ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

بہوجن سماج پارٹی کے ساتھ اتحاد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا: اکھیلیش

نئی دہلی۔ اتر پردیش کے وزیر اعلی اکھیلیش یادو نے ریاست میں 2017 میں ہونے والے آئندہ اسمبلی انتخابات میں بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے ساتھ اتحاد کے کسی بھی امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی گٹھ بندھن کے بارے میں سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے سربراہ ملائم سنگھ یادو کو ہی فیصلہ کرنا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Nov 17, 2015 08:59 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
بہوجن سماج پارٹی کے ساتھ اتحاد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا: اکھیلیش
نئی دہلی۔ اتر پردیش کے وزیر اعلی اکھیلیش یادو نے ریاست میں 2017 میں ہونے والے آئندہ اسمبلی انتخابات میں بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے ساتھ اتحاد کے کسی بھی امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی گٹھ بندھن کے بارے میں سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے سربراہ ملائم سنگھ یادو کو ہی فیصلہ کرنا ہے۔

نئی دہلی۔  اتر پردیش کے وزیر اعلی اکھیلیش یادو نے ریاست میں 2017 میں ہونے والے آئندہ اسمبلی انتخابات میں بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے ساتھ اتحاد کے کسی بھی امکان کو مسترد کرتے ہوئے  کہا کہ کسی گٹھ بندھن کے بارے میں سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے سربراہ ملائم سنگھ یادو کو ہی فیصلہ کرنا ہے۔


مسٹر اکھیلیش یادو نے یہاں پرگتی میدان میں منعقدہ بین الاقوامی تجارتی میلے میں اتر پردیش کے پویلین کا افتتاح کرنے کے بعد نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہار اسمبلی کے طرز پر اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے لئے بھی مهاگٹھ بندھن بنایا جائے گا یا نہیں، اس بارے میں ایس پی کے سربراہ کو ہی فیصلہ کرنا ہے۔ انہیں ریاست کی ترقی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اور وہ اپنے کام پر توجہ دے رہے ہیں اور وہ ریاست میں ترقیاتی منصوبوں کو تیزی سے اور مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔


وزیر اعلی نے کہا کہ ایس پی کے ساتھ بی ایس پی کا اتحاد تو نہیں ہو سکتا لیکن ان کی پارٹی اس بات کا امکان دیکھ رہی ہے کہ اتر پردیش میں ترقیاتی کاموں کے سبب بدلے ہوئے منظرنامے میں بی جے پی -بی ایس پی کا اتحاد ہو سکتا ہے۔ بہار میں راشٹریہ جنتا دل اور جنتا دل یونائیٹڈ اور کانگریس کے مهاگٹھ بندھن پر انہوں نے کہا کہ بہار میں دو اہم سیاسی پارٹیون کے درمیان رشتے کا معاملہ الگ ہے اور اتر پردیش میں صورتحال اس سے مختلف ہے۔ ان حالات میں گٹھ بندھن ہو گا یا نہیں یہ نیتا جی یعنی مسٹر ملائم سنگھ یادو کو ہی طے کرنا ہے۔

First published: Nov 17, 2015 08:58 AM IST