உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اخلاق کے بھائی نے بیان کیا اپنا درد ، کہا : ہم نہیں ہیں محفوظ ، چھوڑ دیں گے گاؤں

    لکھنؤ : اتردیش کے دادری میں گائے کے گوشت کی افواہ کے بعد مشتعل بھیڑ کے ذریعہ قتل کئے گئے 50 سالہ اخلاق کے بھائی افضال نے اپنا درد بیان کرتے ہوئے کہا کہ اب ہمارا کنبہ گاوں میں محفوظ نہیں ہے

    لکھنؤ : اتردیش کے دادری میں گائے کے گوشت کی افواہ کے بعد مشتعل بھیڑ کے ذریعہ قتل کئے گئے 50 سالہ اخلاق کے بھائی افضال نے اپنا درد بیان کرتے ہوئے کہا کہ اب ہمارا کنبہ گاوں میں محفوظ نہیں ہے

    لکھنؤ : اتردیش کے دادری میں گائے کے گوشت کی افواہ کے بعد مشتعل بھیڑ کے ذریعہ قتل کئے گئے 50 سالہ اخلاق کے بھائی افضال نے اپنا درد بیان کرتے ہوئے کہا کہ اب ہمارا کنبہ گاوں میں محفوظ نہیں ہے

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:

      لکھنؤ : اتردیش کے دادری میں گائے کے گوشت کی افواہ کے بعد مشتعل بھیڑ کے ذریعہ قتل کئے گئے 50 سالہ اخلاق کے بھائی افضال نے اپنا درد بیان کرتے ہوئے کہا کہ اب ہمارا کنبہ گاوں میں محفوظ نہیں ہے اور مجبورا ہمیں گاوں چھوڑنا پڑے گا۔ ریاست کے وزیر اعلی اکھلیش یادو سے ان کی سرکاری رہائش گاہ پر ملاقات کرنے کے بعد ای ٹی وی سے خصوصی بات چیت میں مقتول اخلاق کے بڑے بھائی افضال نے کہا کہ وزیر اعلی کی یقین دہانی سے ہمارا کنبہ بہت خوش ہے۔


      افضال نے کہا کہ مصیبت کے وقت میں وزیر اعلی ہمارے ساتھ ہیں مگر ہمیں مجبوری میں گاؤں چھوڑنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ گاؤں میں خود کو محفوظ محسوس نہیں کر رہے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ حکومت ساتھ دیتی رہے گی تو ایسا واقعہ مستقبل میں کبھی پیش نہیں آئے گا ۔


      افضال نے اپنے بھائی اخلاق پر لگے الزامات کی تردید کی اور کہا کہ میرے بھائی کا قتل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی ماں کے سامنے بیٹے کو قتل کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔ گاؤں چھوڑنا ہماری مجبوری ہے اور دل ایسا نہیں چاہتا، مگر ہم گاؤں چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں نے لاٹھی ڈنڈے اور تلواروں سے ان کے بھائی کو مار ڈالا۔ گاؤں کے لوگ مجھے یاد آتے رہیں گے۔


      اس موقع ایم ایل سی آشو ملک نے اخلاق کے قتل کو انتہائی المناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی نفرت کی اس سیاست سے فکر مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ نوجوانوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ سماجوادی پارٹی متاثرہ خاندان کی ہر ممکن مدد کرے گی۔ خاندان بہت صدمے میں ہے اور اس پر قابو پانے میں وقت لگے گا۔ ساتھ ہی ملک نے اس بات کی بھی یقین دہانی کرائی کہ اگر خاندان گاؤں میں رہنا چاہتا تو اسے مکمل سیکورٹی مہیا کرائی جائے گی۔

      First published: