உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ائیر ہوسٹس انیشیا بترا کی موت : دو سال پہلے ہوئی تھی شادی ، اکثر ہوتی تھی شوہر سے لڑائی

    ائیر ہوسٹس کی فائل فوٹو ۔ فیس بک

    ائیر ہوسٹس کی فائل فوٹو ۔ فیس بک

    دہلی کے حوض خاص علاقہ میں 39 سالہ ایئر ہوسٹس انیشیا بترا کی موت کے معاملہ میں اس کے بھائی کرن بترا نے اپنے بہنوئی مینک پر سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔

    • Share this:

      دہلی کے حوض خاص علاقہ میں 39 سالہ ایئر ہوسٹس انیشیا بترا کی موت کے معاملہ میں اس کے بھائی کرن بترا نے اپنے بہنوئی مینک پر سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ اس نے کہا کہ مینک اس کی بہن کے ساتھ مار پیٹ کرتا تھا اور اس کا استحصال کرتا تھا۔ انیشیا کے فیس بک پیج کے مطابق دونوں کی شادی فروری 2016 میں ہوئی تھی ۔
      ان کے پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ انیشیا اور مینک کی اکثر لڑائی ہوتی تھی ۔ انیشیا کی جمعہ کو چھت سے گرنے کی وجہ سے موت ہوگئی تھی ۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ اس نے خود کشی کی ہے یا کسی نے اس کو دھکا دے کر چھت سے گرادیا تھا۔
      انیشیا کے شوہر نے پولیس کو بتایا کہ شام میں تقریبا چار بجے انیشیا کا اس کے پاس ایک میسیج آیا کہ وہ کوئی بڑا قدم اٹھانے جارہی ہے۔ میسیج ملتے ہی وہ چھت پر گیا ، لیکن وہ وہاں سے کود چکی تھی ۔ وہیں مینک اور انیشیا کے گھر کام کرنے والی خاتون کا کہنا ہے کہ دوپہر تقریبا تین بجے اس نے میاں بیوی کو چھت پر بات کرتے ہوئے دیکھا تھا۔
      نیوز 18 سے بات چیت کرتے ہوئے کرن بترا نے بتایا کہ مینک ، اس کے والد راجیندر اور اس کی ماں سشما شروع سے ہی انیشیا کو ٹارچر کرتے تھے۔ بات اتنی بگڑ گئی تھی کہ گزشتہ ماہ انیشیا کے والد میجر آر ایس بترا کو آنا پڑا تھا۔ انہوں نے 27 جون کو حوض خاص تھانہ میں شکایت کی تھی کہ مینک اور اس کے اہل خانہ انیشیا کو ٹارچر کرتے ہیں ۔ شکایت میں یہ بھی لکھا تھا کہ انیشیا کو کچھ بھی ہوا تو وہ تینوں ہی اس کے ذمہ دار ہوں گے۔
      مرنے سے دو گھنٹے پہلے میسیج کرکے مانگی تھی مدد
      کرن نے مزید بتایا کہ واقعہ والے دن دوپہر دو بجے انیشیا نے انہیں مدد کیلئے میسیج بھیجا تھا ۔ اس نے لکھا تھا کہ مینک نے اس کو کمرے میں بند کردیا ہے، اس کے بعد چار بجے فون آیا کہ مینک اس کی زندگی لے رہا ہے۔ اس نے کہا کہ اس کو چھوڑنا نہیں یہ آدمی ہی ذمہ دار ہے میری حالت کا ۔ کرن نے الزام لگایا کہ گھر سے کافی ثبوت مٹادئے گئے ہیں۔ اس نے بتایا کہ مینک نے اپنے سبھی سوشل میڈیا اکاونٹس ڈیلیٹ کردئے ہیں۔

      First published: