ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

زہریلے اسموگ کی زد میں دلی، ڈاکٹر بولے۔ 'سزائے موت' کے برابر ہے یہاں سانس لینا

صبح سے ہی دارالحکومت دلی میں گھنا کہرا چھایا ہوا ہے اور وزیبیلٹی بھی بہت کم ہے

  • Share this:
زہریلے اسموگ کی زد میں دلی، ڈاکٹر بولے۔ 'سزائے موت' کے برابر ہے یہاں سانس لینا
فائل تصویر

دو دن کی راحت کے بعد پیر کو دہلی ایک بار پھر اسموگ کی کالی چادر سے لپٹ گئی ہے۔ صبح سے ہی دارالحکومت میں گھنا کہرا چھایا ہوا ہے اور وزیبیلٹی بھی بہت کم ہے۔ کئی لوگوں نے سانس لینے میں دقت کی شکایت کی ہے، وہیں کچھ نے آنکھوں میں جلن ہونے کی بات بھی کہی۔ لودھی روڈ علاقے میں پی ایم 2.5 اور پی ایم 10 کا فیصد خراب سطح پر درج کیا گیا ہے۔


کشمیر، ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ کے کئی علاقوں میں ہوئی برفباری کے سبب دارالحکومت میں موسم ٹھنڈا ہو گیا ہے۔ تاہم، ہوا کی کم رفتار کی وجہ سے آلودگی کی سطح بہت بڑھ گئی ہے۔ کشمیر میں بھاری برفباری کی وجہ سے سیب کی فصل کو کافی نقصان پہنچا ہے۔


ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق، بھارت میں ہر سال اسموگ سے 10 لاکھ سے زیادہ لوگوں کی موت ہو جاتی ہے اور دنیا کے کسی بھی بڑے شہر کے مقابلے میں دہلی کی ہوا انتہائی زہریلی ہے۔ ہر سال نومبر میں یہاں اسپتالوں میں سانس لینے میں دقت کی شکایت لے کر کئی مریض پہنچتے ہیں۔ یہاں کے سر گنگارام اسپتال میں پھیپھڑے کی سرجری کرا چکے ایک مریض کے سروائیول پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ڈاکٹر سرینواس کے گوپی ناتھ کہتے ہیں کہ دہلی کی ہوا میں سانس لینا اس کے سزائے موت کے برابر ہے۔

First published: Nov 05, 2018 01:18 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading