ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

شاہین باغ کےمظاہرین کو اکھاڑا پریشد نےدی دھمکی

سادھو سنتوں کو خطاب کرتے ہوئےاکھاڑا پریشد کےصدرمہنت نریندرگری نے یہ بھی کہا ہےکہ اگرشہریت قانون کی مخالف نہیں بند کی گئی تو اس کےنتائج ملک کےلئے بہتر نہیں ہوں گے۔

  • Share this:
شاہین باغ کےمظاہرین کو اکھاڑا پریشد نےدی دھمکی
شاہین باغ کے مظاہرین کو اکھاڑا پریشد نےدی دھمکی

الہ آباد: شہریت ترمیمی قانون مخالف تحریک میں شامل افراد کو اکھاڑا پریشد نے کھلی دھمکی دی ہے۔ اکھاڑا پریشد نےکہا ہےکہ اگر شاہین باغ کا احتجاجی دھرنا ختم نہیں کیا گیا تو سادھو سنت اس حتجاج کو ازخود ختم کردیں گے۔ الہ آباد میں 'اچلا سپتمی مہوتسو' کے موقع پرہو نے والے اکھاڑا پریشد کے دو روزہ قومی اجلاس میں شہریت قانون کےنفاذ پر مرکزی حکومت کی پر زورحمایت کی گئی۔ اجلاس میں سادھو سنتوں نے اتفاق رائے سے ایک قرار داد بھی منظورکی، جس میں مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہےکہ شاہین باغ احتجاجی دھرنے میں شامل افراد کے خلاف ملک سے غداری کا مقدمہ درج کیا جائے اور ان کو جیلوں میں بند کیا جائے۔


شہریت ترمیمی قانون مخالف تحریک میں شامل افراد کو اکھاڑا پریشد کےصدرمہنت نریندرگری نے کھلی دھمکی دی ہے۔
شہریت ترمیمی قانون مخالف تحریک میں شامل افراد کو اکھاڑا پریشد کےصدرمہنت نریندرگری نے کھلی دھمکی دی ہے۔


سادھو سنتوں کو خطاب کرتے ہوئےاکھاڑا پریشد کےصدرمہنت نریندرگری نے یہ بھی کہا ہےکہ اگرشہریت قانون کی مخالف نہیں بند کی گئی تو اس کےنتائج ملک کےلئے بہتر نہیں ہوں گے۔ اپنے دو روزہ اجلاس میں اکھاڑا پریشد نے حکومت پر زوردیا ہےکہ وہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف چلائی جا رہی تحریک سے سختی کےساتھ پیش آئے۔ اجلاس میں اس بات پربھی اتفاق کیا گیا کہ ہندو سماج میں بھی شہریت قانون اور این آرسی کےتعلق سےجو شک و شبہات پائےجا رہےہیں۔ ان کو دورکرنےکی ضرورت ہے۔


سادھو سنتوں کو خطاب کرتے ہوئےاکھاڑا پریشد کےصدرمہنت نریندرگری نے یہ بھی کہا ہےکہ اگرشہریت قانون کی مخالف نہیں بند کی گئی تو اس کےنتائج ملک کےلئے بہتر نہیں ہوں گے۔
سادھو سنتوں کو خطاب کرتے ہوئےاکھاڑا پریشد کےصدرمہنت نریندرگری نے یہ بھی کہا ہےکہ اگرشہریت قانون کی مخالف نہیں بند کی گئی تو اس کےنتائج ملک کےلئے بہتر نہیں ہوں گے۔


اکھاڑا پریشد نے اس کےلئےہندو سماج میں بیداری مہم چلانےکا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اسی کے ساتھ اکھاڑا پریشد نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہےکہ وہ بیسک پرائمری اسکولوں میں سنسکرت زبان کی تدریس کو یقینی بنائے۔ اکھاڑا پریشد نے یہ بھی مطالبہ کیا ہےکہ ریاست کے جن سر کاری اسکولوں میں سنسکرت ٹیچرس کا بندو بست نہیں ہے ان اسکولوں میں سنسکرت ٹیچروں کی تقرری کی جائے۔ اکھاڑا پریشد نے اتر پردیش میں ہندی کے ساتھ ساتھ سنسکرت زبان کو بنیادی تعلیم میں لازمی قرار دینےکے اپنے دیرینہ مطالبےکا بھی اعادہ کیا۔
First published: Feb 02, 2020 11:08 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading