اپنا ضلع منتخب کریں۔

    وزیراعظم مودی نے خواجہ معین چشتی کے عرس پر پیش کی جانے والی چادر سونپی

    وزیراعظم مودی نے خواجہ معین چشتی کے عرس پر پیش کی جانے والی چادر سونپی۔ تصویر : وزیر اعظم مودی ٹویٹر اکاونٹ ۔

    وزیراعظم مودی نے خواجہ معین چشتی کے عرس پر پیش کی جانے والی چادر سونپی۔ تصویر : وزیر اعظم مودی ٹویٹر اکاونٹ ۔

    PM Narendra Modi: وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو حضرت خواجہ معین الدین چشتی کے عرس پر چڑھائی جانے والی چادر سونپی۔ انہوں نے خود ٹویٹ کرکے اس کی جانکاری دی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi | New Delhi
    • Share this:
      نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو حضرت خواجہ معین الدین چشتی کے عرس پر چڑھائی جانے والی چادر سونپی۔ انہوں نے خود ٹویٹ کرکے اس کی جانکاری دی۔ وزیراعظم مودی نے ٹویٹ کیا کہ اجمیر شریف درگاہ پر حضرت خواجہ معین الدین چشتی کے عرس پر پیش کی جانے والی چادر سونپی۔ اس دوران مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی بھی موجود تھیں۔ وزیراعظم مودی ہر سال عرس کے موقع پر اجمیر شریف کی درگاہ پر چادر پیش کرتے ہیں۔ یہ نواں موقع ہے جب وزیر اعظم نے اجمیر شریف درگاہ کیلئے چادر بھیجی ہے۔


      خیال رہے کہ حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی کا 811 واں عرس مبارک راجستھان کے شہر اجمیر میں شروع ہو گیا ہے۔ عرس کے موقع پر لاکھوں کا ہجوم اجمیر پہنچتا ہے۔ عرس کے دوران ملک بھر سے لاکھوں عقیدت مند اجمیر شریف درگاہ پر پہنچ کر چادر اور عقیدت کے پھول چڑھاتے ہیں۔

      صوفی بزرگ حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی کے 811 ویں سالانہ عرس کی شاہی تقریبات کا آغاز گزشتہ رات ہوا۔ درگاہ دیوان سید جینوال عابدین علی خان نے شاہی دربار سے آراستہ اجتماع کی صدارت کی۔ محفل کی شان، پاکیزگی اور روایت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ محفل کے دوران ملک کی مختلف درگاہوں کے سجادہ نشین، زائرین خواجہ اور خادم سب بیٹھ کر صوفیائے کرام کے ملے جلے ورثے اور قدیم ثقافت کو آگے بڑھاتے ہیں۔قوال نے فارسی اور برج بھاشا کے کلام پیش کیے۔

      یہ بھی پڑھئے: پہلی محفل کے بعد عرس کا ہوا آغاز، شاہی قوالوں نے صوفیانہ کلام پیش کیا


      یہ بھی پڑھئے: خواجہ اجمیری کی درگاہ پر بالی ووڈ کی جانب سے پیش کی گئی چادر،اداکارہ سونیا شرما تھیں موجود


      علاوہ ازیں دیوان صاحب کی اجازت کے بعد کیوڑا سے تیار کردہ خصوصی چائے سب سے پہلے دیوان صاحب اور ان کے اہل خانہ کو محفل میں پیش کی گئی۔ اس کے بعد محفل میں موجود والہانہ محبت خواجہ کو پیش کی گئی۔ قوالی کے ساتھ چائے کا یہ دور تقریباً آدھا گھنٹہ چلتا رہا۔ چوبدار آخری چوکی کا کلام پڑھنے سے پہلے دوبارہ حاضر ہوا۔

      اجتماع کے اختتام پر دسترخوان بچھانے کی اجازت ملنے پر دسترخوان پر شربت، پان اور صندل رکھ دی گئی۔ آخری کلام کے بعد فاتحہ دوبارہ پڑھی جاتی ہے۔ آخر میں قوالوں نے کڑکا سنایا اور پہلی محفل اپنے اختتام کو پہنچی۔پہلی محفل کے بعد عرس کا ہوا آغاز، شاہی قوالوں نے صوفیانہ کلام پیش کیا
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: