ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اتر پردیش: ہاں ہم بی جے پی کی ’بی ٹیم’ ہیں: ایم آئی ایم کے ریاستی صدر کا جواب

بی جے پی کے ساتھ اندورنی سانٹھ گانٹھ کا الزام جھیل رہی اے آئی ایم آئی ایم نے اب اس معاملے میں جارحانہ رخ اختیارکرلیا ہے۔ مجلس اتحاد المسلمین کے ریاستی صدر شوکت علی نے ایم آئی ایم کو بی جے پی کی ’’بی ٹیم‘‘ کہے جانے پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

  • Share this:
اتر پردیش: ہاں ہم بی جے پی کی ’بی ٹیم’ ہیں: ایم آئی ایم کے ریاستی صدر کا جواب
اتر پردیش : ہاں ہم بی جے پی کی ’بی ٹیم’ ہیں: ایم آئی ایم کے ریاستی صدر کا جواب

الہ آباد: بی جے پی کے ساتھ اندورنی سانٹھ گانٹھ کا الزام جھیل رہی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے اب اس معاملے میں جارحانہ رخ اختیار کر لیا ہے۔ مجلس اتحاد المسلمین کے ریاستی صدر شوکت علی نے ایم آئی ایم کو بی جے پی کی ’’بی ٹیم‘‘ کہے جانے پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ شوکت علی نے کہا کہ اگر بی جے پی کو الیکشن میں شکست دینے کے لئے ایم آئی ایم کو ’’بی ٹیم‘‘ بھی بننا پڑے گا، تو ایم آئی ایم اس کے لئے پوری طرح سے تیار ہے۔ شوکت علی نے ایم آئی ایم پراعتراض کرنے والوں سے سوال کیا کہ یوپی میں تمام سیکولر پارٹیاں بی جے پی کو ہرانے کے لئے کوشاں ہیں، ایسے میں کیا ان پارٹیوں کا بھی بی جے پی کی ’’بی ٹیم‘‘ کہا جائے گا؟


شوکت علی نے سیکولر پارٹیوں پر مسلمانوں کے معاملے میں دوہرا معیار اختیار کرنے کا الزام لگایا ہے۔ بہار اسمبلی انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والی مجلس اتحاد المسلمین نے پڑوسی ریاست یوپی کے اسمبلی انتخابات میں اترنے کے لئے ابھی سے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ مجلس اتحاد المسلمین کے ریاستی صدر شوکت علی نے الہ آباد میں ایم آئی ایم کے سرگرم کارکنان کے ایک محدود جلسے کو خطاب کیا۔ اس جلسے میں انہوں نے کارکنان سے انتخابات کے لئے تیار رہنے کو کہا۔ اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے شوکت علی نے کہا کہ بہار کے الیکشن میں ملی کامیابی سے یوپی میں ایم آئی ایم کے کارکنان میں جوش کا ماحول ہے۔ شو کت علی نے مزید کہا کہ یو پی میں ایم آئی ایم جلد ہی بڑی سیاسی کامیابی حاصل کرے گی۔


شوکت علی نے ایم آئی ایم پراعتراض کرنے والوں سے سوال کیا کہ یوپی میں تمام سیکولر پارٹیاں بی جے پی کو ہرانے کے لئے کوشاں ہیں، ایسے میں کیا ان پارٹیوں کا بھی بی جے پی کی ’’بی ٹیم‘‘ کہا جائے گا؟
شوکت علی نے ایم آئی ایم پراعتراض کرنے والوں سے سوال کیا کہ یوپی میں تمام سیکولر پارٹیاں بی جے پی کو ہرانے کے لئے کوشاں ہیں، ایسے میں کیا ان پارٹیوں کا بھی بی جے پی کی ’’بی ٹیم‘‘ کہا جائے گا؟


واضح رہے کہ یوپی میں گذشتہ اسمبلی انتخابات میں مجلس اتحاد المسلمین نے دو سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کئے تھے۔ گرچہ ان دونوں سیٹوں پر ایم آئی ایم کو کامیابی حاصل نہیں  ہوئی تھی۔ تاہم دونوں سیٹوں پر پارٹی نے اچھی تعدا د میں ووٹ حاصل کرکے بڑی سیاسی پارٹیوں کو چونکا دیا تھا۔ شوکت علی کا یہ بھی کہنا ہے کہ پرتاپ گڑھ ضمنی انتخاب میں ایم آئی ایم کے  امید وار نے بھی اچھی پوزیشن حاصل کی تھی ۔ اس کا بھی فائدہ ایم آئی ایم کو آئندہ کے چناؤ میں ملے گا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Nov 16, 2020 10:05 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading