உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اکھلیش یادو کی سختی پر نرم پڑے کئی بغاوتی تیور، اپوزیشن نے بتايا انتخابی داو

    لکھنؤ۔ اتر پردیش کے وزیر اعلی اکھلیش یادو نے سیتاپور ضلع کے بسواں سے سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے ممبر اسمبلی رام پال یادو کے خلاف یوں ہی سخت رخ اختیار نہیں کیا ہے۔

    لکھنؤ۔ اتر پردیش کے وزیر اعلی اکھلیش یادو نے سیتاپور ضلع کے بسواں سے سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے ممبر اسمبلی رام پال یادو کے خلاف یوں ہی سخت رخ اختیار نہیں کیا ہے۔

    لکھنؤ۔ اتر پردیش کے وزیر اعلی اکھلیش یادو نے سیتاپور ضلع کے بسواں سے سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے ممبر اسمبلی رام پال یادو کے خلاف یوں ہی سخت رخ اختیار نہیں کیا ہے۔

    • Share this:
      لکھنؤ۔ اتر پردیش کے وزیر اعلی اکھلیش یادو نے سیتاپور ضلع کے بسواں سے سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے ممبر اسمبلی رام پال یادو کے خلاف یوں ہی سخت رخ اختیار نہیں کیا ہے، بلکہ اس اقدام سے ایک طرف جہاں قانون وانتظام  پر سمجھوتہ نہ کرنے کا پیغام دیا ہے، وہیں رام پال کے بہانے انہوں نے دیگر ممبران اسمبلی کو بھی سدھر جانے کا اشارہ دے دیا ہے۔ ایس پی ذرائع اور کچھ ممبران اسمبلی کی مانیں تو کئی ایسے رکن اسمبلی ہیں جو اسمبلی انتخابات سے پہلے بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رابطے میں ہیں۔ یہ ممبران اسمبلی کبھی بھی اپوزیشن جماعتوں کا دامن تھام سکتے ہیں۔ ایسے ممبران اسمبلی کی تعداد تقریباً دو درجن ہے۔

      خفیہ محکمہ کی جانب سے وزیر اعلی کو بھیجی گئی رپورٹ کے مطابق ہی رام پال کے خلاف سخت کارروائی کی گئی۔ پارٹی سے بغاوت کرنے کی سوچ رہے ان اراکین اسمبلی کو یہ پیغام بھی دے دیا گیا کہ اگر ایس پی کے تئیں وفاداری نہیں ادا کی تو ان کا بھی یہی حشر ہو گا جو رام پال کا ہوا ہے۔ یعنی بغاوت کرنے کے بعد اراکین اسمبلی کی غیر قانونی املاک کو نشانہ بنا کر ان کا اثرو رسوخ ختم کر دیا جائے گا۔

      سماج وادی پارٹی کے ہی ایک رکن اسمبلی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ معلومات دی۔ انہوں نے بتایا کہ ممبر اسمبلی رام پال نے ایل ڈی اے کے حکام کے ساتھ بدتمیزی کی تھی۔ لیکن گزشتہ چند سالوں کے واقعات پر غور کریں تو ایسے کئی معاملے سامنے آئے ہیں، جب ممبر اسمبلی سيدھےطور پر پولیس اور حکومت کے لئے چیلنج بنے ہیں۔ تب ایسا قدم نہیں اٹھایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ انتخابات قریب آتے ہی خفیہ محکمہ کے حکام کو ایسے ممبران اسمبلی کی حرکتوں پر نظر رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے، جو پارٹی چھوڑنے کا ذہن بنا رہے ہیں۔

      ممبر اسمبلی کے اس دعوے سے الگ حکومت عوام کے درمیان یہ پیغام دینے کی کوشش میں مصروف ہے کہ حکومت قانون وانتظام کی صورت حال پر کوئی سمجھوتہ کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی کی حکومت بننے کے ساتھ ہی اپوزیشن پارٹی ہمیشہ سے ہی حکومت پر قانون وانتظام کے معاملے پر ناکام ہونے کا الزام لگاتی رہی ہے، لیکن حکومت کے نمائندے اس دعوے کو ہمیشہ ہی مسترد کرتے آئے ہیں۔

      سماج وادی پارٹی کے ریاستی ترجمان راجندر چودھری نے کہا کہ وزیر اعلی اکھلیش یادو نے سماجوادی حکومت کی حلف برداری کے دن ہی یہ واضح کر دیا تھا کہ ریاست میں صرف قانون کا راج چلے گا اور کسی کو امن و امان کے ساتھ كھلواڑ نہیں کرنے دیا جائے گا۔ چودھری کے مطابق، ایس پی سربراہ ملائم سنگھ یادو نے جس پالیسی کے تحت ایس پی کا قیام کیا ہے، اس کے خلاف طرز عمل درست نہیں ہوگا۔ ایس پی حکومت میں اقتدار کا کوئی غلط استعمال نہیں کر سکتا۔ اگر کوئی غیر قانونی کاموں میں ملوث پایا جائے گا تو اس کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔
      First published: