உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کانگریس نے آشوتوش کے خلاف کھولا محاذ، راج گھاٹ پر رہنماؤں نے رکھا مون برت

    آشوتوش کے بلاگ سے ناراض دہلی کانگریس کے صدر اجے ماکن اپنے کارکنوں کے ساتھ راج گھاٹ پر مون برت پر بیٹھے ہیں۔

    آشوتوش کے بلاگ سے ناراض دہلی کانگریس کے صدر اجے ماکن اپنے کارکنوں کے ساتھ راج گھاٹ پر مون برت پر بیٹھے ہیں۔

    آشوتوش کے بلاگ سے ناراض دہلی کانگریس کے صدر اجے ماکن اپنے کارکنوں کے ساتھ راج گھاٹ پر مون برت پر بیٹھے ہیں۔

    • IBN Khabar
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی۔ عام آدمی پارٹی کے لیڈر آشوتوش کے خلاف کانگریس نے مورچہ کھول دیا ہے۔ آشوتوش کے بلاگ سے ناراض دہلی کانگریس کے صدر اجے ماکن اپنے کارکنوں کے ساتھ راج گھاٹ پر مون برت پر بیٹھے ہیں۔ بتا دیں کہ آشوتوش نے سندیپ کمار کے دفاع میں بلاگ لکھا تھا جس میں انہوں نے مہاتما گاندھی اور پنڈت نہرو پر تبصرے کئے تھے۔

      مون برت کے ذریعے کانگریس کارکنان اور رہنما مہاتما گاندھی کی سمادھی پر دعا کریں گے کہ خدا عام آدمی پارٹی، اروند کیجریوال اور آشوتوش کو عقل دے۔

      آشوتوش نے اپنے بلاگ میں لکھا ہے کہ اگر سندیپ نے کسی دوسری خاتون کے ساتھ اس کی رضامندی سے تعلقات قائم کئے ہیں ، تو اس میں غلط کیا ہے۔ انهوں نے کوئی زور زبردستی نہیں کی ہے اور نہ ہی اس خاتون نے سندیپ کے خاندان کے کسی رکن یا پولیس سے اس کی شکایت کی۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ سندیپ نے کسی کام کے بدلے میں عورت پر ایسا کرنے کا دباؤ ڈالا ہو۔ جب ایسی کوئی بات نہیں ہے اور تعلقات اتفاق رائے سےقائم ہوئے ہیں ، تو پھر سندیپ کے کردار پر سوالات کیوں اٹھائے جا رہے ہیں۔ ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں ایسی مثالیں بھری پڑی ہیں ، جن میں کئی جانی مانی ہستیوں کے دیگر خواتین سے مبینہ تعلق رہے یا پھر وہ ان کی طرف متوجہ ہوئے۔




      عام آدمی پارٹی لیڈر نے اس سلسلے میں مسٹر نہرو اور ایڈوینا ماؤنٹ بیٹن اور گاندھی جی اور رویندر ناتھ ٹیگور کے دور کی رشتہ دار سرلا چودھري کے درمیان رشتوں کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نےنهروجي اور ایڈوینا کے درمیان گہرے لگاؤ ​​کے چرچے ان دنوں عام تھے، ساری دنیا اس سے واقف تھی۔ ایڈوینا کے علاوہ بھی نہرو جی کے اپنی کئی ساتھی خواتین کے ساتھ تعلقات کی خوب خبریں چلا کرتی تھیں، تب تو کسی نے اس پر سوال نہیں اٹھایا۔ نہ ہی ان رشتوں کی وجہ سے ان کا سیاسی کیریئر متاثر ہوا۔ انهوں نے کہا کہ گاندھی جی کے سرلا چودھری کے ساتھ تعلقات سے ان کی بیوی کستوربا بہت پریشان رہتی تھیں۔ مسٹر آشوتوش نے کہا کہ مسٹر واجپئی کے بھی ایک عورت کے ساتھ تعلقات کے چرچے ہیں۔


       
      First published: