உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ای وی ایم میں گڑ بڑی صرف اپوزیشن امیدوار کے اثر والے علاقوں میں کیوں ہوئی؟ اکھلیش یادو

    اکھلیش یادو۔ فائل فوٹو

    اکھلیش یادو۔ فائل فوٹو

    لکھنؤ۔ کیرانہ لوک سبھا اور نورپور اسمبلی انتخابات میں اترپردیش کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جےپی ) حکومت پر سازش رچنے کا الزام لگاتے ہوئے سماج وادی پارٹی (ایس پی) صدر اکھلیش یادو نے مستقبل میں ہونے والے عام انتخابات میں روایتی بیلٹ پیپر کے استعمال کی وکالت کی ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      لکھنؤ۔ کیرانہ لوک سبھا اور نورپور اسمبلی انتخابات میں اترپردیش کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جےپی ) حکومت پر سازش رچنے کا الزام لگاتے ہوئے سماج وادی پارٹی (ایس پی) صدر اکھلیش یادو نے مستقبل میں ہونے والے عام انتخابات میں روایتی بیلٹ پیپر کے استعمال کی وکالت کی ہے ۔ سابق وزیر اعظم چودھری چرن سنگھ کی برسی کےموقع پر انھیں خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد ایس پی صدر نے آج یہاں صحافیوں سے کہا ،’’کیرانہ اور نورپور ضمنی انتخابات کے دوران ای وی ایم نے ہمارے الزام کی تصدیق کردی ہے ۔ہم سبھی پارٹیوں سے دوخواست کرتے ہیں کہ وہ ساتھ آئیں اور بیلٹ پیپر سے اگلا انتخاب کرانے کے لئے الیکشن کمیشن پر دباؤ ڈالیں ۔‘‘


       یادونے کہا کہ وہ جلد ہی ای وی ایم کی ناکامی کی وجہ سے اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں سے ملیں گے ۔ بی جےپی کو نشانہ بناتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وزیراعظم کے روڈشو اور وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے ہری دوار میں گنگا اسنان کے بعد حکمراں پارٹی نے کیرانہ اور نورپور میں ای وی ایم کے ذریعہ ناپاک سازش رچی ۔ ای وی ایم میں گڑبڑی کے تعلق سے بی جے پی کے ذریعہ اعتراض ظاہر کرنے پر  یادو نے کہا کہ بی جے پی لیڈروں کو یہ بھی واضح کرنا چاہئے کہ ای وی ایم میں گڑ بڑی صرف متحدہ اپوزیشن کے امیدوار کے اثر والے علاقوں میں کیوں ہوئی جبکہ دیگر جگہوں پر ای وی ایم کسی روک ٹوک کے بغیر کام کرتی رہی ۔ انھوں نے کہا کہ کیرانہ اور نورپور میں پھر پولنگ ہوگی لیکن یہ سوال ضرورہوگا کہ آیا گرمی کی وجہ سے ای وی ایم میں خرابی آ سکتی ہے ۔انھوں نے کہا کہ کوئی یقین کر سکتا ہے کہ صرف اپوزیشن کے اثر والے علاقوں میں گرمی کی وجہ سے ای وی ایم خراب ہوئی ۔


      ایس پی صدرنے واضح کیا کہ سیٹوں کی تقسیم نہ ہونے کے باوجود بی ایس پی کے ساتھ اتحاد میں کوئی تنازعہ نہیں ہے ۔اگلا لوک سبھا انتخاب ایس پی اور بی ایس پی سمیت دیگر اپوزیشن پارٹیوں کا اتحاد لڑے گا۔ بی ایس پی کی صدر مایاوتی کے اس بیان پر کہ باعزت سیٹ ملنے پر ہی اتحاد ممکن ہے ،انھوں نے کہا کہ ’’ہم سبھی پارٹیوں اور انکے لیڈروں کا احترام کرتے ہیں ۔‘‘ سرکاری بنگلہ خالی کرنے کے سپریم کورٹ کے حکم کے بارے میں اکھلیش یادونے کہا کہ انکے پاس لکھنؤ میں کوئی گھر نہیں ہے ۔انھیں اس کے لئے کچھ مہلت چاہئے ۔وزیر اعلی کی رہائش گاہ کے نزدیک انکا ایک مکان زیر تعمیر ہے ۔

      First published: