உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جینت سنہا کو ہٹائیں اور 2019 تک ایئر انڈیا فروخت نہ کریں: سوامی کا مودی کو مشورہ

    ئی دہلی: سینئر بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی نے ایئر انڈیا کو فروخت  کرنے کے معاملے کو آئندہ  سال تک ملتوی کرنے کا مشورہ دیاہے۔ انہوں نے ٹوئٹ کرکے شہری ایوی ایشن کے وزیر مملکت جینت  سنہا کو ہٹانے کا بھی مطالبہ کیا۔

    ئی دہلی: سینئر بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی نے ایئر انڈیا کو فروخت کرنے کے معاملے کو آئندہ سال تک ملتوی کرنے کا مشورہ دیاہے۔ انہوں نے ٹوئٹ کرکے شہری ایوی ایشن کے وزیر مملکت جینت سنہا کو ہٹانے کا بھی مطالبہ کیا۔

    ئی دہلی: سینئر بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی نے ایئر انڈیا کو فروخت کرنے کے معاملے کو آئندہ سال تک ملتوی کرنے کا مشورہ دیاہے۔ انہوں نے ٹوئٹ کرکے شہری ایوی ایشن کے وزیر مملکت جینت سنہا کو ہٹانے کا بھی مطالبہ کیا۔

    • Share this:
      ئی دہلی: سینئر بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی نے ایئر انڈیا کو فروخت  کرنے کے معاملے کو آئندہ  سال تک ملتوی کرنے کا مشورہ دیاہے۔ انہوں نے ٹوئٹ کرکے شہری ایوی ایشن کے وزیر مملکت جینت  سنہا کو ہٹانے کا بھی مطالبہ کیا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل پیر کو آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے کہا تھا کہ ایئر انڈیا کا کنٹرول اور مینجمنٹ کسی ہندوستانی کمپنی کے ہاتھ میں ہی رہنا چاہئے۔بھاگوت نے حکومت کو خبردار کیا کہ اسے  اپنے آسمان کے کنٹرول اور ملکیت سے محروم نہیں ہونا چاہئے۔
      سبرامنیم سوامی نے کہا "ایئر انڈیا فروخت معاملے پر آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے ذریعہ خبردار کئے جانے کا میں خیر مقدم کرتا ہوں۔پی ایم کو میرا مشورہ ہے کہ 2019 انتخابات کے بعد اس پر غور کریں،اس کے علاوہ جینت سنہا کو بھی ہٹا دیں۔"
      اس سے قبل پیر کو آر ایس ایس   سربراہ موہن بھاگوت نے کہا کہ ایئر انڈیا کو نقصان پہنچایا جاسکتا ہے،اس کی ملکیت اسی ہندوستانی کمپنی کو دی جائے، جو اسے مناسب طریقے سے چلانے کے قابل ہے۔ واضح رہے کہ حکومت نےقرض کے بوجھ سے دبی نیشنل ایئر لائن کو فروخت کئے جانے کا عمل شروع کیاہے۔
      بھاگوت نے حکومت کو خبردار کیا کہ اس کو آسمان کے کنٹرول اور ملکیت سے محروم نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ایئر انڈیا کو چلانے کا منظم اور مناسب طریقہ نہیںاپنایا گیا تھا۔ بھاگوت نے کہا کہ 49 فیصد سے زائد غیر ملکی سرمایہ کاری دنیا میں کہیں بھی قومی ہوائی اڈے میں نہیں ہے،وہ خاص طور پر جرمنی کا ذکر کرتے ہیں، جہاں غیر ملکی شیئر صرف 29 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر غیر ملکی ہولڈنگ 49 فیصد سے زائد ہو تو شیئروں کو ضبط کرکے انہیں گھریلو سرمایہ کاروں کو بیچاجانا چاہئے، جیسا کہ دوسرے ملکوں میں کیاجاتا ہے۔
      First published: