ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ٹوٹ گئی سماجوادی پارٹی ، اکھلیش نے جاری کی 235 امیدواروں کی فہرست، الگ انتخابی نشان پر لڑیں گے الیکشن

اسمبلی انتخابات سے عین قبل ایک مرتبہ پھر سماج وادی پارٹی میں رسہ کشی اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے ۔ ایس پی لیڈروں کے درمیان صبح سے ہی میراتھن میٹنگوں کا سلسلہ جاری ہے ۔

  • Pradesh18
  • Last Updated: Dec 29, 2016 10:34 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
ٹوٹ گئی سماجوادی پارٹی ، اکھلیش نے جاری کی 235 امیدواروں کی فہرست، الگ انتخابی نشان پر لڑیں گے الیکشن
اسمبلی انتخابات سے عین قبل ایک مرتبہ پھر سماج وادی پارٹی میں رسہ کشی اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے ۔ ایس پی لیڈروں کے درمیان صبح سے ہی میراتھن میٹنگوں کا سلسلہ جاری ہے ۔

لکھنو : سیاست کے اعتبار سے ملک کی سب سے اہم ریاست اترپردیش میں حکمراں سماج وادی پارٹی ایک بار پھر ٹوٹنے کی کگار پرکھڑی ہے۔ اپنے وفاداروں کے ٹکٹ کٹنے سے ناراض اکھلیش نے 235 امیدواروں کی اپنی فہرست جاری کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ امیدوار بطور آزاد امیدوار الگ الگ انتخابی نشان پر الیکشن لڑ سکتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یوپی میں کل 403 اسمبلی سیٹیں ہیں ، جن میں سے 325 سیٹوں کے لئے بدھ کو ایس پی امیدواروں کی فہرست جاری ہوئی۔ اس کا اعلان خود ایس پی سپریمو ملائم سنگھ یادو نے کیا۔ اس کے ایک دن بعد ہی اکھلیش نے 'اپنی لسٹ جاری کر دی۔

حالیہ واقعات سے سماجوادی پارٹی کے ساتھ ساتھ ملائم کنبہ بھی ایک بار پھر دو گروپوں میں تقسیم ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ ایک طرف اکھلیش یادو اور ان کے حامی لیڈران ہیں ، تو دوسری طرف ان کے چچا شوپال یادو۔ اکھلیش کو جہاں رام گوپال یادو کا ساتھ ہے ، تو پارٹی سربراہ ملائم سنگھ یادو اپنے بھائی شیو پال کے ساتھ ہیں۔ پچھلی مرتبہ بھی پارٹی دو حصوں میں منقسم ہوتے ہوتے بچی تھی، لیکن کچھ وقفہ کی 'جنگ بندی کے بعد دونوں خیمے ایک بار پھر آمنے سامنے ہیں۔

تاہم پارٹی کے بڑے لیڈر عوامی طور پر اندرونی گھمسان ​​کو ظاہر نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ رام گوپال یادو نے جہاں پارٹی میں کسی بھی طرح کے گھمسان ​​کی تردید کی ہے، دوسری طرف انہوں نے الزام لگایا ہے کہ پارٹی کے کچھ لوگ اکھلیش کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی میں کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ اکھلیش دوبارہ وزیر اعلی بنیں۔

First published: Dec 29, 2016 06:21 PM IST