میں نام نہاد سیکولر پارٹیوں کے سیکولرزم سے مجھے اختلاف ہے۔

    اسد الدین اویسی نے کہا بھارت کے آئین میں درج سیکولرزم پر میرا مکمل یقین ہے، میں اسے بچانے کی جدو جہد کررہا ہوں مگر عملی سیاست میں نام نہاد سیکولر پارٹیوں کے سیکولرزم سے مجھے اختلاف ہے۔

    • Share this:
    اپنے بیانوں اور تنازعات کے لیے مشہور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے ایک بار پھر نئی سیاسی اصطلاح بنائی ہے۔ دہلی میں ایک کتاب کا رسم اجرا کے دوران اسد الدین اویسی نے خطاب کرتے ہوئے سیاسی سیکولرزم کی نئی اصطلاح اور ٹرم ایجاد کی اویسی نے سیکولرزم اور خاص طور سے سے سیاسی سیکولرازم کے خلاف شدید تنقید کرتے ہوئے سیکولر پارٹیوں پر حملہ کیا۔ اویسی نے سیاسی سیکولرزم کو مسلمانوں کے لیے خطرناک بتاتے ہوئے کہاکہ اگر بابری مسجد کی شہادت کے تیس سال بعد بھی کوئی قصور نہیں، یو اے پی اے اور ملک سے بغاوت کے مقدمات میں مسلم قیدیوں کی تعداد زیادہ ہے ، اگر ساٹھ لاکھ بچے کلاس سے باہر ہیں اور ان میں پانچ فیصد مسلمان بچے ہیں تو ملک کی اقلیتوں کو اپنے سلسلے میں فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے انہیں اپنی سیاسی آواز کی ضرورت ہے۔ اسد الدین اویسی نے کہا بھارت کے آئین میں درج سیکولرزم پر میرا مکمل یقین ہے، میں اسے بچانے کی جدو جہد کررہا ہوں مگر عملی سیاست میں نام نہاد سیکولر پارٹیوں کے سیکولرزم سے مجھے اختلاف ہے۔ اسد الدین اویسی نے نام لیے بغیر راہل گاندھی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا جب یہ لوگ ہارتے ہیں تو مولانا بدرالدین اجمل کو قصوروار قرار دیتے ہیں لیکن جب جنوبی ہند میں جاکر جیت حاصل کرتے ہیں جہاں پر مسلمانوں کے تیس سے 35 فیصد ووٹ ہیں تو کوئی سہرا مسلم ووٹروں کو نہیں دیتے۔

    اویسی نے مہاراشٹر میں کانگریس این سی پی اور شیوسینا اتحاد کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا شیوسینا نہ جو مسلمانوں کے آئینی حقوق کی لینا چاہتی ہے اس کے ساتھ حکومت بناتے ہیں اور کہتے ہیں مجلس اتحاد المسلمین بی جے پی کی بی ٹیم ہے۔ اسدالدین اویسی نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کی کارروائی چل رہی ہے اور اس دوران پارلیمنٹ سے کچھ ہی دوری پر مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز نعرے لگائے جاتے ہیں ہیں اور جب ایف آئی آر درج کی جاتی ہے تو نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی جاتی ہے۔ اسد الدین اویسی نے ملک کے مسلمانوں کے تمام مسائل کے لئے سیکولر پارٹیوں کو ذمہ دار قرار دیا کیا انہوں نے کہا ہمیں نرم الفاظ کے علاوہ کچھ نہیں ملا۔ اویسی نے کہا سیکولر پارٹیاں مسلم ووٹروں کے انتشار کی وجہ سے نہیں ہار رہی بلکہ فرقہ پرستی کا زہر سماج میں گھس گیا ہے اس کی وجہ سے ہاررہی ہیں۔

    اسد الدین اویسی نے کہا کہ ہمارے دینی معاملات کے فیصلے بھی اب ایوانوں میں ہورہے ہیں،کھلے عام مسلمانوں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں جنتر منتر پر دی جارہی ہیں اور دہلی پولس تماشہ دیکھ رہی ہے،یہ سیکولرزم نہیں بلکہ فاشزم ہے۔ان خیالات کا اظہار کل ہند مجلس اتحادالمسلمین کے صدر اور حیدرآباد سے ممبر پارلیمنٹ بیرسٹر اسدالدین اویسی نے کل شام کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا میں دہلی مجلس کے صدرکلیم الحفیظ کی کتاب’نشان راہ‘کے اجراء کے موقع پر کیا۔اس پروگرام کا نعقاد انڈین مسلم انٹیلچول فورم نے کیاتھا۔
    اویسی نے کہا کہ مسلمانوں اور پسماندہ طبقات کو سیاسی امپاورمنٹ کی سخت ضرورت ہے۔بغیر سیاسی قوت کے آپ اپنے بنیادی حقوق بھی محفوظ نہیں رکھ سکتے۔انھوں نے سیکولرزم کی ایک نئی تعریف سے شرکاء کو واقف کرایا،انھوں نے کہا کہ ایک سیکولرزم وہ ہے جو بھارت کے آئین میں درج ہے،جس میں ملک کے تمام شہریوں کو ان کے مذہب اور عقیدے کے مطابق بنیادی حقوق دیے گئے ہیں،ہم اس سیکولرزم کی نہ صرف حمایت کرتے ہیں بلکہ اس کو بچانے کا کام کررہے ہیں۔ دوسرا سیکولرزم نام نہادسیکولر پارٹیوں کا عمل ہے۔صدر مجلس نے کہا کہ میں ملک میں شریعت کے نفاذ کا مطالبہ نہیں کررہا ہوں کیوں کہ یہ ملک تمام مذاہب کا احترام کرتا ہے مگر میں اپنے بنیادی حقوق اور دستور میں دیے گئے اختیارات پر عمل کی آزادی کا مطالبہ کررہا ہوں۔انھوں نے اعداد و شمار کی روشنی میں بتایا کہ اس وقت مسلمان انتہائی پسماندہ ہیں،اس سلسلے میں انھوں نے ماضی میں بنائی گئیں کئی سرکاری کمیٹیوں کی رپورٹوں کا حوالہ بھی دیا۔

    شرکاء کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے قائد مجلس نے کہا کہ ہمیں اب کسی کے نفع اور نقصان کے بجائے اپنے نفع اور نقصان پر بات کرنا چاہئے،آزادی کے کے بعد پچھتر سال سے ہم سیکولر پارٹیوں کو ووٹ دیتے آرہے ہیں مگر بدلے میں ہمیں کیا ملا،عرس کے موقع پر مزار کی ایک چادر،رمضان میں ایک کھجور اور اس کے بدلے بھی ہم سے عید پر شیر خرما کی خواہش۔دہلی کی حکومت جس کو مسلمانوں کے 82فیصد ووٹ ملے فساد کے وقت وزیر اعلیٰ اروندکجریوال نے فسادیوں کو روکنے کے بجائے گاندھی سمادھی پر مون برت کا درامہ کیا۔مسلمانوں کو گالیاں دینے والے وزیر بنائے جا رہے ہیں۔ اترپردیش میں بھی سماج وادی انھیں گلے لگارہی ہے، سیکولر پارٹیوں میں موجود مسلم لیڈر وں کا برا حال ہے، ایک قد آور نیتا کو نہ علاج میسر ہوا نہ اپنے گاؤں کی مٹی،کئی نیتاجیلوں میں ہیں ان کی پیروی ان کی پارٹیاں نہیں کررہی ہیں، مجلس کو بھاجپا کی بی ٹیم کہنے والے بتائیں اپنی آبائی سیٹ کیوں ہار گئے، انھیں جیتنے کے لیے بھی وہاں جانا پڑا جہاں 30سے35فیصد مسلم ووٹ ہے۔

    بی جے پی کی جیت کی سب سے بڑی وجہ نام نہاد سیکولر پارٹیوں کے ووٹروں کا کمیونل ہوجانا ہے۔ اویسی نے شرکاء سے کہا کہ اب کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں،ہمیں مسلمانوں،مظلوموں اور پسماندہ طبقات کی حفاظت کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔کام کرنے سے پہلے نتائج کو سوچ کر گھبرانے کے بجائے ہمیں ہمت اور حوصلے سے متحد ہوکر خود کو مضبوط کرنا چاہئے اورنتیجے اللہ پر چھوڑنا چاہئے۔اورنگ آباد سے ممبر آف پارلیمنٹ سید امتیاز جلیل نے کہا کہ سوال یہ نہیں ہے کہ مسلمان بھارت میں زندہ ہیں اور زندہ رہیں گے بلکہ سوال یہ ہے کہ وہ کس طرح زندہ رہیں گے؟ نشان راہ کتاب کے مصنف اور دہلی مجلس کے صدر کلیم الحفیظ نے نقیب ملت کا شکریہ ادا کرتا ہوئے کہا کہ میں نے مجلس کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد اپنا انقلابی سفر شروع کردیا ہے آپ میں سے جو لوگ میرے ساتھ چلنا چاہتے ہیں میں ان کا خیر مقدم کرتا ہوں۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: